Surah Al Baqarah Ayat 49 (2:49)
The Cow · Juz 1 · Madani
وَ اِذْ نَجَّیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْؕ-وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ 49
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور (یاد کرو)جب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی جو تمہیں بہت برا عذاب دیتے تھے، تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ چھوڑ دیتے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یاد کروجب ہم نے تم کو فرعون والوں سے نجات بخشی کہ تم پر بُرا عذاب کرتے تھے تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی بلا تھی یا بڑا انعام۔
Tafseer (Urdu)
{و اذ نجینكم من ال فرعون: اورجب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی۔} اس سے پہلی ایات میں بنی اسرائیل پر کی گئی نعمتوں کا اجمالی طور پر ذکر ہوا اور اب یہاں سے ان نعمتوں کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہےچنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے بنی اسرائیل! میری وہ نعمت یاد کرو کہ جب ہم نے تمہیں فرعون کی پیروی کرنے والوں سے نجات دی جو تمہیں بہت برا عذاب دیتے تھے۔ فرعون نے بنی اسرائیل پر نہایت بے دردی سے محنت و مشقت کے دشوار کام لازم کر رکھے تھے پتھروں کی چٹانیں کاٹ کر ڈھوتے ڈھوتے ان کی کمریں اورگردنیں زخمی ہوگئی تھیں غریبوں پر ٹیکس مقرر کئے ہوئے تھے جو غروب آفتاب سے قبل جبراوصول کئے جاتے تھے اورجوٹیکس نہ دے پاتا اسے سخت سزائیں ملتی تھیں۔(تفسیر کبیر البقرۃ تحت الایۃ: ۴۹ ۱ / ۵۰۴-۵۰۵) اس فرعونیت کا کچھ نمونہ ان مسلمان ممالک میں دیکھا جاسکتا ہے جہاں کفار نے پنجے گاڑ کر مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں اور مسلمانوں کیلئے عقو بت خانے اورخصوصی جیلیں بنارکھی ہیں۔ فرعون کا مختصر تعارف: جس طرح فارس کے بادشاہ کا لقب کسریروم کے بادشاہ کا قیصر اور حبشہ کے بادشاہ کا لقب نجاشی تھا اسی طرح قبطی اور عمالقہ قوم سے تعلق رکھنے والے مصر کے بادشاہوں کا لقب فرعون ہوتا تھا۔حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کے فرعون کا نام ولید بن مصعب بن ریان تھا اور اس ایت میں اسی کا ذکر ہے۔اس کی عمر چار سو سال سے زیادہ ہوئی نیز اس ایت میں آل فرعون سے اس کے پیروکار مراد ہیں۔ {یذبحون ابنآءكم:وہ تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے۔} فرعون نے خواب دیکھا کہ بیت المقدس کی طرف سے ایک آگ آئی اوراس نے مصر کو گھیر کر تمام قبطیوں کو جلا ڈالا جبکہ بنی اسرائیل کوکوئی نقصان نہیں ہوا۔ اس خواب سے اسے بڑی وحشت ہوئی کاہنوں نے تعبیر دی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیری ہلاکت اور تیری سلطنت کی تباہی کا سبب بنے گا۔ یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہواسے قتل کردیا جائے۔(روح البیان البقرۃ تحت الایۃ: ۴۹ ۱ / ۱۲۹) یوں ہزاروں کی تعداد میں بچے قتل کئے گئے۔ قدرت الہی سے اس قوم کے بوڑھے جلد مرنے لگے تو قبطی سرداروں نے گھبرا کر فرعون سے شکایت کی کہ ایک طرف بنی اسرائیل میں موت کی کثرت ہوگئی ہے اور دوسری طرف ان کے بچے بھی قتل کئے جا رہے ہیں اگر یہی صورت حال رہی تو ہمیں خدمتگار کہاں سے ملیں گےاس پر فرعون نے حکم دیا کہ ایک سال بچے قتل کئے جائیں اور ایک سال چھوڑدئیے جائیں تو جو سال چھوڑنے کا تھا اس میں حضرت ہارون علیہ الصلوۃ والسلام پیدا ہوئے اور قتل کے سال حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی ولادت ہوئی۔یہ واقعہ سورہ قصص کے پہلے رکوع میں کافی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ {و فی ذلكم بلآء:اور اس میں ازمائش تھی۔} ’’بلا ‘‘امتحان و آزمائش کو کہتے ہیں اور آزمائش نعمت سے بھی ہوتی ہے اور شدت و محنت سے بھی۔ نعمت سے بندے کی شکر گزاری اور محنت ومشقت سے اس کے صبر کا حال ظاہر ہوتا ہے۔ اس ایت میں اگر ’’ذلكم‘‘ کا اشارہ فرعون کے مظالم کی طرف ہو تو ’’بلا ‘‘سے محنت و مصیبت مراد ہوگی اور اگر ان مظالم سے نجات دینے کی طرف اشارہ ہو تو ’’بلا‘‘سے نعمت مراد ہوگی۔