Surah Al Baqarah Ayat 55 (2:55)
The Cow · Juz 1 · Madani
وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ 55
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یاد کرو جب تم نے کہا: اے موسیٰ! ہم ہرگز تمہارا یقین نہ کریں گے جب تک اعلانیہ خدا کو نہ دیکھ لیں تو تمہارے دیکھتے ہی دیکھتے تمہیں کڑک نے پکڑ لیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم ہرگز تمہارا یقین نہ لائیں گے جب تک عَلانیہ خدا کو نہ دیکھ لیں تو تمہیں کڑک نے آلیا اور تم دیکھ رہے تھے۔
Tafseer (Urdu)
{لن نؤمن لك:ہم ہرگز تمہارا یقین نہ کریں گے۔ }جب بنی اسرائیل نے توبہ کی اور کفارے میں اپنی جانیں بھی دیدیں تو اللہ تعالی نے حکم فرمایا کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام انہیں اس گناہ کی معذرت پیش کرنے کیلئے حاضر کریں چنانچہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام ان میں سے ستر آدمی منتخب کرکے طور پر لے گئے وہاں جاکر وہ کہنے لگے: اے موسی! علیہ الصلوۃ والسلام ہم آپ کا یقین نہ کریں گے جب تک خدا کو علانیہ نہ دیکھ لیں اس پر آسمان سے ایک ہولناک آواز آئی جس کی ہیبت سے وہ سب مر گئے۔ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے گڑگڑا کر بارگاہ الہی میں عرض کی کہ میں بنی اسرائیل کو کیا جواب دوں گا اس پر اللہ تعالی نے ان ستر افراد کوزندہ فرمادیا۔(جمل البقرۃ تحت الایۃ: ۵۵ ۱ / ۸۰ تفسیر کبیر البقرۃ تحت الایۃ: ۵۵ ۱ / ۵۱۹ ملتقطا) انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی عظمت: اس واقعہ سے شان انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام بھی ظاہر ہوئی کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے ’’ہم اپ کا یقین نہیں کریں گے ‘‘ کہنے کی شامت میں بنی اسرائیل ہلاک کئے گئے اور اسی سے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے زمانے والوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی جناب میں ترک ادب غضب الہی کا باعث ہوتا ہے لہذا اس سے ڈرتے رہیں۔اس ایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالی اپنے مقبولان بارگاہ کی دعا سے مردے بھی زندہ فرمادیتا ہے۔