Surah Al Baqarah Ayat 59 (2:59)
The Cow · Juz 1 · Madani
فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ 59
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر ان ظالموں نے جو اُن سے کہا گیا تھا اسے ایک دوسری بات سے بدل دیا تو ہم نے آسمان سے ان ظالموں پر عذاب نازل کردیاکیونکہ یہ نافرمانی کرتے رہے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو ظالموں نے اور بات بدل دی جو فرمائی گئی تھی اس کے سوا تو ہم نے آسمان سے ان پر عذاب اتارا بدلہ ان کی بے حُکمی کا۔
Tafseer (Urdu)
{فانزلنا على الذین ظلموا رجزا من السمآء:تو ہم نے اسمان سے ان ظالموں پر عذاب نازل کردیا۔ }بنی اسرائیل پر طاعون کا عذاب مسلط کیا گیا اور اس کی وجہ سے ایک ساعت میں ان کے70,000افراد ہلاک ہو گئے تھے اور دوسرے قول کے مطابق 24000 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔(خازن البقرۃ تحت الایۃ: ۵۹۱ / ۵۶) طاعون کے بارے میں 3احادیث: یہاں طاعون کا ذکر ہوااس مناسبت سے طاعون سے متعلق 3احادیث ملاحظہ ہوں : (1)…حضرت اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’بے شک یہ طاعون ایک عذاب ہے جسے تم سے پہلے لوگوں پر مسلط کیا گیا تھا لہذا جب کسی جگہ طاعون ہو(اور تم وہاں موجود ہو) تو تم طاعون سے بھاگ کر وہاں سے نہ نکلو اور جب کسی جگہ طاعون ہو تو تم وہاں نہ جاو۔(مسلم کتاب السلام باب الطاعون والطیرۃ والکھانۃ ونحوہا ص۱۲۱۶ الحدیث: ۹۴-۹۵(۲۲۱۸)) (2)…ایک اور روایت میں ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’طاعون پچھلی امتوں کے عذاب کابقیہ ہے جب تمہارے شہر میں طاعون واقع ہو تو وہاں سے نہ بھاگو اوردوسرے شہر میں واقع ہو تو وہاں نہ جاو ۔(مسلم کتاب السلام باب الطاعون والطیرۃ والکھانۃ ونحوہا ص۱۲۱۷ الحدیث: ۹۷(۲۲۱۸)) (3)…ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں :میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے طاعون کے بارے میں عرض کی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ طاعون ایک عذاب ہے اللہ تعالی جس پر چاہتا ہے یہ عذاب بھیج دیتا ہے اور اللہ تعالی نے اسے اہل ایمان کے لئے رحمت بنایا ہےکوئی مومن ایسا نہیں جو طاعون میں پھنس جائے لیکن اپنے شہر ہی میں صبر سے ٹھہرا رہے اور یہ سمجھے کہ جو اللہ تعالی نے لکھ دی ہے اس کے سوا کوئی تکلیف مجھے نہیں پہنچ سکتی تو اسے شہید کے برابر ثواب ملے گا۔(بخاری کتاب احادیث الانبیاء۵۶ باب۲ / ۴۶۸ الحدیث: ۳۴۷۴)