Surah Al Baqarah Ayat 76 (2:76)
The Cow · Juz 1 · Madani
وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا ۚۖ-وَ اِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالُوْۤا اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ لِیُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 76
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب یہ مسلمانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لاچکے ہیں اور جب آپس میں اکیلے ہوتے ہیں توکہتے ہیں : کیا ان کے سامنے وہ علم بیان کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے او پر کھولا ہے؟ تاکہ اس کے ذریعے یہ تمہارے رب کی بارگاہ میں تمہارے اوپر حجت قائم کریں ۔کیا تمہیں عقل نہیں؟۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب مسلمانوں سے ملیں تو کہیں ہم ایمان لائے اور جب آپس میں اکیلے ہوں تو کہیں وہ علم جو اللہ نے تم پر کھولا مسلمانوں سے بیان کئے دیتے ہو کہ اس سے تمہارے رب کے یہاں تمہیں پر حجت لائیں کیا تمہیں عقل نہیں۔
Tafseer (Urdu)
{و اذا لقوا: اور جب وہ ملتے ہیں۔} حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں :یہودی منافق جب صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے ملتے تو ان سے کہتے کہ جس پر تم ایمان لائے اس پر ہم بھی ایمان لائے تم حق پر ہو اور تمہارے آقا محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سچے ہیں ان کا قول حق ہے ہم ان کی نعت و صفت اپنی کتاب توریت میں پاتے ہیں۔ جب یہ اپنے سرداروں کے پاس جاتے تو وہ ان منافقوں کو ملامت کرتے ہوئے کہتے:کیا تم مسلمانوں کے سامنے ان کے اقا محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بارے وہ باتیں بیان کرتے ہو جو اللہ تعالی نے تمہاری کتاب میں بیان فرمائی ہیں تاکہ وہ اس کے ذریعے دنیا و اخرت میں تمہارے اوپر حجت قائم کر دیں کہ جب ہمارے اقا محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا نبی برحق ہونا تمہاری کتابوں میں موجود ہے تو تم نے ان کی پیروی کیوں نہ کی کیا تمہیں عقل نہیں کہ تمہیں یہ کام نہیں کرنا چاہئے۔(خازن البقرۃ تحت الایۃ: ۷۶ ۱ / ۶۵) اس سے معلوم ہوا کہ حق پوشی اور سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اوصاف کو چھپانا اوران کے کمالات کا انکار کرنا یہودیوں کا طریقہ ہے۔