Surah Al Baqarah Ayat 90 (2:90)
The Cow · Juz 1 · Madani
بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ یَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۚ-فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ 90
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariانہوں نے اپنی جانوں کا کتنا برا سودا کیا کہ اللہ نے جو نازل فرمایا ہے اس کا انکار کررہے ہیں اس حسد کی وجہ سے کہ اللہ اپنے فضل سے اپنے جس بندے پر چاہتا ہے وحی نازل فرماتا ہے تو یہ لوگ غضب پر غضب کے مستحق ہوگئے اور کافروں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکس برے مولوں انہوں نے اپنی جانوں کو خریدا کہ اللہ کے اتارے سے منکر ہوں اس کی جلن سے کہ اللہ اپنے فضل سے اپنے جس بندے پر چاہے وحی اتارے تو غضب پر غضب کے سزاوار ہوئے اور کافروں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔
Tafseer (Urdu)
{بئسما اشتروا به انفسهم: انہوں نے اپنی جانوں کاکتنا برا سودا کیا۔} یہودیوں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ایمان لانے کی بجائے کفر اختیار کیا اور ایمان کی جگہ کفر خریدنا خسارے کا سوداہے۔ اسی سے ہر ادمی نصیحت حاصل کرے کہ ایمان کی جگہ کفر نیکیوں کی جگہ گناہ اطاعت کی جگہ نافرمانی رضائے الہی کی جگہ اللہ تعالی کے غضب کا سودا بہت خسارے کا سودا ہے۔ {بغیا:حسد کی وجہ سے۔} یہودیوں کی خواہش تھی ختم نبوت کا منصب بنی اسرائیل میں سے کسی کو ملتا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ وہ اس منصب سے محروم رہے اوربنی اسماعیل کو یہ منصب مل گیا تو وہ حسد کی وجہ سے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ان پر نازل ہونے والی اللہ تعالی کی کتاب قران مجید کے منکر ہوگئے ۔اس سے معلوم ہوا کہ منصب و مرتبے کی طلب انسان کے دل میں حسد پیدا ہونے کا ایک سبب ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ حسد ایسا خبیث مرض ہے جو انسان کو کفر تک بھی لے جا سکتا ہے۔ حسد ایمان کے لئے تباہ کن ہے: حسد کی تعریف یہ ہے کہ کسی مسلمان بھائی کو ملنے والی نعمت چھن جانے کی ارزو کی جائے اور ایسی ارزو کی برائی محتاج بیان نہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ادمی کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہوتے۔ (سنن نسائی کتاب الجہاد فضل من عمل فی سبیل اللہ۔۔۔ الخ ص۵۰۵ الحدیث: ۳۶۱۰) حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور انورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’حسد ایمان کو اس طرح تباہ کر دیتا ہے جیسے صبر (یعنی ایک درخت کاانتہائی کڑوا نچوڑ) شہد کو تباہ کر دیتا ہے۔(جامع صغیر حرف الحاء ص۲۳۲ الحدیث: ۳۸۱۹) یاد رہے کہ حسد حرام ہے اور اس باطنی مرض کے بارے میں علم حاصل کرنا فرض ہے۔اس سے متعلق مزید تفصیل جاننے کے لئے امام غزالی رحمۃاللہ تعالی علیہ کی مشہور کتاب ’’احیاء العلوم ‘‘ کی تیسری جلد میں موجود حسد سے متعلق بیان مطالعہ فرمائیں۔ [فبآءو بغضب على غضب: تو یہ لوگ غضب پر غضب کے مستحق ہوگئے۔] حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہمافرماتے ہیں : یہودی تورات کو ضائع کرنے اور ا س کے احکامات کو تبدیل کرنے کی وجہ سے پہلے غضب کے مستحق ہوئے اور حضور پر نورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے دوسرے غضب کے حقدار ٹھہرے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام اور انجیل کا انکار کرنے کی وجہ سے یہودی پہلے غضب کے مستحق ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور قران مجید کا انکار کرکے دوسرے غضب کےمستحق ہو گئے۔(خازن البقرۃ تحت الایۃ: ۹۰ ۱ / ۶۹)