Surah Al Baqarah Ayat 92 (2:92)
The Cow · Juz 1 · Madani
وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ 92
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک تمہارے پاس موسیٰ روشن نشانیاں لے کر تشریف لائے پھر تم نے اس کے بعد بچھڑے کو معبود بنالیا اور تم ظالم تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک تمہارے پاس موسٰی کھلی نشانیاں لے کر تشریف لایا پھر تم نے اس کے بعد بچھڑے کو معبود بنالیا اور تم ظالم تھے۔
Tafseer (Urdu)
{ اتخذتم العجل: بچھڑے کو معبود بنالیا۔}اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام بنی اسرائیل کے پاس روشن معجزات لے کر تشریف لائے اور جب حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کوہ طور پر تشریف لے گئے تو اپ علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد بنی اسرائیل نے سامری کے بہکانے سے گائے کو معبود بنالیا اور گائے کی پوجا کر کے انہوں نے کفر کیا۔ جب حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی روشن نشانیاں دیکھ کر بنی اسرائیل بچھڑے کی پوجا میں مبتلاء ہو گئے تو ان یہودیوں کا سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ کفر کرنا ان کے لئے کونسی بڑی بات ہے(جلالین مع جمل البقرۃ تحت الایۃ: ۹۲ ۱ / ۱۱۸ ملتقطا) اس ایت سے معلوم ہوا کہ گائے کی عبادت قدیم عرصے سے چلتی ارہی ہے۔ مسلمانوں کو گائے ذبح کرنے کا حکم ہے اس کی تعظیم کی اجازت نہیں کہ اس میں کافروں سے مشابہت ہے اور کافروں سے مشابہت ممنوع ہے۔نیز یاد رہے کہ اس سے پہلے ایت نمبر51میں اس واقعے کا اجمالی ذکر گزر چکا ہے اور یہاں دوبارہ اجمالی طور پر ا س لئے ذکر کیاگیا تاکہ یہودیوں پر قائم کی گئی حجت موکد ہو جائے۔ سورہ طہ کی ایت 85تا98 میں یہ واقعہ تفصیل سے مذکور ہے۔