IQRA QURAN Logo

IQRA QURAN

Your Digital Companion

Surah 20

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

طٰهٰۚ (1)

طه۔

مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ (2)

اے حبیب! ہم نے تم پر یہ قرآن اس لیے نہیں نازل فرمایا کہ تم مشقت میں پڑجاؤ۔

اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ (3)

مگر یہ اس کے لئے نصیحت ہے جو ڈر تا ہے۔

تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىﭤ(4)

اس کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے جس نے زمین اور اونچے آسمان بنائے۔

اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى(5)

وہ بڑا مہربان ہے ،اس نے عرش پر اِستواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے۔

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى(6)

اسی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو کچھ اس گیلی مٹی (زمین) کے نیچے ہے۔

وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى(7)

اور اگر تم بلند آواز سے بولو تو بیشک وہ آہستہ آواز کو جانتا ہے اور اسے (بھی) جو اس سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے۔

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَؕ-لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى(8)

وہ اللہ ہے ، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ سب اچھے نام اسی کے ہیں۔

وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىﭥ(9)

اور کیا تمہارے پاس موسیٰ کی خبر آئی۔

اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى(10)

جب اس نے ایک آگ دیکھی تو اپنی اہلیہ سے فرمایا: ٹھہرو، بیشک میں نے ایک آگ دیکھی ہے شاید میں تمہارے پاس اس میں سے کوئی چنگاری لے آؤں یا آگ کے پاس کوئی راستہ بتانے والا پاؤں ۔

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىﭤ(11)

پھر وہ جب آگ کے پاس آئے تو ندا فرمائی گئی کہ اے موسیٰ۔

اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَۚ-اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىﭤ(12)

بیشک میں تیرا رب ہوں تو تو اپنے جوتے اتار دے بیشک تو پاک وادی طویٰ میں ہے۔

وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِـعْ لِمَا یُوْحٰى(13)

اور میں نے تجھے پسند کیا تواب اسے غور سے سن جو وحی کی جاتی ہے۔

اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْۙ-وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ(14)

بیشک میں ہی اللہ ہوں ،میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ۔

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى(15)

بیشک قیامت آنے والی ہے ۔ قریب ہے کہ میں اسے چھپارکھوں تاکہ ہر جان کو اس کی کوشش کا بدلہ دیا جائے۔

فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى(16)

تو قیامت پر ایمان نہ لانے والا اور اپنی خواہش کی پیروی کرنے والا ہرگز تجھے اس کے ماننے سے باز نہ رکھے ورنہ تو ہلاک ہوجائے گا۔

وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى(17)

اور اے موسیٰ! یہ تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟۔

قَالَ هِیَ عَصَایَۚ-اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى(18)

عرض کی: یہ میرا عصا ہے میں اس پر تکیہ لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور میری اس میں اور بھی کئی ضرورتیں ہیں ۔

قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى(19)

فرمایا: اے موسیٰ اسے ڈال دو۔

فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى(20)

تو موسیٰ نے اسے (نیچے) ڈال دیا تو اچانک وہ سانپ بن گیا جو دوڑ رہا تھا۔

قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْٙ-سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى(21)

۔ ( اللہ نے) فرمایا: اسے پکڑ لو اور ڈرو نہیں ، ہم اسے دوبارہ اس کی پہلی حالت پر لوٹادیں گے۔

وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُ جْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ (22)

اور اپنے ہاتھ کو اپنے بازو سے ملاؤ ،بغیر کسی مرض کے خوب سفید ہوکر، ایک اور معجزہ بن کرنکلے گا۔

لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ (23)

تاکہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں ۔

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ (24)

فرعون کے پاس جاؤ، بیشک وہ سرکش ہوگیا ہے۔

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ (25)

موسیٰ نے عرض کی: اے میرے رب! میرے لیے میرا سینہ کھول دے ۔

وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ (26)

اور میرے لیے میرا کام آسان فرما دے۔

وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ (27)

اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔

یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪ (28)

تاکہ وہ میری بات سمجھیں ۔

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ (29)

اور میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک وزیر کردے۔

هٰرُوْنَ اَخِیۙ (30)

میرے بھائی ہارون کو ۔

اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ (31)

اس کے ذریعے میری کمر مضبوط فرما۔

وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ (32)

اور اسے میرے کام میں شریک کردے۔

كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ (33)

تاکہ ہم بکثرت تیری پاکی بیان کریں ۔

وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاﭤ(34)

اور بکثرت تیرا ذکر کریں ۔

اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا(35)

بیشک تو ہمیں دیکھ رہا ہے ۔

قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى(36)

اللہ نے فرمایا: اے موسیٰ! تیرا سوال تجھے عطا کردیا گیا۔

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ (37)

اور بیشک ہم نے تجھ پر ایک مرتبہ اور بھی احسان فرمایا تھا۔

اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤىۙ (38)

جب ہم نے تمہاری ماں کے دل میں وہ بات ڈال دی جو اس کے دل میں ڈالی جانی تھی۔

اَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗؕ-وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ ﳛ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْﭥ(39)

کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دے پھردریا اسے کنارے پر ڈال دے گاتا کہ اسے وہ اٹھالے جو میرا دشمن ہے اور اس کا (بھی) دشمن ہے اور میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈالی اورتاکہ میری نگاہ کے سامنے تمہاری پرورش کی جائے۔

اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗؕ-فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ۬ؕ-وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا ﲕ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ ﳔ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى(40)

جب تیری بہن چلتی جارہی تھی پھر وہ کہنے لگی : کیا میں تمہیں ایسی عورت کی طرف رہنمائی کروں جو اس بچہ کی دیکھ بھال کرے تو ہم تجھے تیری ماں کے پاس پھیر لائے تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور وہ غمگین نہ ہو اور تم نے ایک آدمی کو قتل کردیا تو ہم نے تمہیں غم سے نجات دی اور تمہیں اچھی طرح آزمایا پھر تم کئی برس مدین والوں میں رہے پھر اے موسیٰ! تم ایک مقررہ وعدے پر حاضر ہوگئے۔

وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ (41)

اور میں نے تجھے خاص اپنی ذات کیلئے بنایا۔

اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ (42)

تم اور تمہارا بھائی دونوں میری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا۔

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىﭕ(43)

دونوں فرعون کی طرف جاؤ بیشک اس نے سرکشی کی ہے۔

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى(44)

توتم اس سے نرم بات کہنا اس امید پر کہ شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا ڈرجائے۔

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى(45)

دونوں نے عرض کیا: اے ہمارے رب! بیشک ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا سرکشی سے پیش آئے گا۔

قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى(46)

اللہ نے فرمایا: تم ڈرو نہیں ، بیشک میں تمہارے ساتھ ہوں میں سن رہا ہوں اور دیکھ بھی رہا ہوں ۔

فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ ﳔ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْؕ-قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَؕ-وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى(47)

پس تم اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انہیں تکلیف نہ دے بیشک ہم تیرے رب کی طرف سے ایک نشانی لائے ہیں اوراس پر سلامتی ہو جو ہدایت کی پیروی کرے۔

اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى(48)

بیشک ہماری طرف وحی ہوتی ہے کہ عذاب اس پر ہے جو جھٹلائے اور منہ پھیرے۔

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى(49)

فرعون بولا: اے موسیٰ ! تو تم دونوں کارب کون ہے؟

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى(50)

موسیٰ نے فرمایا: ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی خاص شکل و صورت دی پھر راہ دکھائی۔

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى(51)

فرعون بولا: پہلی قوموں کا کیا حال ہے؟

قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍۚ-لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘ (52)

موسیٰ نے فرمایا: ان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں ہے، میرا رب نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًؕ-فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى(53)

وہ جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا اور تمہارے لیے اس میں راستے آسان کردئیے اور آسمان سے پانی نازل فرمایا تو ہم نے اس سے مختلف قسم کی نباتات کے جوڑے نکالے ۔

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ (54)

تم کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو چراؤ، بیشک اس میں عقل والوں کیلئے نشانیاں ہیں ۔

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى(55)

ہم نے زمین ہی سے تمہیں بنایا اور اسی میں تمہیں پھر لوٹائیں گے اور اسی سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے۔

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى(56)

اور بیشک ہم نے اس کواپنی سب نشانیاں دکھائیں تو اس نے جھٹلایا اور نہ مانا ۔

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى(57)

کہنے لگا: اے موسیٰ! کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اپنے جادو کے ذریعے ہماری سرزمین سے نکال دو۔

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى(58)

تو ضرور ہم بھی تمہارے آگے ویسا ہی جادو لائیں گے تو ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدہ مقرر کرلو جس کی خلاف ورزی نہ ہم کریں اور نہ تم۔ایسی جگہ جو برابر فاصلے پر ہو۔

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى(59)

موسیٰ نے فرمایا: تمہارا وعدہ میلے کا دن ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے جمع کرلئے جائیں ۔

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى(60)

تو فرعون منہ پھیر کر چلا گیا تو اپنے مکروفریب کو جمع کرنے لگا پھر آیا ۔

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍۚ-وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى(61)

ان سے موسیٰ نے فرمایا: تمہاری خرابی ہو ، تم اللہ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ وہ تمہیں عذاب سے ہلاک کردے گا اور بیشک وہ ناکام ہوا جس نے جھوٹ باندھا۔

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى(62)

تو وہ اپنے معاملہ میں باہم مختلف ہوگئے اور انہوں نے چھپ کر مشورہ کیا۔

قَالُـوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى(63)

کہنے لگے: بیشک یہ دونوں یقینا جادوگر ہیں ، یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں تمہاری سرزمین سے اپنے جادو کے زور سے نکال دیں اور تمہارا بہت شرف و بزرگی والا دین لے جائیں ۔

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّاۚ-وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى(64)

تو تم اپنا داؤ جمع کرلو پھر صف باندھ کر آ جاؤ اور بیشک آج وہی کامیاب ہوگا جو غالب آئے گا۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى(65)

انہوں نے کہا: اے موسیٰ ! یا تم (عصا نیچے) ڈالو یا ہم پہلے ڈالتے ہیں۔

قَالَ بَلْ اَلْقُوْاۚ-فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى(66)

موسیٰ نے فرمایا: بلکہ تمہی ڈالو تواچانک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے زور سے موسیٰ کے خیال میں یوں لگیں کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔

فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى(67)

تو موسیٰ نے اپنے دل میں خوف محسوس کیا۔

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى(68)

توہم نے فرمایا: ڈرو نہیں بیشک تم ہی غالب ہو۔

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْاؕ-اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍؕ-وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى(69)

اور تم بھی اسے ڈال دو جو تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے وہ ان کی بنائی ہوئی چیزوں کو نگل جائے گا۔ بیشک جو انہوں نے بنایا ہے وہ تو صرف جادوگروں کا مکروفریب ہے اور جادوگر کامیاب نہیں ہوتا جہاں بھی آجائے۔

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُـوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى(70)

تو سب جادوگر سجدے میں گرا دئیے گئے، وہ کہنے لگے: ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لائے۔

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْؕ-اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَۚ-فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ٘-وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى(71)

فرعون بولا: کیا تم اس پر ایمان لائے اس سے پہلے کہ میں تمہیں اجازت دوں ، بیشک وہ تمہارا بڑاہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا تو مجھے قسم ہے میں ضرورتمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دوں گا اور تمہیں کھجور کے تنوں پر پھانسی دے دوں گا اور ضرور تم جان جاؤ گے کہ ہم میں کس کا عذاب زیادہ شدید اورزیادہ باقی رہنے والاہے۔

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍؕ-اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاﭤ(72)

انہوں نے کہا: ہم ان روشن دلیلوں پر ہرگز تجھے ترجیح نہ دیں گے جو ہمارے پاس آئی ہیں ۔ ہمیں اپنے پیدا کرنے والے کی قسم ! تو تُوجو کرنے والا ہے کر لے۔ تو اس دنیا کی زندگی میں ہی توکرے گا ۔

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِؕ-وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىٝ (73)

بیشک ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں اور وہ جادو بخش دے جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا تھا اور اللہ بہتر ہے اور سب سے زیادہ باقی رہنے والاہے۔

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَؕ-لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى(74)

بیشک جو اپنے رب کے حضور مجرم ہوکر آئے گاتو ضرور اس کے لیے جہنم ہے جس میں نہ مرے گا اور نہ (ہی چین سے)زندہ رہے گا۔

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ (75)

اور جو اس کے حضور ایمان والا ہوکر آئے گاکہ اس نے نیک اعمال کئے ہوں تو ان کیلئے بلند درجات ہیں۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ (76)

ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ،ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ اس کی جزا ہے جو پاک ہوا۔

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى ﳔ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًاۙ-لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى(77)

اور بیشک ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ راتوں رات میرے بندوں کو لے چلو اور ان کے لیے دریا میں خشک راستہ نکال دو۔ تجھے ڈر نہ ہوگا کہ فرعون پکڑ لے اور نہ تجھے خطرہ ہوگا۔

فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْﭤ(78)

تو فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ان کے پیچھے چل پڑا تو انہیں دریا نے ڈھانپ لیا جیساانہیں ڈھانپ لیا۔

وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى(79)

اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور راہ نہ دکھائی۔

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى(80)

اے بنی اسرائیل! بیشک ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور تمہارے ساتھ کوہِ طور کی دائیں جانب کا وعدہ کیا اور تم پر من اور سلویٰ اتارا ۔

كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْۚ-وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى(81)

جو پاکیزہ رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے کھاؤ اور اس میں زیادتی نہ کرو کہ تم پر میرا غضب اترآئے اور جس پر میرا غضب اترآیا توبیشک وہ گرگیا۔

وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى(82)

اور بیشک میں اس آدمی کو بہت بخشنے والا ہوں جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کیا پھر ہدایت پر رہا۔

وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى(83)

اور اے موسیٰ! تجھے اپنی قوم سے کس چیز نے جلدی میں مبتلا کردیا؟

قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى(84)

عرض کی :وہ یہ میرے پیچھے ہیں اور اے میرے رب !میں نے تیری طرف اس لئے جلدی کی تاکہ تو راضی ہوجائے۔

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ(85)

فرمایا، تو ہم نے تیرے آنے کے بعد تیری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا اور سامری نے انہیں گمراہ کردیا۔

فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا ﳛ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا۬ؕ-اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ(86)

تو موسیٰ اپنی قوم کی طرف غضبناک ہوکر افسوس کرتے ہوئے لوٹے (اور) فرمایا: اے میری قوم ! کیا تمہارے رب نے تم سے اچھا وعدہ نہ کیا تھا؟ کیا مدت تم پر لمبی ہوگئی تھی یا تم نے یہ چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب اتر آئے؟ پس تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی ہے۔

قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ (87)

انہوں نے کہا: ہم نے اپنے اختیار سے آپ کے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی لیکن قوم کے کچھ زیورات کے بوجھ ہم سے اٹھوائے گئے تھے تو ہم نے ان زیورات کو ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے ڈال دیا۔

فَاَخْرَ جَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى۬-فَنَسِیَﭤ(88)

تو اس نے ان لوگوں کے لیے ایک بے جان بچھڑا نکال دیا جس کی گائے جیسی آواز تھی تو لوگ کہنے لگے: یہ تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا معبود ہے اور موسیٰ بھول گئے ہیں ۔

اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِـعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا ﳔ وَّ لَا یَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۠ (89)

تو کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ بچھڑا انہیں کسی بات کا جواب نہیں دیتا اور ان کیلئے نہ کسی نقصان کا مالک ہے اور نہ نفع کا۔

وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖۚ-وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ(90)

اور بیشک ہارون نے ان سے پہلے ہی کہا تھا کہ اے میری قوم ! تمہیں اس کے ذریعے صرف آزمایا جارہا ہے اور بیشک تمہارا رب رحمٰن ہے تو میری پیروی کرو اور میرے حکم کی اطاعت کرو۔

قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِـعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى(91)

بولے ہم تو اس پر جم کر بیٹھے رہیں گے جب تک ہمارے پاس موسیٰ لوٹ کر نہ آجائیں ۔

قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْاۙ (92)

۔ موسیٰ نے فرمایا: اے ہارون! جب تم نے انہیں گمراہ ہوتے دیکھا تھا تو تمہیں کس چیز نے میرے پیچھے آنے سے منع کیا تھا؟

اَلَّا تَتَّبِعَنِؕ-اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ(93)

کیا تم نے میرا حکم نہ مانا؟

قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْۚ-اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ(94)

ہارون نے کہا: اے میری ماں کے بیٹے! میری داڑھی اور میرے سر کے بال نہ پکڑو بیشک مجھے ڈر تھا کہ تم کہو گے کہ (اے ہارون!) تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور تم نے میری بات کا انتظار نہ کیا۔

قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ(95)

موسیٰ نے فرمایا:اے سامری! تو تیرا کیا حال ہے؟

قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ(96)

اس نے کہا: میں نے وہ دیکھا جو لوگوں نے نہ دیکھا تو میں نے فرشتے کے نشان سے ایک مٹھی بھر لی پھر اسے ڈال دیا اور میرے نفس نے مجھے یہی اچھا کر کے دکھایا۔

قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ۪-وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗۚ-وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًاؕ-لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا(97)

موسیٰ نے فرمایا: توتو چلا جاپس بیشک زندگی میں تیرے لئے یہ سزا ہے کہ تو کہے گا۔ ’’نہ چھونا‘‘ اور بیشک تیرے لیے ایک وعدہ کا وقت ہے جس کی تجھ سے خلاف ورزی نہ کی جائے گی اور اپنے اس معبود کو دیکھ جس کے سامنے تو سارا دن ڈٹ کر بیٹھا رہا ،قسم ہے :ہم ضرور اسے جلائیں گے پھر ریزہ ریزہ کرکے دریا میں بہائیں گے ۔

اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَؕ-وَسِعَ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا(98)

تمہارا معبود تو وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔

كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَۚ-وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ (99)

۔ (اے حبیب!)ہم تمہارے سامنے اسی طرح پہلے گزری ہوئی خبریں بیان کرتے ہیں اور بیشک ہم نے تمہیں اپنے پاس سے ایک ذکر عطا فرمایا ۔

مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ (100)

جو اس سے منہ پھیرے گاتو بیشک وہ قیامت کے دن ایک بڑا بوجھ اٹھائے گا ۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهِؕ-وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ (101)

وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور وہ قیامت کے دن ان کیلئے بہت برا بوجھ ہوگا۔

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَىٕذٍ زُرْقًاۚۖ (102)

جس دن صُور میں پھونکا جائے گا اور ہم اس دن مجرموں کو اس حال میں اٹھائیں گے کہ ان کی آنکھیں نیلی ہوں گی۔

یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا(103)

وہ آپس میں آہستہ آہستہ باتیں کریں گے کہ تم دنیا میں صرف دس رات رہے ہو۔

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠ (104)

ہم خوب جانتے ہیں جو وہ کہیں گے جب ان میں سب سے بہتر رائے والا کہے گا کہ تم صرف ایک ہی دن رہے تھے۔

وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ (105)

اور آپ سے پہاڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ۔تم فرماؤ! انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا۔

فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ (106)

تو زمین کو ہموار چٹیل میدان بنا چھوڑے گا۔

لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاﭤ(107)

تو اس میں کوئی ناہمواری دیکھے گا اورنہ اونچائی ۔

یَوْمَىٕذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗۚ-وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا(108)

اس دن پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے(لوگوں کی طرف سے)اس داعی کے لئے اِدھراُدھرہونا نہ ہوگا اور سب آوازیں رحمٰن کے حضو ر پست ہوکر رہ جائیں گی تو تُو ہلکی سی آواز کے سوا کچھ نہ سنے گا۔

یَوْمَىٕذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا(109)

اس دن کسی کی شفاعت کام نہ دے گی سوائے اس کے جسے رحمٰن نے اجازت دے دی ہو اور اس کی بات پسند فرمائی ہو۔

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا(110)

وہ جانتا ہے جو کچھ ان لوگوں کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور لوگوں کا علم اسے نہیں گھیر سکتا۔

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِؕ-وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا(111)

اور تمام چہرے اُس کے حضور جھک جائیں گے جو خود زندہ ، دوسروں کوقائم رکھنے والا ہے اور بیشک وہ شخص ناکام رہا جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا۔

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا(112)

اور جو کوئی اسلام کی حالت میں کچھ نیک اعمال کرے تو اسے نہ زیادتی کا خوف ہوگا اور نہ کمی کا ۔

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا(113)

اور یونہی ہم نے اسے عربی قرآن نازل فرمایا اور اس میں مختلف انداز سے عذاب کی وعیدیں بیان کیں تاکہ لوگ ڈریں یا قرآن ان کے دل میں کچھ غور وفکر پیدا کرے۔

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّۚ-وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ٘-وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا(114)

تو وہ اللہ بہت بلند ہے جو سچا بادشاہ ہے اور آپ کی طرف قرآن کی وحی کے ختم ہونے سے پہلے قرآن میں جلدی نہ کرو اور عرض کرو: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ (115)

اور بیشک ہم نے آدم کو اس سے پہلے تاکیدی حکم دیا تھا تو وہ بھول گیا اور ہم نے اس کا کوئی مضبوط ارادہ نہ پایاتھا۔

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى(116)

اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو توابلیس کے سوا سب سجدے میں گرگئے، اس نے انکار کردیا۔

فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى(117)

تو ہم نے فرمایا، اے آدم! بیشک یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے تو یہ ہرگز تم دونوں کو جنت سے نہ نکال دے ورنہ تو مشقت میں پڑجائے گا۔

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْ عَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ (118)

بیشک تیرے لیے جنت میں یہ ہے کہ نہ تو بھوکا ہوگا اور نہ ہی ننگا ہوگا۔

وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى(119)

اور یہ کہ نہ کبھی تو اس میں پیاسا ہوگا اور نہ تجھے دھوپ لگے گی۔

فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى(120)

تو شیطان نے اسے وسوسہ ڈالا ، کہنے لگا: اے آدم! کیا میں تمہیں ہمیشہ رہنے کے درخت اور ایسی بادشاہت کے متعلق بتادوں جو کبھی فنا نہ ہوگی۔

فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ٘-وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ (121)

تو ان دونوں نے اس درخت میں سے کھا لیا تو ان پر ان کی شرم کے مقام ظاہر ہوگئے اور وہ جنت کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے اور آدم سے اپنے رب کے حکم میں لغزش واقع ہوئی تو جو مقصد چاہا تھا وہ نہ پایا۔

ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى(122)

پھر اس کے رب نے اسے چن لیا تو اس پر اپنی رحمت سے رجوع فرمایا اور خصوصی قرب کا راستہ دکھایا۔

قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۚ-فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى ﳔ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى(123)

اللہ نے فرمایا: تم دونوں اکٹھے جنت سے اتر جاؤ، تمہارے بعض بعض کے دشمن ہوں گے پھر (اے اولادِ آدم) اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا تو وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ بدبخت ہوگا۔

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى(124)

اور جس نے میرے ذکر سے منہ پھیرا تو بیشک اس کے لیے تنگ زندگی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے۔

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا(125)

وہ کہے گا: اے میرے رب! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا حالانکہ میں تو دیکھنے والاتھا؟

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَاۚ-وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى(126)

اللہ فرمائے گا: اسی طرح ہماری آیتیں تیرے پاس آئی تھیں تو تو نے انہیں بھلا دیا اور آج اسی طرح تجھے چھوڑ دیا جائے گا۔

وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖؕ-وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى(127)

اور ہم اس شخص کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں جو حد سے بڑھے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لائے اور بیشک آخرت کا عذاب سب سے شدید اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے۔

اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ (128)

تو کیا انہیں اس بات نے ہدایت نہ دی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قومیں ہلاک کردیں جن کی رہائش کی جگہوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں بیشک اس میں عقل والوں کیلئے نشانیاں ہیں ۔

وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّىﭤ(129)

اور اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے (طے) نہ ہو چکی ہوتی اور ایک مقررہ مدت نہ ہوتی تو ضرور عذاب انہیں لپٹ جاتا۔

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَاۚ-وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى(130)

تو ان کی باتوں پر صبر کرو اور سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے رہو اور رات کی کچھ گھڑیوں میں اور دن کے کناروں پر (بھی اللہ کی) پاکی بیان کرو، اس امید پر کہ تم راضی ہوجاؤ۔

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ﳔ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِؕ-وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى(131)

اور اے سننے والے! ہم نے مخلوق کے مختلف گروہوں کو دنیا کی زندگی کی جوتروتازگی فائدہ اٹھانے کیلئے دی ہے تاکہ ہم انہیں اس بارے میں آزمائیں تو اس کی طرف تو اپنی آنکھیں نہ پھیلا اور تیرے رب کا رزق سب سے اچھا اور سب سے زیادہ باقی رہنے والاہے۔

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَاؕ-لَا نَسْــٴَـلُكَ رِزْقًاؕ-نَحْنُ نَرْزُقُكَؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى(132)

اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی نماز پر ڈٹے رہو۔ ہم تجھ سے کوئی رزق نہیں مانگتے (بلکہ) ہم تجھے روزی دیں گے اور اچھاانجام پرہیزگاری کے لیے ہے۔

وَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖؕ-اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى(133)

اور کافر وں نے کہا: یہ نبی اپنے رب کے پاس سے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے ؟ اور کیا ان لوگوں کے پاس پہلی کتابوں میں مذکور بیان نہ آیا۔

وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِـعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى(134)

اور اگر ہم انہیں رسول کے آنے سے پہلے کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو ضرور کہتے: اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے تیری آیتوں کی پیروی کرتے؟

قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْاۚ-فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى۠ (135)

تم فرماؤ:ہر کوئی انتظار کررہا ہے تو تم بھی انتظار کرو توعنقریب تم جان لوگے کہ سیدھے راستے والے کون تھے اور کس نے ہدایت پائی؟۔