Surah Al Anbiya Ayat 102 (21:102)
The Prophets · Juz 17 · Makki
لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَاۚ-وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَ 102
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہ اس کی ہلکی سی آواز بھی نہ سنیں گے اور وہ اپنی دل پسند نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہ اس کی بھنک نہ سنیں گے اور وہ اپنی من مانتی خواہشوں میں ہمیشہ رہیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{لا یسمعون حسیسها:وہ اس کی ہلکی سی آواز بھی نہ سنیں گے۔} بعض مفسرین کے نزدیک اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ جنت کی منازل میں آرام فرما ہوں گے تووہ جہنم کی ہلکی سی آواز بھی نہ سنیں گے اور اس کے جوش کی آواز بھی ان تک نہ پہنچے گی اور وہ جنت میں اپنی دل پسند نعمتوں اور کرامتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔( جمل الانیباء تحت الایۃ: ۱۰۲ ۵ / ۱۶۴ قرطبی الانیباء تحت الایۃ: ۱۰۲ ۶ / ۲۰۴ ملتقطا) {لا یحزنهم الفزع الاكبر:انہیں سب سے بڑی گھبراہٹ غمگین نہ کرے گی۔} حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہمافرماتے ہیں ’’سب سے بڑی گھبراہٹ سے مراد دوسری بار صور میں پھونکا جانا ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس سے وہ وقت مراد ہے جب موت کو ذبح کر کے یہ ندا دی جائے گی کہ اے جہنم والو! تمہیں اب موت کے بغیر جہنم میں ہمیشہ رہنا ہے۔ مزید فرمایا کہ قبروں سے نکلتے وقت مبارک باد دیتے اور یہ کہتے ہوئے فرشتے ان کا استقبال کریں گے کہ یہ تمہیں ثواب ملنے کا وہ دن ہے جس کا دنیا میں تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔( مدارک الانبیاء تحت الایۃ: ۱۰۳ ص۷۲۷ خازن الانبیاء تحت الایۃ: ۱۰۳ ۳ / ۲۹۶ ملتقطا) سب سے بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہنے والے لوگ: احادیث میں چند ایسے لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو قیامت کے دن سب سے بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہیں گے ترغیب کے لئے یہاں ان پانچ خوش نصیب افراد کا ذکر کیا جاتا ہے جن کا ذکر احادیث میں ہے (1)…شہید۔ چنانچہ حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالی کی بارگاہ میں شہید کے لئے چھ خصلتیں ہیں خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی ا س کی بخشش ہو جاتی ہے۔ جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لیتا ہے۔ قبر کے عذاب سے محفوظ رہتا ہے۔ سب سے بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہے گا۔ اس کے سر پر عزت و وقار کا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا و مافیہا سے بہتر ہو گا۔ بڑی انکھوں والی 72 حوریں ا س کے نکاح میں دی جائیں گی اور ا س کے ستر رشتہ داروں کے حق میں ا س کی شفاعت قبول کی جائے گی۔( ترمذی کتاب فضائل الجہاد باب فی ثواب الشہید ۳ / ۲۵۰ الحدیث: ۱۶۶۹) (2)…رضائے الہی کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے۔ چنانچہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور پر نورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’کچھ لوگ ایسے ہیں جو نہ انبیاء ہیں نہ شہداءان کے لئے قیامت کے دن نور کے منبر رکھے جائیں گے ان کے چہرے بھی نورانی ہوں گے اوروہ قیامت کے دن سب سے بڑی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے۔ ایک شخص نے عرض کی :یا رسول اللہ ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وہ کون لوگ ہیں ارشاد فرمایا’’وہ مختلف قبیلوں سے تعلق رکھنے والے ایسے لوگ ہوں گے جو ایک دوسرے سے اللہ تعالی کی رضاکی خاطر محبت رکھتے ہوں گے۔( معجم الکبیرمن اسمہ:معاذ معاذ بن جبل الانصاری۔۔۔الخ رجال غیر مسمین عن معاذ۲۰ / ۱۶۸الحدیث: ۳۵۸) (3 4 5)…جس امام سے مقتدی خوش ہوں روزانہ اذان دینے والا اللہ تعالی اور اپنے اقا کا حق ادا کرنے والا غلام۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’تین افراد ایسے ہیں جنہیں قیامت کے دن سب سے بڑی گھبراہٹ پریشان نہیں کرے گی انہیں حساب کی سختی نہ پہنچے گی اور وہ مخلوق کا حساب ختم ہونے تک کستوری کے ٹیلوں پر ہوں گے ۔ (۱) وہ شخص جس نے اللہ تعالی کی رضا کے لئے قران پڑھا اور ا س کے ساتھ کسی قوم کی امامت کی اور وہ ا س سے را ضی ہوں ۔ (۲) وہ شخص جو اللہ تعالی کی رضا چاہتے ہوئے لوگوں کو پانچوں نمازوں کی طرف اذان دے کر بلائے۔ (۳) وہ غلام جو اللہ تعالی کاحق اور اپنے اقاوں کا حق اچھے طریقے سے ادا کرتا ہے۔( معجم الصغیر باب الواو من اسمہ: الولید ص۱۲۴ الجزء الثانی)