Surah Al Anbiya Ayat 29 (21:29)
The Prophets · Juz 17 · Makki
وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّیْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَؕ-كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ 29
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ان میں جو کوئی کہے کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں تو اسے ہم جہنم کی سزا دیں گے۔ ہم ظالموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ان میں جو کوئی کہے کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں تو اسے ہم جہنم کی جزا دیں گے ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں ستمگاروں کو۔
Tafseer (Urdu)
{و من یقل منهم:اور ان میں جو کوئی کہے۔} بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اس ایت میں در اصل ان مشرکوں کو ڈرایا گیا ہے جو معبود ہونے کا دعوی کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے شرک سے باز ا جائیں اور ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ بفرض محال فرشتوں میں سے کوئی یہ کہے کہ میں اللہ تعالی کے سوا معبود ہوں تو اللہ تعالی اسے بھی دوسرے مجرموں کی طرح جہنم کی سزا دے گا اور اس فرشتے کے اوصاف اور پسندیدہ افعال جہنم کی سزا سے اسے بچا نہ سکیں گے اور اللہ تعالی ان ظالموں کو ایسی ہی سزا دیتا ہے جو اس کے سوا معبود ہونے کا دعوی کرتے ہیں (اور جب فرشتوں کے بارے اللہ تعالی کا یہ فیصلہ ہے تو اے مشرکو! اس بد ترین عمل سے باز نہ انے کی صورت میں تمہارا انجام کتنا دردناک ہو گا ) اور بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ بات’’ میں اللہ کے سوا معبود ہوں ‘‘ کہنے والا ابلیس ہے جو اپنی عبادت کی دعوت دیتا ہے فرشتوں میں اور کوئی ایسا نہیں جو یہ کلمہ کہے۔( روح البیان الانبیاء تحت الایۃ: ۲۹ ۵ / ۴۶۹ خازن الانبیاء تحت الایۃ: ۲۹ ۳ / ۲۷۵ ملتقطا) یاد رہے کہ ابلیس در حقیقت جنات میں سے ہے اور چونکہ وہ فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا اس لیے حکمی طور پر ان ہی میں سے شمار ہوتا تھا۔