Surah Al Anbiya Ayat 31 (21:31)
The Prophets · Juz 17 · Makki
وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ 31
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور زمین میں ہم نے مضبوط لنگر ڈال دئیے تاکہ لوگوں کو لے کر حرکت نہ کرتی رہے اور ہم نے اس میں کشادہ راستے بنائے تاکہ وہ راستہ پالیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور زمین میں ہم نے لنگر ڈالے کہ انھیں لے کر نہ کانپے اور ہم نے اس میں کشادہ راہیں رکھیں کہ کہیں وہ راہ پائیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و جعلنا فی الارض رواسی:اور زمین میں ہم نے مضبوط لنگر ڈال دئیے۔} اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے زمین میں مضبوط پہاڑ قائم کر دئیے تاکہ زمین جم جائے ٹھہری رہے اور غیر متوازن حرکت نہ کرے اورلوگ اس پر ارام وسکون کے ساتھ چل سکیں اور اللہ تعالی نے اس میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ اپنے سفروں میں راستہ پالیں اور جن مقامات کا ارادہ کریں وہاں تک پہنچ سکیں ۔ {و جعلنا السمآء سقفا محفوظا:اور ہم نے آسمان کوایک محفوظ چھت بنایا ۔} یعنی اللہ تعالی نے آسمان کو ایک گرنے سے محفوظ چھت بنایا اور کافروں کا حال یہ ہے کہ وہ آسمانی کائنات سورج چاند ستارے اور اپنے اپنے افلاک میں ان کی حرکتوں کی کیفیت اور اپنے اپنے مطالع سے ان کے طلوع اور غروب اور ان کے احوال کے عجائبات جو عالم کو بنانے والے کے وجود اس کی وحدت اور اس کی قدرت و حکمت کے کمال پر دلالت کرتے ہیں ان سب سے اعراض کرتے ہیں اور ان دلائل سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔( خازن الانبیاء تحت الایۃ: ۳۲ ۳ / ۲۷۶) اس ایت سے معلوم ہوا کہ ریاضی اور فلکیات کا علم اعلی علوم میں سے ہے جبکہ انہیں اللہ تعالی کی معرفت کا ذریعہ بنایا جائے۔ صوفیاء کرام رحمۃ اللہ تعالی علیہم فرماتے ہیں کہ ایک گھڑی کی فکر ہزار سال کے اس ذکر سے افضل ہے جو بغیر فکر کے ہو۔