Surah Al Anbiya Ayat 55 (21:55)
The Prophets · Juz 17 · Makki
قَالُـوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ 55
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبولے: کیا تم ہمارے پاس حق لائے ہو یا یونہی کھیل رہے ہو؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبولے کیا تم ہمارے پاس حق لائے ہو یا یونہی کھیلتے ہو ۔
Tafseer (Urdu)
{قالـوا اجئتنا بالحق:بولے: کیا تم ہمارے پاس حق لائے ہو۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کوچونکہ اپنے طریقے کا گمراہی ہونا بہت ہی بعید معلوم ہوتا تھا اور وہ اس کا انکار کرنا بہت بڑی بات جانتے تھے اس لئے انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ کہا کہ کیا آپ یہ بات واقعی طور پر ہمیں بتا رہے ہیں یا یونہی ہنسی مذاق کے طور پر فرما رہے ہیں اس کے جواب میں آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالی کی ربوبیت کا بیان کرکے ظاہر فرما دیا کہ آپ کھیل کے طور پرکلام نہیں کررہے بلکہ حق کا اظہار فرما رہے ہیں چنانچہ آپ نے فرمایا: تمہاری عبادت کے مستحق یہ بناوٹی مجسمے نہیں بلکہ تمہاری عبادت کا مستحق وہ ہے جو اسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے انہیں کسی سابقہ مثال کے بغیرپیدا کیا تو پھر تم ان چیزوں کی عبادت کیسے کرتے ہو جو مخلوقات میں داخل ہیں اور میں نے تم سے جو بات کہی کہ تمہارا رب صرف وہ ہے جو اسمانوں اور زمین کا رب ہے میں اسے دلیل کے ساتھ ثابت کر سکتا ہوں ۔(مدارک الانبیاء تحت الایۃ: ۵۵-۵۶ ص۷۱۹ روح البیان الانبیاء تحت الایۃ: ۵۵-۵۶ ۵ / ۴۹۲ ملتقطا)