Surah Al Anbiya Ayat 76 (21:76)
The Prophets · Juz 17 · Makki
وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ 76
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور نوح کو (یاد کرو) جب اس سے پہلے اس نے ہمیں پکارا تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے اور اس کے گھر والوں کو بڑے غم سے نجات دی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور نوح کو جب اس سے پہلے اس نے ہمیں پکارا تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے اور اس کے گھر والوں کو بڑی سختی سے نجات دی۔
Tafseer (Urdu)
{و نوحا اذ نادى من قبل:اورنوح کوجب پہلے اس نے ہمیں پکارا۔} یہ اس سورت میں بیان کئے گئے واقعات میں سے چوتھا واقعہ ہے چنانچہ اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کویاد کریں جب انہوں نے حضرت ابراہیم اور حضرت لوط علیہما الصلوۃ والسلام سے پہلے ہمیں پکارا اور ہم سے اپنی قوم پر عذاب نازل کرنے کی دعا کی تو ہم نے اس کی دعا قبول فرما لی اور اسے اور کشتی میں موجود اس کے گھر والوں کو طوفان سے اور سرکش لوگوں کے جھٹلانے سے نجات دی اور ہم نے ان لوگوں کے مقابلے میں اس کی مدد کی جنہوں نے ہماری ان آیتوں کی تکذیب کی جو حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی رسالت پر دلالت کرتی تھیں بیشک وہ برے لوگ تھے تو ہم نے ان سب کو غرق کر دیا کیونکہ جو قوم جھٹلانے پر قائم رہے اور شر فساد میں ہی مشغول رہے تو اسے اللہ تعالی ہلاک کر دیتا ہے۔( جلالین الانبیاء تحت الایۃ: ۷۶-۷۷ ص۲۷۵ روح البیان الانبیاء تحت الایۃ: ۷۶-۷۷ ۵ / ۵۰۳ ملتقطا) ایت’’ فاستجبنا له فنجینه‘‘سے دعا کے بارے میں معلوم ہونے والے دو احکام : اس ایت سے دو باتیں معلوم ہوئیں : (1)…جب دعا دل کے اخلاص کے ساتھ ہو جیسے انبیاءکرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء عظام رحمۃ اللہ تعالی علیہم کی دعا تو وہ قبول ہوتی ہے ۔لہذا جب بھی دعا مانگیں تو دل کے اخلاص اور پوری توجہ کے ساتھ مانگیں تاکہ اسے قبولیت حاصل ہو۔ (2)…دعا نجات کے اسباب میں سے ایک سبب ہے اور اسے اختیار کرنا نجات حاصل ہونے کا ذریعہ ہے۔