Surah Al Anbiya Ayat 85 (21:85)
The Prophets · Juz 17 · Makki
وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَ ذَا الْكِفْلِؕ-كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَﭕ 85
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو (یاد کرو) وہ سب صبر کرنے والے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اسمٰعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو وہ سب صبر والے تھے ۔
Tafseer (Urdu)
{و اسمعیل و ادریس و ذا الكفل:اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو (یاد کرو)۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ حضرت اسماعیل حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل علیہم الصلوۃ والسلام کو یاد کریں وہ سب عبادات کی مشقتوں اور افات و بلیات کو برداشت کرنے پر کامل صبر کرنے والے تھے ۔ حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ذبح کئے جانے کے وقت صبر کیا غیراباد بیابان میں ٹھہرنے پر صبر کیا اور اس کے صلے میں اللہ تعالی نے انہیں یہ مقام عطا کیا کہ ان کی نسل سے اپنے حبیب اور اخری نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ظاہر فرمایا۔ حضرت ادریس علیہ الصلوۃ والسلام نے درس دینے پر صبر کیا اور حضرت ذوالکفل علیہ الصلوۃ والسلام نے دن کاروزہ رکھنے رات کوقیام کرنے اور اپنے دور حکومت میں لوگوں کی طرف سے دی گئی تکلیفوں پرصبرکیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص اللہ تعالی کی اطاعت کرنے اوراس کی نافرمانی سے بچنے پر صبر کرے یونہی جو شخص اپنے مالاہل اور جان میں انے والی کسی مصیبت پر صبر کرے تو وہ اپنے صبر کی مقدارکے مطابق نعمترتبہ اور مقام پاتا ہے اور اسی حساب سے و ہ اللہ تعالی کی رحمت کا حق دار ہوتا ہے۔( روح البیان الانبیاء تحت الایۃ: ۸۵ ۵ / ۵۱۵) حضرت ذوالکفل علیہ الصلوۃ والسلام نبی تھے یا نہیں حضرت ذوالکفل علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت میں اختلاف ہے جمہور علماء کے نزدیک اپ علیہ الصلوۃ والسلام بھی نبی تھے۔(تفسیرکبیر الانبیاء تحت الایۃ: ۸۵ ۸ / ۱۷۷)