Surah 22
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْۚ-اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ(1)
اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو ،بیشک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔
یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(2)
جس دن تم اسے دیکھو گے (تو یہ حالت ہوگی کہ) ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن ہے یہ کہ اللہ کا عذاب بڑا شدید ہے۔
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِـعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍۙ (3)
اور کچھ لوگ وہ ہیں جو اللہ کے بارے میں بغیر علم کے جھگڑتے ہیں اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔
كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ(4)
جس پر یہ لکھ دیا گیا ہے کہ جو اس سے دوستی کرے گا تووہ ضرور اسے گمراہ کردے گا اور اسے جہنم کے عذاب کی راہ بتائے گا۔
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْؕ-وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْۚ-وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْــٴًـاؕ-وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ(5)
اے لوگو! اگر تمہیں قیامت کے دن اُٹھنے کے بارے میں کچھ شک ہو تو(اس بات پر غور کرلو کہ) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر پانی کی ایک بوند سے پھرجمے ہوئے خون سے پھر گوشت کی بوٹی سے جس کی شکل بن چکی ہوتی ہے اور ادھوری بھی ہوتی ہے تاکہ ہم تمہارے لیے اپنی قدرت کو ظاہر فرمائیں اور ہم ماؤں کے پیٹ میں جسے چاہتے ہیں اسے ایک مقرر مدت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر تمہیں بچے کی صورت میں نکالتے ہیں پھر (عمر دیتے ہیں ) تا کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں کوئی پہلے ہی مرجاتا ہے اور کوئی سب سے نکمی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے تاکہ (بالآخر) جاننے کے بعد کچھ نہ جانے اور تو زمین کو مرجھایا ہوا دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تو وہ (تر و تازہ ہوکر)لہلہاتی ہے اور بڑھتی ہے اور وہ ہرقسم کا خوبصورت سبزہ اگاتی ہے۔
ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ (6)
یہ اس لیے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور یہ کہ وہ مردوں کو زندہ کرے گا اور یہ کہ وہ ہرشے پر قادر ہے۔
وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَاۙ-وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ(7)
اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں اور یہ کہ اللہ انہیں اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں۔
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍۙ (8)
اور کوئی آدمی وہ ہے جو اللہ کے بارے میں بغیر علم اور بغیر ہدایت اور بغیر کسی روشن کتاب کے جھگڑتا ہے۔
ثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ(9)
اس حال میں کہ وہ حق سے اپنی گردن موڑے ہوئے ہے تاکہ اللہ کی راہ سے بھٹکا دے ،اس کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اسے آگ کا عذاب چکھائیں گے۔
ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ (10)
یہ اس کا بدلہ ہے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور (اس لیے) کہ اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍۚ- فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ ﰳاطْمَاَنَّ بِهٖۚ- وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ-ﰳانْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ۫ۚ -خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَؕ- ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ(11)
اور کوئی آدمی وہ ہے جو اللہ کی عبادت ایک کنارے پرہو کر کرتاہے پھر اگر اسے کوئی بھلائی پہنچے تو وہ اس پرمطمئن ہوجاتاہے اور اگر اسے کوئی آزمائش آجائے تو منہ کے بل پلٹ جاتا ہے۔ ایسا آدمی دنیا اور آخرت دونوں میں نقصان اٹھاتا ہے۔یہی کھلا نقصان ہے۔
یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗؕ-ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُۚ (12)
وہ اللہ کے سوا اس (بت) کی عبادت کرتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچائے اور نہ اسے نفع دے۔ یہی دور کی گمراہی ہے۔
یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖؕ-لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِیْرُ(13)
وہ اسے پوجتے ہیں جس کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ ہے بیشک وہ کیا ہی برا مولیٰ ہے اور بیشک کیا ہی برا ساتھی ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ(14)
بیشک اللہ ایمان والوں اور نیک اعمال کرنے والوں کو ان باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہیں ۔ بیشک اللہ جوچاہتا ہے کرتا ہے۔
مَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ(15)
جو یہ خیال کرتا ہے کہ اللہ دنیا اور آخرت میں اپنے نبی کی مدد نہیں فرمائے گا تو اسے چاہیے کہ اوپر کی طرف ایک رسی دراز کرلے پھر اپنے آپ کو پھانسی دیدے پھر دیکھے کہ کیا اس کے داؤپیچ نے وہ چیز مٹادی جس پر اسے غصہ آتا ہے۔
وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍۙ-وَّ اَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ(16)
اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو روشن آیتوں کی صورت میں نازل فرمایااور یہ کہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِـٕیْنَ وَ النَّصٰرٰى وَ الْمَجُوْسَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا ﳓ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ(17)
بیشک مسلمان اور یہودی اور ستاروں کی پوجا کرنے والے اور عیسائی اور آگ کی پوجا کرنے والے اور مشرک بیشک اللہ ان سب میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا بیشک اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِؕ-وَ كَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْهِ الْعَذَابُؕ-وَ مَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُؕ۩ (18)
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو آسمانوں میں ہیں اورجو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اورستارے اور تمام پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت سے آدمی یہ سب اللہ کو سجدہ کرتے ہیں اور بہت سے لوگ وہ (بھی)ہیں جن پر عذاب مقرر ہوچکا ہے اور جسے اللہ ذلیل کرے تواسے کوئی عزت دینے والا نہیں، بیشک اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ٘-فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍؕ-یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ (19)
یہ دو فریق ہیں جو اپنے رب کے بارے میں جھگڑتے ہیں تو کافروں کے لیے آگ کے کپڑے کاٹے گئے ہیں اور ان کے سروں پر کھولتا پانی ڈالا جائے گا۔
یُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ وَ الْجُلُوْدُﭤ(20)
جس سے جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہے وہ سب اور ان کی کھالیں جل جائیں گی۔
وَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ(21)
اور ان کے لیے لوہے کے گرز ہیں ۔
كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَاۗ-وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ۠ (22)
جب گھٹن کے سبب اس میں سے نکلنا چاہیں گے توپھر اسی میں لوٹا دیے جائیں گے اور انہیں کہا جائے گا کہ آگ کا عذاب چکھو۔
اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًاؕ-وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ(23)
بیشک اللہ ایمان والوں کو اور نیک اعمال کرنے والوں کو ان باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ۔ انہیں ان باغوں میں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور جنتوں میں ان کا لباس ریشم ہوگا۔
وَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِۚۖ-وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِیْدِ(24)
اور انہیں پاکیزہ بات کی ہدایت دی گئی اور انہیں تمام تعریفوں کے لائق (اللہ ) کا راستہ دکھایا گیا۔
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ ﰳالْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِؕ-وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ (25)
بیشک جنہوں نے کفر کیا اور وہ اللہ کے راستے اور مسجد ِحرام سے روکتے ہیں جسے ہم نے لوگوں کے لیے بنایا ہے، جس میں وہاں کے رہنے والوں اور دور سے آنے والوں کا حق برابر ہے اور جو اس میں ناحق کسی زیادتی کاارادہ کرے گا توہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے۔
وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْــٴًـا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْقَآىٕمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ(26)
اور یاد کرو جب ہم نے ابراہیم کو اس گھر کا صحیح مقام بتا دیا اور حکم دیا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع سجدہ کرنے والوں کیلئے خوب صاف ستھرا رکھو۔
وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ (27)
اور لوگوں میں حج کا عام اعلان کردو ، وہ تمہارے پاس پیدل اور ہر دبلی اونٹنی پر(سوار ہوکر) آئیں گے جوہر دور کی راہ سے آتی ہیں ۔
لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِۚ-فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآىٕسَ الْفَقِیْرَ٘ (28)
تاکہ وہ اپنے فوائد پر حاضر ہوجائیں اور معلوم دنوں میں اللہ کے نام کو یاد کریں اس بات پر کہ اللہ نے انہیں بے زبان مویشیوں سے رزق دیا تو تم ان سے کھاؤ اور مصیبت زدہ محتاج کو کھلاؤ۔
ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ(29)
پھر انہیں چاہیے کہ اپنا میل کچیل اتاریں اور اپنی منتیں پوری کریں اور اس آزاد گھر کا طواف کریں ۔
ذٰلِكَۗ-وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖؕ-وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ (30)
حکمِ الٰہی یہ ہے اور جو اللہ کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرے تو وہ اس کیلئے اس کے رب کے نزدیک بہتر ہے اور تمہارے لیے بے زبان چوپائے حلال کئے گئے سوائے ان کے جن کا (حرام ہونا) تمہارے سامنے بیان کیا جاتا ہے۔ پس تم بتوں کی گندگی سے دور رہو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔
حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖؕ-وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ(31)
ایک اللہ کیلئے ہر باطل سے جدا ہوکر (اور) اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوئے (بتوں سے دور رہو) اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرے وہ گویا آسمان سے گرپڑا تو اسے پرندے اچک لے جاتے ہیں یا ہوا اسے کسی دور کی جگہ پھینک دیتی ہے۔
ذٰلِكَۗ-وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآىٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ(32)
بات یونہی ہے اور جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔
لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۠ (33)
تمہارے لیے ان جانوروں میں ایک مقررہ مدت تک بہت سے فائدے ہیں پھر ان کے ذبح کرنے کی جگہ آزادگھر کے پاس ہے۔
وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِؕ-فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْاؕ-وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ (34)
اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی تا کہ وہ اس بات پر اللہ کا نام یاد کریں کہ اس نے انہیں بے زبان چوپایوں سے رزق دیا تو تمہارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے حضور گردن رکھو اور عاجزی کرنے والوں کیلئے خوشخبری سنادو۔
الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِۙ-وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ(35)
وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر ہوتا ہے توان کے دل ڈرنے لگتے ہیں اور انہیں جو مصیبت پہنچے اس پر صبرکرنے والے ہیں اور نماز قائم رکھنے والے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں ۔
وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآىٕرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ ﳓ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا صَوَآفَّۚ-فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّؕ-كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(36)
اور قربانی کے بڑی جسامت والے جانوروں کو ہم نے تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں میں سے بنایا۔ تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے تو ان پر اللہ کا نام لواس حال میں کہ ان کا ایک پاؤں بندھا ہوا ہو (اور) تین پاؤں پر کھڑے ہوں پھر جب ان کے پہلو گرجائیں تو ان (کے گوشت) سے خود کھاؤ اور قناعت کرنے والے اور بھیک مانگنے والے کو بھی کھلاؤ۔ اِسی طرح ہم نےان جانوروں کو تمہارے قابومیں دے دیا تاکہ تم شکر ادا کرو۔
لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰـكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْؕ-كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْؕ-وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ(37)
اللہ کے ہاں ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اورنہ ان کے خون، البتہ تمہاری طرف سے پرہیزگاری اس کی بارگاہ تک پہنچتی ہے۔ اسی طرح اس نے یہ جانور تمہارے قابو میں دیدئیے تا کہ تم اس بات پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور نیکی کرنے والوں کو خوشخبری دیدو۔
اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠ ٝ (38)
بیشک اللہ مسلمانوں سے بلائیں دور کرتا ہے ۔ بیشک اللہ ہر بڑے بددیانت ، ناشکرے کو پسند نہیں فرماتا۔
اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْاؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُﰳۙ (39)
جن سے لڑائی کی جاتی ہے انہیں اجازت دیدی گئی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے۔
الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُؕ-وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًاؕ-وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ(40)
وہ جنہیں ان کے گھروں سے ناحق نکال دیا گیا صرف اتنی بات پر کہ انہوں نے کہا : ہمارا رب اللہ ہے اور اگر اللہ آدمیوں میں ایک کو دوسرے سے دفع نہ فرماتا تو ضرور عبادت گاہوں اور گرجوں اور کلیساؤں اور مسجدوں کو گرادیا جاتاجن میں اللہ کاکثرت سے ذکر کیا جاتا ہے اور بیشک اللہ اس کی ضرور مدد فرمائے گا جو اس کے دین کی مدد کرے گا، بیشک اللہ ضرورقوت والا، غلبے والا ہے۔
اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِؕ-وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ(41)
وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دیں تو نما زقائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں اور بھلائی کا حکم کریں اور برائی سے روکیں اور اللہ ہی کے قبضے میں سب کاموں کا انجام ہے۔
وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ (42)
اور اگر یہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں تو بیشک ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور ثمود تکذیب کرچکے ہیں ۔
وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ (43)
اور ابراہیم کی قوم اور لوط کی قوم۔
وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَۚ-وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْۚ-فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ(44)
اور مدین والے اور موسیٰ کی تکذیب کی گئی تو میں نے کافرو ں کو ڈھیل دی پھر انہیں پکڑا تو میرا عذاب کیسا ہوا؟
فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ(45)
اور کتنی ہی بستیوں کو ہم نے ہلاک کردیا اور وہ ظالم تھیں تو اب وہ اپنی چھتوں کے بل پر گری پڑی ہیں اور کتنے کنویں بیکار پڑے ہوئے اور کتنے بلندو بالامضبوط محل (ہم نے برباد کردئیے)۔
اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَاۚ-فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰـكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ(46)
تو کیا یہ لوگ زمین میں نہ چلے کہ ان کے دل ہوں جن سے یہ سمجھیں یا کان ہوں جن سے سنیں پس بیشک آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینو ں میں ہیں۔
وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗؕ-وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ(47)
اور یہ تم سے عذاب مانگنے میں جلدی کرتے ہیں اور اللہ ہرگز اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرے گا اور بیشک تمہارے رب کے ہاں ایک دن ایسا ہے جو تم لوگوں کی گنتی کے ہزار سال کے برابر ہے۔
وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَاۚ-وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ (48)
اور کتنی ہی بستیاں ہیں جن کے ظالم ہونے کے باوجود میں نے انہیں ڈھیل دی پھر میں نے انہیں پکڑلیا اور میری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے۔
قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ (49)
تم فرمادو! اے لوگو!میں توصرف تمہارے لیے کھلم کھلاڈر سنانے والا ہوں ۔
فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ(50)
تو جو لوگ ایمان لائے اورانہوں نے نیک اعمال کئے ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔
وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ(51)
اور وہ لوگ جوہماری آیتوں میں ہارجیت کے ارادے سے کوشش کرتے ہیں وہ جہنمی ہیں ۔
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖۚ-فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ (52)
اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول اور نبی بھیجے (ہر ایک کو کبھی نہ کبھی یہ واقعہ پیش آیا کہ) جب اس نے ( اللہ کا کلام) پڑھا تو شیطان نے ان کے پڑھنے میں لوگوں پر کچھ اپنی طرف سے ملادیا تو اللہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو مٹا دیتا ہے پھر اللہ اپنی آیتوں کوپکا کردیتا ہے اور اللہ علم والا، حکمت والا ہے۔
لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْؕ-وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ (53)
تاکہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو ان لوگوں کیلئے فتنہ کردے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں اور بیشک ظالم لوگ دور کے جھگڑے میں پڑے ہوئے ہیں ۔
وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(54)
اور تاکہ جنہیں علم دیا گیا ہے وہ جان لیں کہ یہ (قرآن)تمہارے رب کے پاس سے حق ہے تو اس پر ایمان لائیں تو اس کیلئے ان کے دل جھک جائیں اور بیشک اللہ ایمان والوں کو سیدھی راہ کی طرف ہدایت دینے والا ہے۔
وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ(55)
اور کافر اس سے ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کہ ان پر اچانک قیامت آجائے یا ان پر ایسے دن کا عذاب آئے جس میں ان کیلئے کوئی خیر نہ ہو۔
اَلْمُلْكُ یَوْمَىٕذٍ لِّلّٰهِؕ-یَحْكُمُ بَیْنَهُمْؕ-فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ(56)
اس دن بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے۔ وہ ان میں فیصلہ کردے گاتو ایمان والے اور اچھے کام کرنے والے نعمتوں کے باغات میں ہوں گے۔
وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ (57)
اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کے لیے رسوا کر دینے والا عذاب ہے۔
وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًاؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ(58)
اور وہ جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے گھر بار چھوڑے پھر قتل کردئیے گئے یا خود مرگئے تو اللہ ضرور انہیں اچھی روزی دے گا اور بیشک اللہ سب سے اچھا رزق دینے والا ہے۔
لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ(59)
وہ ضرور انہیں ایسی جگہ داخل فرمائے گا جسے وہ پسند کریں گے اور بیشک اللہ علم والا، حلم والا ہے۔
ذٰلِكَۚ-وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ(60)
بات یونہی ہے اور جو کسی کو ویسی ہی سزا دے جیسی اسے تکلیف پہنچائی گئی تھی پھر (بھی)اس پر زیادتی کی جائے تو بیشک اللہ اس کی مدد فرمائے گا،بیشک اللہ معاف کرنے والا، بخشنے والا ہے۔
ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ(61)
یہ اس لیے ہے اللہ رات کو دن کے حصے میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات کے حصہ میں داخل کرتا ہے اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔
ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ(62)
یہ اس لیے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جس کی لوگ عبادت کرتے ہیں وہی باطل ہے اور اس لیے کہ اللہ ہی بلندی والا،بڑائی والا ہے۔
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً٘-فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةًؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ (63)
کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا تو زمین سرسبز ہوجاتی ہے بیشک اللہ بڑا مہربان، خبردار ہے۔
لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ (64)
جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور بیشک اللہ ہی بے نیاز،تمام تعریفوں کامستحق ہے۔
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖؕ-وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(65)
کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے تمہارے قابومیں کردیا جو کچھ زمین میں ہے اور کشتی کو جو دریا میں اس کے حکم سے چلتی ہے اور وہ آسمان کو روکے ہوئے ہے کہ کہیں زمین پر نہ گر پڑے مگر اس کے حکم سے۔ بیشک اللہ لوگوں پر بڑی مہربانی فرمانے والا،رحم فرمانے والا ہے۔
وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ٘-ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْؕ-اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ(66)
اور وہی ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی پھر وہ تمہیں موت دے گا پھر تمہیں زندہ کرے گابیشک آدمی بڑا ناشکرا ہے۔
لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَؕ-اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ(67)
ہر امت کے لیے ہم نے ایک شریعت بنادی جس پر انہیں عمل کرنا ہے تو ہرگز وہ تم سے اس معاملہ میں جھگڑا نہ کریں اورتم اپنے رب کی طرف بلاؤ بیشک تم سیدھی راہ پر ہو۔
وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ(68)
اور اگر وہ تم سے جھگڑیں تو فرمادو کہ اللہ خوب جانتا ہے جو تم کررہے ہو۔
اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ(69)
اللہ تمہارے درمیان قیامت کے دن اس بات میں فیصلہ کردے گا جس میں تم اختلاف کر رہے ہو۔
اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِؕ-اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍؕ-اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ(70)
کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے بیشک یہ سب ایک کتاب میں ہے بیشک یہ اللہ پربہت آسان ہے۔
وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌؕ-وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ(71)
اور(مشرک) اللہ کے سواان کی عبادت کرتے ہیں جن کی کوئی دلیل اللہ نے نہیں اتاری اور جن کاخود انہیں بھی کچھ علم نہیں اورظالموں کا کوئی مددگار نہیں ۔
وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَؕ-یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَاؕ-قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْؕ-اَلنَّارُؕ-وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْاؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ (72)
اور جب ان پر ہماری روشن آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے تو تم کافروں کے چہروں میں ناپسندیدگی کے آثار دیکھو گے۔ قریب ہے کہ انہیں لپٹ جائیں جو اُن کے سامنے ہماری آیتیں پڑھتے ہیں ۔ تم فرمادو: کیا میں تمہیں وہ چیز بتادوں جو تمہیں اِس سے زیادہ ناپسند ہے؟ وہ آگ ہے۔ اللہ نے کافروں سے اس کا وعدہ کیا ہے اور وہ کیا ہی بری پلٹنے کی جگہ ہے۔
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗؕ-وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْــٴًـا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُؕ-ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ(73)
اے لوگو!ایک مثال بیان کی گئی ہے تو اسے کان لگا کر سنو، بیشک اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ ہرگز ایک مکھی (بھی) پیدا نہیں کرسکیں گے اگرچہ سب اس کیلئے جمع ہوجائیں اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین کرلے جائے تو اس سے چھڑا نہ سکیں گے۔ کتنا کمزورہے چاہنے والا اور وہ جسے چاہا گیا۔
مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ(74)
انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا اس کی قدر کا حق ہے، بیشک اللہ قوت والا، غلبے والاہے۔
اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ (75)
اللہ فرشتوں میں سے اور آدمیوں میں سے رسول چن لیتا ہے، بیشک اللہ سننے والا،دیکھنے والا ہے۔
یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْؕ-وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ(76)
وہ جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور سب کام اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں ۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩ (77)
اے ایمان والو!رکوع اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرواور اچھے کام کرو اس امید پر کہ تم فلاح پاجاؤ۔
وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖؕ-هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍؕ-مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَؕ-هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ ﳔ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ ۚۖ-فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِؕ-هُوَ مَوْلٰىكُمْۚ-فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۠ (78)
اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا اس (کی راہ) میں جہاد کرنے کا حق ہے۔اس نے تمہیں منتخب فرمایا اور تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی جیسے تمہارے باپ ابراہیم کے دین (میں کوئی تنگی نہ تھی)۔ اس نے پہلی کتابوں میں اور اس قرآن میں تمہارا نام مسلمان رکھا ہے تاکہ رسول تم پرنگہبان و گواہ ہو اور تم دوسرے لوگوں پر گواہ ہوجاؤ تو نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کی رسی کومضبوطی سے تھام لو، وہ تمہارا دوست ہے تو کیا ہی اچھا دوست اور کیا ہی اچھا مددگارہے۔

