Surah 23
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ (1)
بیشک ایمان والے کامیاب ہوگئے۔
الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ (2)
جو اپنی نماز میں خشوع و خضوع کرنے والے ہیں۔
وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ (3)
اور وہ جو فضول بات سے منہ پھیرنے والے ہیں۔
وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ (4)
اور وہ جو زکوٰۃ دینے کا کام کرنے والے ہیں ۔
وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ (5)
اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔
اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ (6)
مگر اپنی بیویوں یا شرعی باندیوں پر جو ان کے ہاتھ کی مِلک ہیں پس بیشک ان پر کوئی ملامت نہیں ۔
فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ (7)
تو جو اِن کے سوا کچھ اور چاہے تووہی حد سے بڑھنے والے ہیں۔
وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ (8)
اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے وعدے کی رعایت کرنے والے ہیں ۔
وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَﭥ(9)
اور وہ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔
اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ (10)
یہی لوگ وارث ہیں ۔
الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَؕ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(11)
یہ فردوس کی میراث پائیں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ (12)
اور بیشک ہم نے انسان کو چنی ہوئی مٹی سے بنایا۔
ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّـكِیْنٍ۪ (13)
پھر اس کوایک مضبوط ٹھہراؤ میں پانی کی بوند بنایا۔
ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًاۗ-ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَؕ-فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَﭤ(14)
پھر ہم نے اس پانی کی بوند کوجما ہوا خون بنادیا پھر جمے ہوئے خون کو گوشت کی بوٹی بنادیا پھر گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں بنادیا پھر ہم نے ان ہڈیوں کو گوشت پہنایا، پھر اسے ایک دوسری صورت بنا دیا تو بڑی برکت والا ہے وہ اللہ جوسب سے بہتربنانے والاہے۔
ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَﭤ(15)
پھر اس کے بعد تم ضرور مرنے والے ہو۔
ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ(16)
پھر تم سب قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔
وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآىٕقَ ﳓ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ(17)
اور بیشک ہم نے تمہارے اوپر سات راستے بنائے اور ہم مخلوق سے بے خبر نہیں۔
وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ ﳓ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ (18)
اور ہم نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ پانی اتارا پھر اسے زمین میں ٹھہرایا اور بیشک ہم اسے لے جانے پر قادر ہیں ۔
فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍۘ-لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ (19)
تو اس پانی سے ہم نے تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کئے۔ تمہارے لیے ان باغوں میں بہت سے پھل میوے ہیں اور ان میں سے تم کھاتے ہو۔
وَ شَجَرَةً تَخْرُ جُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ(20)
اور (ہم نے) درخت (پیدا کیا) جو طور سینا پہاڑ سے نکلتا ہے، تیل اور کھانے والوں کے لیے سالن لے کر اگتا ہے۔
وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةًؕ-نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ (21)
اور بیشک تمہارے لیے چوپایوں میں سمجھنے کا مقام ہے، ہم تمہیں اس میں سے پلاتے ہیں جو ان کے پیٹ میں ہے اور تمہارے لیے ان میں بہت فائدے ہیں اور انہی سے تم کھاتے ہو۔
وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠ (22)
اور ان پر اور کشتیوں پرتمہیں سوار کیا جاتا ہے۔
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-اَفَلَا تَتَّقُوْنَ(23)
اور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے فرمایا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تو کیا تم ڈرتے نہیں ۔
فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْۙ-یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْؕ-وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓىٕكَةً ۚۖ-مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآىٕنَا الْاَوَّلِیْنَۚ (24)
تو اس کی قوم کے کافرسرداروں نے کہا:یہ تو تمہارے جیسا ہی ایک آدمی ہے جو چاہتا ہے کہ تم پر بڑا بن جائے اور اگر اللہ چاہتا تو وہ فرشتے اتارتا۔ ہم نے تو یہ اپنے پہلے باپ داداؤں میں نہیں سنی۔
اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ(25)
یہ تو صرف ایک ایسا مرد ہے جس پر جنون (طاری) ہے تو ایک مدت تک اس کاانتظار کرلو۔
قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ(26)
نوح نے عرض کی: اے میرے رب!میری مدد فرما کیونکہ انہوں نے مجھے جھٹلایاہے۔
فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُۙ-فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْۚ-وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْاۚ-اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ(27)
تو ہم نے اس کی طرف وحی بھیجی کہ ہماری نگاہ کے سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی بنا پھر جب ہمارا حکم آئے اور تنور ابل پڑے تو کشتی میں ہر جوڑے میں سے دو اور اپنے گھر والوں کو داخل کرلو سوائے اِن میں سے اُن لوگوں کے جن پر بات پہلے طے ہوچکی ہے اور ان ظالموں کے معاملہ میں مجھ سے بات نہ کرنا،یہ ضرور غرق کئے جانے والے ہیں ۔
فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(28)
پھر جب تم اور تمہارے ساتھ والے کشتی پر ٹھیک بیٹھ جاؤ تو تم کہناتمام تعریفیں اس اللہ کیلئے جس نے ہمیں ان ظالموں سے نجات دی۔
وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ(29)
اور عرض کرنا: اے میرے رب !مجھے برکت والی جگہ اتار دے اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے۔
اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ(30)
بیشک اس میں ضرو ر نشانیاں ہیں اور بیشک ہم ضرور آزمانے والے تھے۔
ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَۚ (31)
پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری قوم پیدا کی۔
فَاَرْسَلْنَا فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۠ (32)
تو ہم نے ان میں ایک رسول انہیں میں سے بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تو کیا تم ڈرتے نہیں ؟
وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۙ-مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْۙ-یَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ یَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَﭪ (33)
اور اس کی قوم کے وہ سردار بولے جنہوں نے کفرکیااورآخرت کی ملاقات کو جھٹلایا اور ہم نے انہیں دنیا کی زندگی میں خوشحالی عطا فرمائی (بولے:) یہ تو تمہارے جیسا ہی ایک آدمی ہے، جو تم کھاتے ہو اسی میں سے یہ کھاتا ہے اور جو تم پیتے ہو اسی میں سے یہ پیتا ہے۔
وَ لَىٕنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ (34)
اور اگر تم کسی اپنے جیسے آدمی کی اطاعت کرو گے جب تو تم ضرور خسارہ پانے والے ہوگے۔
اَیَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَﭪ (35)
کیا تمہیں یہ وعدہ دیتا ہے کہ تم جب مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے( اس کے بعد پھر) تم نکالے جاؤ گے۔
هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَﭪ (36)
جو وعدہ تم سے کیا جارہا ہے وہ بہت دور ہے وہ بہت دور ہے۔
اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَﭪ (37)
زندگی تو صرف ہماری دنیا کی زندگی ہے، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہم اٹھائے جانے والے نہیں ہیں ۔
اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ-ﰳافْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِیْنَ(38)
یہ تو صرف ایک ایسا مرد ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھاہے اور ہم اس کا یقین کرنے والے نہیں ہیں۔
قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ(39)
عرض کی: اے میرے رب !میری مدد فرماکیونکہ انہوں نے مجھے جھٹلایاہے۔
قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ (40)
اللہ نے فرمایا: تھوڑی دیر میں یہ پچھتانے والے ہوجائیں گے۔
فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءًۚ-فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(41)
تو سچی چنگھاڑ نے انہیں پکڑ لیا تو ہم نے انہیں سوکھی گھاس کوڑا بنادیا تو ظالم لوگوں کیلئے دوری ہو۔
ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَﭤ(42)
پھر ان کے بعد ہم نے دوسری بہت سی قومیں پیدا کیں ۔
مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَﭤ(43)
کوئی امت اپنی مدت سے نہ پہلے جاتی ہے اور نہ وہ پیچھے رہتے ہیں ۔
ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَاؕ-كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَۚ-فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ(44)
پھر ہم نے لگاتار اپنے رسول بھیجے۔ جب کبھی کسی امت کے پاس اس کا رسول آیا توانہوں نے اسے جھٹلایا تو ہم نے ایک کو دوسرے سے ملادیا اور انہیں داستانیں بنا ڈالا تو ایمان نہ لانے والے دور ہوں۔
ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ ﳔ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ (45)
پھر ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی آیتوں اور روشن دلیل کے ساتھ بھیجا۔
اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىٕهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَۚ (46)
فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ غلبہ پائے ہوئے لوگ تھے۔
فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ (47)
تو کہنے لگے: کیا ہم اپنے جیسے دو آدمیوں پرایمان لے آئیں حالانکہ ان کی قوم ہماری اطاعت گزار ہے۔
فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ(48)
تو انہوں نے ان دونوں کو جھٹلایا تو ہلاک کئے جانے والوں میں سے ہوگئے۔
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ(49)
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی تاکہ (بنی اسرائیل) ہدایت پاجائیں ۔
وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ۠ (50)
اور ہم نے مریم اور اس کے بیٹے کو نشانی بنادیا اور انہیں ایک بلند،رہائش کے قابل اور آنکھوں کے سامنے بہتے پانی والی سرزمین میں ٹھکانہ دیا۔
یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًاؕ-اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌﭤ(51)
اے رسولو!پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو، بیشک میں تمہارے کاموں کو جانتا ہوں ۔
وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ(52)
اور بیشک یہ تمہارا دین ایک ہی دین ہے اور میں تمہارا رب ہوں تو مجھ سے ڈرو۔
فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًاؕ-كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ(53)
تو ان کی امتوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا، ہرگروہ اس پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔
فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ(54)
تو تم انہیں ایک مدت تک ان کی گمراہی میں چھوڑ دو۔
اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ (55)
کیا یہ خیال کررہے ہیں کہ وہ جو ہم مال اور بیٹوں کے ساتھ ان کی مدد کررہے ہیں ۔
نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِؕ-بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(56)
تو یہ ہم ان کیلئے بھلائیوں میں جلدی کررہے ہیں ؟ بلکہ انہیں خبر نہیں۔
اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ (57)
بیشک وہ جو اپنے رب کے ڈر سے خوفزدہ ہیں ۔
وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ (58)
اور وہ جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان لاتے ہیں ۔
وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ (59)
اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ (کسی کو)شریک نہیں کرتے۔
وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ (60)
اور وہ جنہوں نے جو کچھ دیا وہ اس حال میں دیتے ہیں کہ ان کے دل اس بات سے ڈر رہے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔
اُولٰٓىٕكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ(61)
یہ لوگ بھلائیوں میں جلدی کرتے ہیں اور یہی بھلائیوں کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں ۔
وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(62)
اور ہم کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں رکھتے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو حق بیان کرتی ہے اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔
بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ(63)
بلکہ کافروں کے دل اس قرآن سے غفلت میں ہیں اور کافروں کے کام ان اعمال کے علاوہ ہیں جنہیں یہ کررہے ہیں ۔
حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْــٴَـرُوْنَﭤ(64)
یہاں تک کہ جب ہم نے ان کے خوشحال لوگوں کو عذاب میں پکڑا تو جبھی وہ فریاد کرنے لگے۔
لَا تَجْــٴَـرُوا الْیَوْمَ۫-اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ(65)
آج فریاد نہ کرو، بیشک ہماری طرف سے تمہاری مدد نہیں کی جائے گی۔
قَدْ كَانَتْ اٰیٰـتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ (66)
بیشک میری آیات کی تمہارے سامنے تلاوت کی جاتی تھی تو تم اپنی ایڑیوں کے بل الٹے پلٹتے تھے۔
مُسْتَكْبِرِیْنَ ﳓ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ(67)
خانہ کعبہ کی خدمت پر ڈینگیں مارتے، رات کوالٹی سیدھی باتیں ہانکتے،( حق) کو چھوڑتے ہوئے۔
اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘ (68)
کیا اُنہوں نے قرآن میں غور و فکر نہیں کیا ؟یا کیا اُن کے پاس وہ آیا جو اُن کے باپ دادا کے پاس نہ آیا تھا؟
اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ (69)
یاکیا اُنہوں نے اپنے رسول کو پہچانانہیں ہے؟ تو وہ اس کا انکار کررہے ہیں۔
اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌؕ-بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ(70)
یا وہ کہتے ہیں کہ اس رسول پر جنون طاری ہے بلکہ وہ تو ان کے پاس حق کے ساتھ تشریف لائے ہیں اور ان کافروں میں اکثر حق کو ناپسند کرنے والے ہیں۔
وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّؕ-بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَﭤ(71)
اور اگر حق ان کی خواہشوں کی پیروی کرتا تو ضرور آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں سب تباہ ہوجاتے بلکہ ہم تو ان کے پاس ان کی نصیحت لائے ہیں تو وہ اپنی نصیحت ہی سے منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔
اَمْ تَسْــٴَـلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ ﳓ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ(72)
کیا تم ان سے کچھ اجرت مانگتے ہو؟ تو تمہارے رب کا اجر سب سے بہتر ہے اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والاہے۔
وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍٛ (73)
اور بیشک تم انہیں سیدھی راہ کی طرف بلاتے ہو۔
وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ(74)
اور بیشک جو آخرت پر ایما ن نہیں لاتے وہ ضرور سیدھی راہ سے کترائے ہوئے ہیں ۔
وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ(75)
اور اگر ہم ان پر رحم فرماتے اور جو مصیبت ان پر پڑی تھی وہ ٹال دیتے تو یہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے ہوئے ضرور ڈھیٹ پن کرتے۔
وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ(76)
اور بیشک ہم نے انہیں عذاب میں گرفتار کردیا تو وہ نہ تب اپنے رب کے حضور جھکے اور نہ ہی (اب) عاجزی کررہے ہیں ۔
حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ (77)
یہاں تک کہ جب ہم اُن پرکسی سخت عذاب والادروازہ کھولتے ہیں تو اس وقت وہ اس میں ناامید پڑے ہوتے ہیں ۔
وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْـٕدَةَؕ-قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ(78)
اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے، تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو۔
وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ(79)
اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف تمہیں اٹھایاجائے گا۔
وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(80)
اور وہی زندگی دیتا ہے اوروہی موت دیتا ہے، رات اور دن کا تبدیل ہونااسی کے اختیار میں ہے۔ توکیا تم سمجھتے نہیں ؟
بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ(81)
بلکہ انہوں نے وہی بات کہی جو پہلے والے کہتے تھے۔
قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ(82)
انہوں نے کہا تھا : کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے توکیا پھر ہم اٹھائے جائیں گے؟
لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ(83)
بیشک ہمیں اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا کو یہ وعدہ دیا گیا، یہ تو صرف پہلے لوگوں کی جھوٹی داستانیں ہیں ۔
قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(84)
تم فرماؤ : زمین اور جو کچھ اس میں ہے وہ سب کس کا ہے؟ اگر تم جانتے ہو۔
سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِؕ-قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ(85)
اب کہیں گے کہ اللہ کا۔تم فرماؤ: توکیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟
قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ(86)
تم فرماؤ: ساتوں آسمانوں کا مالک اور عرشِ عظیم کا مالک کون ہے؟
سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِؕ-قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ(87)
اب کہیں گے: یہ سب اللہ ہی کاہے۔ تم فرماؤ: توکیا تم ڈرتے نہیں؟.
قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(88)
ہر چیز کی ملکیت کس کے ہاتھ میں ہے؟ اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے خلاف پناہ نہیں دی جاسکتی، اگر تمہیں علم ہے۔
سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِؕ-قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ(89)
اب کہیں گے: یہ (ملکیت) اللہ ہی کیلئے ہے۔ تم فرماؤ:تو کیسے جادو کے فریب میں پڑے ہو؟
بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ(90)
بلکہ ہم ان کے پاس حق لائے اور وہ بیشک جھوٹے ہیں ۔
مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍؕ-سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ (91)
اللہ نے کوئی بچہ اختیار نہ کیا اور نہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا معبودہے۔ اگر ایسا ہوتا توہر معبود اپنی مخلوق لے جاتا اور ضرور ان میں سے ایک دوسرے پر بڑائی و غلبہ چاہتا۔ اللہ ان باتوں سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں۔
عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ (92)
۔ (وہ اللہ ) ہر پوشیدہ اور ظاہر بات کا جاننے والا ہے تو وہ اس سے بلند ہے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں ۔
قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ (93)
تم عرض کرو: اے میرے رب! اگر تو مجھے وہ دکھادے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔
رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(94)
تو اے میرے رب! مجھے ان ظالموں میں (شامل) نہ کرنا۔
وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ(95)
اور بیشک ہم اس پرقادر ہیں کہ تمہیں وہ دکھادیں جس کا ہم انہیں وعدہ دے رہے ہیں ۔
اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَؕ-نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ(96)
سب سے اچھی بھلائی سے برائی کو دفع کرو۔ ہم خوب جانتے ہیں جو باتیں یہ کررہے ہیں ۔
وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ (97)
اور تم عرض کرو: اے میرے رب!میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ(98)
اور اے میرے رب!میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ وہ شیطان میرے پاس آئیں ۔
حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ (99)
یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آتی ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے رب! مجھے واپس لوٹا دے۔
لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّاؕ-اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآىٕلُهَاؕ-وَ مِنْ وَّرَآىٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ(100)
جس دنیا کو میں نے چھوڑدیا ہے شاید اب میں اس میں کچھ نیک عمل کرلوں ۔ ہرگز نہیں ! یہ تو ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے اور ان کے آگے ایک رکاوٹ ہے اس دن تک جس دن وہ اٹھائے جائیں گے۔
فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَىٕذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ(101)
تو جب صُورمیں پھونک ماری جائے گی تو نہ ان کے درمیان رشتے رہیں گے اور نہ ایک دوسرے کی بات پوچھیں گے۔
فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(102)
تو جن کے پلڑے بھاری ہوں گے تو وہی کامیاب ہونے والے ہوں گے۔
وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ (103)
اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے تو یہ وہی ہوں گے جنہوں نے اپنی جانوں کو نقصان میں ڈالا، (وہ) ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔
تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ(104)
ان کے چہروں کو آگ جلادے گی اور وہ اس میں منہ چڑائے ہوں گے۔
اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ(105)
کیا تم پر میری آیتیں نہ پڑھی جاتی تھیں ؟ تو تم انہیں جھٹلاتے تھے۔
قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ(106)
وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم پر ہماری بدبختی غالب آئی اور ہم گمراہ لوگ تھے۔
رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ(107)
اے ہمارے رب! ہمیں دوزخ سے نکال دے پھر اگر ہم ویسے ہی کریں تو بیشک ہم ظالم ہوں گے۔
قَالَ اخْسَــٴُـوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ(108)
اللہ فرمائے گا: دھتکارے ہوئے جہنم میں پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔
اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَﭕ(109)
بیشک میرے بندوں کا ایک گروہ کہتا تھا: اے ہمارے رب!ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔
فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ(110)
تو تم نے انہیں مذاق بنالیا یہاں تک کہ ان لوگوں کا مذاق اڑانے نے تمہیں میری یاد بھلا دی اور تم ان سے ہنسا کرتے تھے۔
اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤاۙ-اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ(111)
بیشک آج میں نے ان کے صبر کا انہیں یہ بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہیں ۔
قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ(112)
اللہ فرمائے گا : تم زمین میں سالوں کی گنتی کے اعتبار سے کتنا عرصہ ٹھہرے ہو؟
قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْــٴَـلِ الْعَآدِّیْنَ(113)
وہ کہیں گے: ہم ایک دن رہے یاایک دن کا بھی کچھ حصہ ٹھہرے ہیں تو گننے والوں سے دریافت فرما۔
قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(114)
فرمائے گا: تم بہت تھوڑا ہی ٹھہرے ہو، اگرتم جانتے۔
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ(115)
تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے؟
فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ(116)
تووہ اللہ بہت بلندی والا ہے جو سچا بادشاہ ہے، اس کے سواکوئی معبود نہیں ، وہ عزت والے عرش کا مالک ہے۔
وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَۙ-لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖۙ-فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖؕ-اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ(117)
اور جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی عبادت کرے جس کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں تو اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہی ہے، بیشک کافرفلاح نہیں پائیں گے۔
وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ (118)
اور تم عرض کرو، اے میرے رب! بخش دے اور رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔

