Surah An Noor Ayat 34 (24:34)
The Light · Juz 18 · Madani
وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ 34
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں اور تم سے پہلے لوگوں کا حال اور ڈر والوں کے لیے نصیحت نازل فرمائی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک ہم نے اُتاریں تمہاری طرف روشن آیتیں اور کچھ ان لوگوں کا بیان جو تم سے پہلے ہو گزرے اور ڈر والوں کے لیے نصیحت۔
Tafseer (Urdu)
{و لقد انزلنا: اور بیشک ہم نے اتاریں ۔} اس ایت میں اللہ تعالی نے قران پاک کے تین اوصاف بیان فرمائے ہیں : (1)…قران پاک کی ایتیں روشن اور مفصل ہیں ۔ (2)…اس میں سابقہ لوگوں کی مثالیں ہیں ۔اس کا ایک معنی یہ ہے کہ جس طرح تورات اور انجیل میں حدود قائم کرنے کے احکام دئیے گئے اسی طرح قران مجید میں بھی دئیے گئے ہیں ۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ سابقہ امتوں میں اللہ تعالی کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے جن پر عذاب نازل ہوا ان کا ذکر قران پاک میں ہے اور اسے ہم نے تمہارے لئے مثال بنا دیا تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ اگر تم نے اللہ تعالی کی نافرمانی کرنے میں ان کی روش اختیار کی تو تم پر بھی ویسا ہی عذاب نازل ہو سکتا ہے۔ (3)…متقین کے لئے نصیحت ہے۔ متقین کا بطور خاص ا س لئے ذکر فرمایا کہ قران کی نصیحت سے یہی فائدہ حاصل کرتے ہیں۔(تفسیرکبیر النور تحت الایۃ: ۳۴ ۸ / ۳۷۸) قران مجید سے نصیحت حاصل کرنے کی ترغیب: اس ایت سے معلوم ہو اکہ قران مجید نصیحت حاصل کرنے کا بہت بڑ اذریعہ ہے اور ا س کی برکت سے دلوں کی سختی دور ہو جاتی دلوں پر چڑھا ہواگناہوں کا زنگ ختم ہوجاتا اور خشک انکھوں سے اللہ تعالی کے خوف کے سبب انسو رواں ہو جاتے ہیں ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہےنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’یہ دل ایسے زنگ آلود ہوتے رہتے ہیں جیسے لوہا پانی لگنے سے زنگ آلود ہوجاتا ہے۔ عرض کی گئی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان دلوں کی صفائی کیا ہےارشاد فرمایا: موت کی زیادہ یاد اور قرآن کریم کی تلاوت۔( شعب الایمان التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ فصل فی ادمان تلاوتہ ۲ / ۳۵۲ الحدیث: ۲۰۱۴) لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ موت کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ قران مجید کی تلاوت کرے اور سنے قران کریم کو سمجھنے کی کوشش کرے اس کی نصیحتوں کو قبول کرے اور ظاہری و باطنی اعمال اور دیگر چیزوں سے متعلق اس کے دئیے ہوئے احکامات پر عمل کرے۔