Surah An Noor Ayat 60 (24:60)
The Light · Juz 18 · Madani
وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍؕ-وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّؕ-وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ 60
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاورگھروں میں بیٹھ رہنے والی وہ بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی کوئی خواہش نہیں ان پر کچھ گناہ نہیں کہ اپنے اوپر کے کپڑے اُتار رکھیں جبکہ زینت کو ظاہر نہ کررہی ہوں اور اِن کا اس سے بھی بچنا ان کے لیے سب سے بہتر ہے اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بوڑھی خانہ نشین عورتیں جنہیں نکاح کی آرزو نہیں ان پر کچھ گناہ نہیں کہ اپنے بالائی کپڑے اُتار رکھیں جب کہ سنگار نہ چمکائیں اور اس سے بھی بچنا ان کے لیے اور بہتر ہے، اور اللہ سنتا جانتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و القواعد من النسآء: اورگھروں میں بیٹھ رہنے والی بوڑھی عورتیں ۔} ا س ایت میں بوڑھی عورتوں کے بارے میں فرمایا گیاکہ ایسی بوڑھی عورتیں جن کی عمر زیادہ ہو چکی ہو اور ان سے اولاد پیدا ہونے کی امید نہ رہی ہو اور عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے انہیں نکاح کی کوئی خواہش نہ ہو تو ان پر کچھ گناہ نہیں کہ وہ اپنے اوپر کے کپڑے یعنی اضافی چادر وغیرہ اتار کر رکھ دیں جبکہ وہ اپنی زینت کی جگہوں مثلا بال سینہ اورپنڈلی وغیرہ کو ظاہر نہ کررہی ہوں اور ان بوڑھی عورتوں کا اس سے بھی بچنا اور اضافی چادر وغیرہ پہنے رہنا ان کے لیے سب سے بہترہے اور اللہ تعالی سننے والا جاننے والاہے۔( مدارک النور تحت الایۃ: ۶۰ ص۷۹۰ ملخصا) مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ حکم ایسی بوڑھی عورتوں کے لئے ہے جنہیں دیکھنے سے مردوں کو شہوت نہ ائے اگر بڑھاپے کے باوجود عورت کا اتنا حسن وجمال قائم ہے کہ اسے دیکھنے سے شہوت اتی ہو تو وہ ا س ایت کے حکم میں داخل نہیں ۔( خازن النور تحت الایۃ: ۶۰ ۳ / ۳۶۲) فتوے پر عمل کرنے سے تقوے پر عمل کرنا زیادہ اولی ہے : اس ایت سے معلوم ہو اکہ جب کسی کام میں فتنے کا اندیشہ باقی نہ رہے تو شریعت ا س کے حکم میں سختی ختم کر دیتی ہے اور ا س کے معاملے میں اسان حکم اور کچھ رخصت دے دیتی ہےالبتہ اس رخصت و اجاز ت کے باوجود تقو ی و پرہیزگاری کی وجہ سے اسی سابقہ حکم پر عمل کرنا زیادہ بہتر ہے۔