Surah Ash Shura Ayat 129 (26:129)
The Poets · Juz 19 · Makki
وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ 129
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور مضبوط محل بناتے ہو اس امید پر کہ تم ہمیشہ رہوگے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور مضبوط محل چنتے ہو اس امید پر کہ تم ہمیشہ رہوگے۔
Tafseer (Urdu)
{و تتخذون: اور بناتے ہو۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی دو ایات میں قوم عاد کے دو اورمعمولات کے بارے میں حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام ذکر ہوا چنانچہ حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی قوم سے فرمایا: ’’تم اس امید پر مضبوط محل بناتے ہو کہ تم ہمیشہ رہوگے اور کبھی مرو گے نہیں اور جب کسی پر گرفت کرتے ہو تو بڑی بیدردی کے ساتھ تلوار سے قتل کرکے اوردرے مار کرانتہائی بے رحمی سے گرفت کرتے ہو تو تم اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرو اور ان کاموں کو چھوڑ دو اور میں تمہیں اللہ تعالی کی وحدانیت پر ایمان لانے اور عدل و انصاف وغیرہ کی دعوت دے رہا ہوں اس میں میری اطاعت کرو۔(خازن الشعراءتحت الایۃ:۱۲۹-۱۳۱۳ / ۳۹۲ روح البیانالشعراءتحت الایۃ:۱۲۹-۱۳۱۶ / ۲۹۵-۲۹۶ملتقطا) نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے مکانات کی سادگی: اس ایت میں قوم عاد کے مضبوط محلات بنانے کا ذکر ہوا فی زمانہ بھی لوگوں کی عمومی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ انتہائی خوبصورتمضبوط اور بڑا گھر بنائیں ۔جائز ذرائع اور حلال مال سے اس خواہش کو پورا کرنا اگرچہ جائز ہے لیکن اگر ضرورت کے مطابق مناسب ساگھر بنایا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔دو جہاں کے سردار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ان کے پیارے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے مکانات کی سادگی ملاحظہ ہو چنانچہ سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مسجد نبوی کے متصل ہی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن کے لئے مکانات بنوائے تھے۔ ان مکانات کی سادگی کا عالم یہ تھا کہ صرف دس دس گز لمبے اور چھ چھسات سات گز چوڑے تھے کچی اینٹوں کی دیواریں کھجور کی پتیوں کی چھت اوروہ بھی اتنی نیچی کہ آدمی کھڑا ہو کر چھت کو چھو لیتا دروازوں میں لکڑی کے تختوں کی بجائے کمبل یا ٹاٹ کے پردے پڑے رہتے تھے۔( شرح الزرقانی ذکر بناء المسجد النبوی وعمل المنبر ۲ / ۱۸۵ ملخصا) تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے لئے بھی مکانات کی شان و شوکت پسند نہ فرماتے اور اگر کوئی شاندار مکان تعمیر کرتا یا اپنے مکان کی تزئین و ارائش میں مصروف ہوتا تو ا س کی تربیت فرماتے چنانچہ ایک بار اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ایک راستے سے گزرے راستے میں ایک اونچا سا گنبد (نما مکان) دیکھا تو فرمایا: ’’یہ کس کا ہے لوگوں نے ایک انصاری کا نام بتایا اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو یہ شان وشوکت ناگوار ہوئی مگر اس کا اظہار نہیں فرمایا کچھ دیر کے بعد انصاری بزرگ ائے اور سلام کیا لیکن اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے رخ انور پھیر لیا باربار یہ واقعہ پیش ایا تو انہوں نے دوسرے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم سے حضور صلی اللہ تعالی علیہ و الہ وسلم کی ناراضگی کاذکر کیا جب سبب معلوم ہو ا تو انہوں نے اس قبے کو گرا کر زمین کے برابر کردیا۔(ابو داود کتاب الادب باب ما جاء فی البناء ۴ / ۴۶۰ الحدیث: ۵۲۳۷) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں ’’نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میرے پاس سے اس وقت گزرے جب میں اور میری والدہ دیوار کی لپائی کر رہے تھے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ’’اے عبداللہ! رضی اللہ تعالی عنہ یہ کیا کر رہے ہومیں نے عرض کی ’’یا رسول اللہ !صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم میں دیوار کو درست کر رہا ہوں ۔تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’موت ا س سے زیادہ قریب ہے۔( ابو داود کتاب الادب باب ما جاء فی البناء ۴ / ۴۵۹ الحدیث: ۵۲۳۵)