Surah Ash Shura Ayat 137 (26:137)
The Poets · Juz 19 · Makki
اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَ 137
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہ تو صرف پہلے لوگوں کی بنائی ہوئی جھوٹی باتیں ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیہ تو نہیں مگر وہی اگلوں کی رِیت۔
Tafseer (Urdu)
{ ان هذا: یہ تو نہیں ۔} اس ایت کا ایک معنی یہ ہے کہ قوم نے کہا: جن چیزوں کا آپ نے خوف دلایا یہ پہلے لوگوں کی باتیں ہیں وہ بھی ایسی ہی باتیں کہا کرتے تھے۔ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ ہم ان باتوں کا اعتبار نہیں کرتے اورانہیں جھوٹ جانتے ہیں ۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ قوم نے کہا:ہماری یہ موت و حیات اور ہماراعمارتیں بنانا پہلوں کے طریقہ پر ہے یعنی جس طرح وہ زندہ تھے اسی طرح ہم زندہ ہیں جس طرح وہ مر گئے اسی طرح ہم بھی مر جائیں گے اور جس طرح وہ عمارتیں بنایا کرتے تھے اسی طرح ہم بھی عمارتیں بنا رہے ہیں تو یہ مرنا جینا اور عمارتیں بنانا کوئی نئی بات نہیں بلکہ ایسا تو شروع سے ہوتا ا رہا ہے۔( جلالین الشعراء تحت الایۃ: ۱۳۷ ص۳۱۴ تفسیرکبیر الشعراء تحت الایۃ: ۱۳۷ ۸ / ۵۲۳ مدارک الشعراء تحت الایۃ:۱۳۷ ص۸۲۷ ملتقطا) {و ما نحن: اور ہمیں نہیں ۔} قوم نے مزید یہ کہا کہ ہمارے اعمال اور ہماری عادات پر دنیا میں ہمیں عذاب نہیں دیا جائے گا اور نہ مرنے کے بعد ہمیں اٹھنا ہے اور نہ آخرت میں حساب دینا ہے۔( روح البیان الشعراء تحت الایۃ: ۱۳۸ ۶ / ۲۹۶ مدارک الشعراء تحت الایۃ: ۱۳۸ ص۸۲۷ ملتقطا)