Surah Ash Shura Ayat 201 (26:201)
The Poets · Juz 19 · Makki
لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ 201
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہ اس پر ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہ اس پر ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ دیکھیں دردناک عذاب۔
Tafseer (Urdu)
{لا یؤمنون به: وہ اس پر ایمان نہ لائیں گے۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی دو ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار مکہ قران پر ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ ان پر اچانک عذاب ا جائے گا اور انہیں ا س کی خبر بھی نہ ہوگی اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو حسرت زدہ ہو کر کہیں گے ’’کیا ہمیں کچھ مہلت ملے گی اگرچہ پلک جھپکنے کے برابر ہی سہی تاکہ ہم ا یمان لے ا ئیں ان سے کہا جائے گا:اب تم سے عذاب موخر ہو گا اور نہ تمہیں کوئی مہلت ملے گی۔(جمل الشعراء تحت الایۃ: ۲۰۱-۲۰۳ ۵ / ۴۱۰) {افبعذابنا: تو کیا ہمارے عذاب کو۔} جب نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کفار کو اس عذاب کی خبر دی تو وہ مذاق اڑانے کے طور پر کہنے لگے کہ یہ عذاب کب آئے گا اس پر اللہ تبارک وتعالی نے ارشاد فرمایا کہ کیا وہ ہمارے عذاب کو جلدی مانگتے ہیں مراد یہ ہے کہ عذاب دیکھ کرکفار کا حال تو یہ ہو گا کہ وہ مہلت مانگتے پھریں گے اس کے باوجود وہ دنیا میں عذاب نازل ہونے کی جلدی مچا رہے ہیں ان کے دونوں طریقوں میں کتنا فرق ہے۔(خازن الشعراء تحت الایۃ: ۲۰۴ ۳ / ۳۹۶ تفسیرکبیر الشعراء تحت الایۃ: ۲۰۴ ۸ / ۵۳۴ ملتقطا)