Surah Ash Shura Ayat 25 (26:25)
The Poets · Juz 19 · Makki
قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ 25
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attari۔ (فرعون نے) اپنے آس پاس والوں سے کہا: کیا تم غور سے نہیں سن رہے؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاپنے آس پاس والوں سے بولا کیا تم غور سے سنتے نہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{قال: کہا۔} اس ایت اوربعدوالی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ فرعون کے اس پاس اس کی قوم کے سرداروں میں سے پانچ سو شخص زیوروں سے آراستہ زریں کرسیوں پر بیٹھے تھے اور حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا جواب سن کر تعجب کرتے ہوئے فرعون نے ان سے کہا’’ کیا تم غور سے نہیں سنتے‘‘اس کا مطلب یہ تھا کہ میں نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے سارے جہان کے رب کی ماہیت پوچھی ہے اور یہ اس کے جواب میں اس کے افعال اور اثار بتا رہے ہیں اور بعض مفسرین کے نزدیک فرعون کا یہ کہنااس معنی میں تھا کہ وہ لوگ آسمان اور زمین کو قدیم سمجھتے تھے اور ان کے حادث ہونے کا انکار کرتے تھے اور مطلب یہ تھا کہ جب یہ چیزیں قدیم ہیں تو ان کے لئے رب کی کیا حاجت ہے۔یہ صورت حال دیکھ کر حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے ان چیزوں سے استدلال پیش کر نے کی ضرورت محسوس فرمائی جن کا حادث ہونا اور جن کا فنا ہو جانا ان کے مشاہدہ میں آ چکا تھا چنانچہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اگر تم دوسری چیزوں سے استدلال نہیں کرسکتے تو خود تمہاری جانوں سے استدلال پیش کیا جاتا ہےسنو!تم لوگ اپنے آپ کے بارے میں جانتے ہو کہ پیدا ہوئے ہو اور اپنے باپ دادا کے بارے میں جانتے ہو کہ وہ فنا ہوگئے تو تمہاری اپنی پیدائش اور تمہارے باپ دادا کے فنا ہو جانے میں اس رب تعالی کے وجود کا ثبوت موجود ہے جو پیدا کرنے والا اور فنا کر دینے والا ہے۔( خازن الشعراء تحت الایۃ: ۲۵-۲۶ ۳ / ۳۸۵ مدارک الشعراء تحت الایۃ: ۲۵-۲۶ ص۸۱۷ ملتقطا)