Surah Ash Shura Ayat 45 (26:45)
The Poets · Juz 19 · Makki
فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَﭕ 45
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو موسیٰ نے اپنا عصا (زمین پر) ڈالا توجبھی وہ ان کی جعلسازیوں کو نگلنے لگا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا جبھی وہ ان کی بناوٹوں کو نگلنے لگا۔
Tafseer (Urdu)
{ فالقى موسى عصاه: تو موسی نے اپنا عصا ڈالا۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی تین ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب جادو گروں نے رسیاں ڈال دیں توحضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالی کے حکم سے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ اسی وقت بہت بڑا سانپ بن کران رسیوں اور لاٹھیوں کو نگلنے لگا جو جادو کی وجہ سے اژدھے بن کر دوڑتے نظر آرہے تھےجب وہ ان سب کو نگل گیا اور اس کے بعدحضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے اپنے دست مبارک میں لیا تو وہ پہلے کی طرح عصا تھا۔ جادوگروں نے جب یہ منظر دیکھا تو انہیں یقین ہوگیا کہ یہ جادو نہیں ہے اور یہ دیکھنے کے بعد ان پر ایسااثر ہوا کہ وہ بے اختیار اللہ تعالی کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو گئے اور یوں لگتا تھا جیسے کسی نے انہیں پکڑ کر سجدے میں گرا دیا ہوپھر جادو گروں نے سچے دل سے کہا: ہم ا س پر ایمان لائے جو سارے جہان کا رب عزوجل ہے اور جو حضرت موسی اور حضرت ہارون علیہما الصلوۃ والسلام کا رب عزوجل ہے۔(خازن الشعراء تحت الایۃ: ۴۵-۴۸ ۳ / ۳۸۶ روح البیان الشعراء تحت الایۃ: ۴۵-۴۸ ۶ / ۲۷۳-۲۷۴ ملتقطا)