Surah Ash Shura Ayat 77 (26:77)
The Poets · Juz 19 · Makki
فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّیْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ 77
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک وہ سب میرے دشمن ہیں سوائے سارے جہانوں کے پالنے والے کے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک وہ سب میرے دشمن ہیں مگر پروردگارِ عالم۔
Tafseer (Urdu)
{فانهم عدو لی: بیشک وہ سب میرے دشمن ہیں ۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی 4ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے مزید فرمایا: ’’بیشک وہ سب بت میرے دشمن ہیں میں گوارانہیں کرسکتا کہ میں یا کوئی دوسرا ان کی عبادت کرے البتہ پروردگار عالم وہ ہستی ہے جومیرا رب عزوجل ہے میں صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں کیونکہ وہی عبادت کا مستحق ہے اور اس کے اوصاف یہ ہیں کہ وہ مجھے عدم سے وجود میں لایا اور اپنی طاعت کے لئے بنایا تو وہی میری رہنمائی کرتا ہے اور مجھے ہدایت پر رکھتا ہے اور وہی مجھے اپنا خلیل بننے کے اداب کی ہدایت دے گا جیساکہ پہلے دین و دنیا کی مصلحتوں کی ہدایت فرما چکا ہے وہی مجھے کھلاتا پلاتا ہے اور مجھے روزی دینے والا ہےجب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی میرے امراض دور کر کے مجھے شفا دیتا ہے اور وہی مجھے وفات دے گا پھر اخرت میں مجھے زندہ کرے گا کیونکہ موت اور زندگی اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔( خازن الشعراء تحت الایۃ: ۷۷-۸۱ ۳ / ۳۸۹ جلالین الشعراء تحت الایۃ: ۷۷-۸۱ ص۳۱۲ مدارک الشعراء تحت الایۃ:۷۷-۸۱ ص۸۲۲ ملتقطا) {و اذا مرضت: اور جب میں بیمار ہوں ۔} یہاں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے ادب کی وجہ سے بیماری کو اپنی طرف اور شفاء کو اللہ تعالی کی طرف منسوب فرمایا اگرچہ بیماری اور شفا دونوں اللہ تعالی کی طرف سے ہوتی ہیں ۔( خازن الشعراء تحت الایۃ: ۸۰ ۳ / ۳۸۹) اس سے معلو م ہوا کہ برائی کی نسبت اپنی طرف اور خوبی و بہتری کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کرنی چاہیے۔