Surah Ash Shura Ayat 90 (26:90)
The Poets · Juz 19 · Makki
وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ 90
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاورجنت پرہیزگاروں کے قریب لائی جائے گی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور قریب لائی جائے گی جنت پرہیزگاروں کے لیے۔
Tafseer (Urdu)
{و ازلفت الجنة: اور جنت قریب لائی جائے گی۔} حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے قیامت کے دن کی رسوائی سے بچنے کی دعا مانگنے کے بعداس دن کے کچھ اوصاف بیان فرمائے جن کاذکر اس ایت اور اس کے بعد والی 12ایات میں ہےان کا خلاصہ درج ذیل ہے: (1)… قیامت کے دن جنت سعادت مندوں کے مقام سے قریب کر دی جائے گی وہ جنت کی طرف دیکھیں گے اور اس میں موجود طرح طرح کی عظیم الشان نعمتوں کا مشاہدہ کریں گے اور اس لئے خوش ہوں گے کہ انہیں اس میں جمع کیا جائے گا جبکہ حق راستے سے گمراہ ہوجانے والے بدبختوں پر جہنم ظاہر کر دی جائے گی وہ اس میں موجود طرح طرح کے ہولناک احوال کو دیکھیں گے اور انہیں اس بات کا یقین ہو جائے گا کہ اب انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور وہ کسی صورت اس سے چھٹکارا نہ پا سکیں گے۔ اللہ تعالی ایسا اس لئے فرمائے گا کہ ایمان والوں کو جلد خوشی نصیب ہو اور کافروں کوعظیم غم ملے۔ (2)…کافروں کو ان کے کفر و شرک پر ڈانٹتے ہوئے سختی سے کہا جائے گا کہ تمہارے وہ معبود کہا ں ہیں جن کی دنیا میں تم اللہ تعالی کے علاوہ عبادت کیا کرتے تھے اور ان کے بارے میں یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ تمہاری شفاعت کریں گے کیا وہ اللہ تعالی کے عذاب سے بچا کر تمہاری مدد کریں گے یا وہ اپنے دوزخ میں ڈالے جانے کابدلہ لے سکتے ہیں سن لو! وہ ہر گز ایسا نہیں کر سکتے۔ (3)…بت اور ان کے پجاری اور ابلیس کے سارے لشکر سب اوندھے کرکے جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے۔ یاد رہے کہ بت جہنم میں عذاب پانے کے لئے نہیں بلکہ اپنے پجاریوں کو عذاب دینے کے لئے ڈالے جائیں گے اور ابلیس کے لشکروں سے مراد اس کی پیروی کرنے والے ہیں چاہے وہ جن ہوں یا انسان اوربعض مفسرین نے کہا ہے کہ ابلیس کے لشکروں سے اس کی ذریت مراد ہے۔ (4)…جب ان گمراہوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا تو وہ جہنم میں اپنے جھوٹے معبودوں سے جھگڑتے ہوئے کہیں گے ’’خدا کی قسم بیشک ہم اس وقت کھلی گمراہی میں تھے جب ہم تمہیں عبادت کا مستحق ہونے میں تمام جہانوں کے پروردگار کے برابر قرار دیتے تھے حالانکہ تم اس کی ایک ادنی کمتر ین اور انتہائی عاجزمخلوق تھے اور ہمیں مجرموں نے ہی گمراہ کیا اور اب یہ حال ہے کہ ہمارے لئے کوئی سفارشی نہیں جیسے کہ مومنین کے لئے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اولیائ فرشتے اور مومنین شفاعت کرنے والے ہیں اور نہ ہی ایمان والوں کی طرح ہمارا کوئی غم خوار دوست ہے جو اس مشکل ترین وقت میں ہمارے کام آئے پس اگرکسی طرح ہمیں ایک مرتبہ دنیا کی طرف لوٹ کر جانا نصیب ہو جائے تو ہم ضرور مسلمان ہو جائیں گے۔( تفسیرکبیرالشعراءتحت الایۃ: ۹۰-۱۰۲ ۸ / ۵۱۸-۵۱۹ خازن الشعراء تحت الایۃ: ۹۰-۱۰۲ ۳ / ۳۹۰-۳۹۱ابو سعود الشعراء تحت الایۃ: ۹۰-۱۰۲ ۴ / ۱۶۹-۱۷۱ ملتقطا) {المجرمون: مجرموں ۔} مجرموں سے مراد وہ ہیں جنہوں نے بت پرستی کی دعوت دی یا وہ پہلے لوگ مراد ہیں جن کی ان گمراہوں نے پیروی کی یا ان سے ابلیس اور اس کی ذریت مراد ہے۔( مدارک الشعراء تحت الایۃ: ۹۹ ص۸۲۴) {و لا صدیق حمیم: اور نہ ہی کوئی غم خوار دوست ہے۔} کفار یہ بات اس وقت کہیں گے جب دیکھیں گے کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اولیاء رحمۃاللہ تعالی علیہم فرشتے اور صالحین ایمان داروں کی شفاعت کررہے ہیں اور ان کی دوستیاں کام آرہی ہیں۔(خازن الشعراء تحت الایۃ: ۱۰۱ ۳ / ۳۹۰) قیامت کے دن پرہیزگارمسلمانوں کی دوستی مسلمان کے کام ائے گی: معلوم ہوا کہ قیامت کے دن نیکصالح اور پرہیز گار مسلمانوں کی دوستی مسلمانوں کے کام ائے گی اور وہ قیامت کے انتہائی سخت ہولناک دن میں مسلمانوں کی غم خواری اور شفاعت کریں گے۔اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ’’الاخلآء یومىذۭ بعضهم لبعض عدو الا المتقین‘‘(الزخرف:۶۷) ترجمہکنزالعرفان: پرہیز گاروں کے علاوہ اس دنگہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ جنتی کہے گا: میرے فلاں دوست کا کیا حال ہے اور وہ دوست گناہوں کی وجہ سے جہنم میں ہوگا۔اللہ تعالی فرمائے گا کہ اس کے دوست کو نکالو اور جنت میں داخل کردو تو جو لوگ جہنم میں باقی رہ جائیں گے وہ یہ کہیں گے کہ ہمارا کوئی سفارشی نہیں ہے اور نہ کوئی غم خوار دوست۔( تفسیر بغوی الشعراء تحت الایۃ: ۱۰۱ ۳ / ۳۳۴) حضرت حسن بصری رحمۃاللہ تعالی علیہ نے فرمایا: ’’ایماندار دوست بڑھاؤ کیونکہ وہ روز قیامت شفاعت کریں گے۔(خازن الشعراء تحت الایۃ: ۱۰۱ ۳ / ۳۹۱) لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ نیک اور پرہیز گار مسلمانوں کو اپنا دوست بنائے اور فاسق و فاجر لوگوں کی دوستی سے بچے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےسید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ کس سے دوستی کرتا ہے۔( ترمذی کتاب الزہد ۴۵-باب ۴ / ۱۶۷ الحدیث: ۲۳۸۵)