IQRA QURAN Logo

IQRA QURAN

Your Digital Companion

Surah 27

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

طٰسٓ- تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ (1)

طس، یہ قرآن اور روشن کتاب کی آیتیں ہیں ۔

هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ (2)

ایمان والوں کیلئے ہدایت اور خوشخبری ہے۔

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ(3)

وہ جو نمازقائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَﭤ(4)

بیشک وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے برے اعمال ان کی نگاہ میں خوشنما بنا دئیے ہیں تو وہ بھٹک رہے ہیں ۔

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ(5)

یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور یہی آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔

وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍٝ (6)

اور (اے محبوب!) بیشک آپ کو قرآن سکھایا جاتا ہے حکمت والے، علم والے کی طرف سے۔

اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًاؕ-سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ(7)

۔ (یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی گھر والی سے کہا:میں نے ایک آ گ دیکھی ہے (تو میں جاتا ہوں اور) عنقریب میں تمہارے پاس اس کی کوئی خبر لاتا ہوں یا کوئی چمکتی ہوئی چنگاری لاؤں گا تاکہ تم گرمی حاصل کرو۔

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَاؕ-وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(8)

پھر جب موسیٰ آگ کے پاس آئے تو (انہیں) ندا کی گئی کہ اُس (موسیٰ) کو جو اس آگ کی جلوہ گاہ میں ہے اور جو اس (آگ) کے آس پاس (فرشتے) ہیں انہیں برکت دی گئی اور اللہ پاک ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔

یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ (9)

اے موسیٰ !بات یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں جوعزت والا حکمت والا ہے۔

وَ اَلْقِ عَصَاكَؕ-فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْؕ-یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ- اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ (10)

اور اپنا عصا (زمین پر) ڈال دو توجب آپ نے اسے لہراتے ہوئے دیکھا کہ گویا سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر چلے اور مڑ کر نہ دیکھا۔ (ہم نے فرمایا) اے موسیٰ! ڈرو نہیں ، بیشک میری بارگاہ میں رسول ڈرتے نہیں ۔

اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(11)

لیکن جس شخص نے کوئی ز یادتی کی پھر برائی کے بعد (اپنے عمل کو) نیکی سے بدل دیا تو بیشک میں بخشنے والا مہربان ہوں۔

وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُ جْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ- فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ(12)

اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالوتووہ بغیر کسی عیب کے سفید چمکتا ہوا نکلے گا، (یہ بھی) فرعون اور اس کی قوم کی طرف نو نشانیوں میں سے ہے، بیشک وہ (فرعونی) نافرمان لوگ تھے۔

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ (13)

پھر جب ان کے پاس آنکھیں کھولتی ہوئی ہماری نشانیاں آئیں تو وہ کہنے لگے: یہ توکھلا جادو ہے۔

وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّاؕ-فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ (14)

اور انہوں نے ظلم اور تکبر کی وجہ سے ان نشانیوں کاانکار کیا حالانکہ ان کے دل ان نشانیوں کا یقین کر چکے تھے تو دیکھو فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا؟

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًاۚ-وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ(15)

اور بیشک ہم نے داؤد اور سلیمان کو بڑا علم عطا فرمایااور دونوں نے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے ایمان والے بندوں پر فضیلت بخشی۔

وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍؕ-اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ(16)

اور سلیمان داؤد کے جانشین بنے اور فرمایا: اے لوگو!ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر چیز میں سے ہم کو عطا ہوا،بیشک یہی (اللہ کا) کھلا فضل ہے۔

وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ(17)

اور سلیمان کے لیے جنوں اور انسانوں اور پرندوں سے اس کے لشکر جمع کر دئیے گئے تو وہ روکے جاتے تھے۔

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِۙ-قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْۚ-لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗۙ-وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ(18)

یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی پر آئے توایک چیونٹی نے کہا: اے چیونٹیو!اپنے گھروں میں داخل ہوجاؤ، کہیں سلیمان اور ان کے لشکر بے خبری میں تمہیں کچل نہ ڈالیں ۔

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ(19)

تو سلیمان اس کی بات پر مسکراکر ہنس پڑے اور عرض کی: اے میرے رب!مجھے توفیق دے کہ میں تیرے اس احسان کا شکر اداکروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیا اور (مجھے توفیق دے) کہ میں وہ نیک کام کروں جس پر تو راضی ہو اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے ان بندوں میں شامل کر جو تیرے خاص قرب کے لائق ہیں ۔

وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ ﳲ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآىٕبِیْنَ(20)

اور سلیمان نے پرندوں کا جائزہ لیا توفرمایا:مجھے کیا ہوا کہ میں ہد ہد کو نہیں دیکھ رہا یا وہ واقعی غیر حاضروں میں سے ہے۔

لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ(21)

میں ضرور ضروراسے سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح کردوں گا یا وہ کوئی واضح دلیل میرے پاس لائے۔

فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ(22)

تو ہد ہد کچھ زیادہ دیر نہ ٹھہرا اور آکرعرض کی: کہ میں وہ بات دیکھ کر آیا ہوں جو آپ نے نہ دیکھی اور میں ملک ِسبا سے آپ کے پاس ایک یقینی خبر لایا ہوں ۔

اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ(23)

میں نے ایک عورت دیکھی جو لوگوں پر بادشاہی کررہی ہے اور اسے ہر چیز میں سے ملا ہے اور اس کا ایک بہت بڑا تخت ہے۔

وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ (24)

میں نے اسے اور اس کی قوم کو پایا کہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال ان کی نگاہ میں اچھے بنادئیے تو انہیں سیدھی راہ سے روک دیا تو وہ سیدھا راستہ نہیں پاتے۔

اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِ جُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ(25)

۔(شیطان نے انہیں روک دیا)تاکہ وہ اس اللہ کو سجدہ نہ کریں جو آسمانوں اور زمین میں چھپی ہوئی چیزوں کو نکالتا ہے اورجو کچھ تم چھپاتے ہو اور جوظاہر کرتے ہو سب کو جانتا ہے۔

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ (26)

اللہ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں وہ عرشِ عظیم کا مالک ہے۔

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ(27)

سلیمان نے فرمایا: ہم ابھی دیکھتے ہیں کہ تو نے سچ کہا یا تو جھوٹوں میں سے ہے۔

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ(28)

میرا یہ فرمان لے جا ؤاور اسے ان کی طرف ڈال دو پھر ان سے الگ ہٹ کردیکھنا کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ(29)

عورت نے کہا: اے سردارو!بیشک میری طرف ایک عزت والا خط ڈالا گیا ہے۔

اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ (30)

بیشک وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور بیشک وہ اللہ کے نام سے ہے جونہایت مہربان رحم والا ہے۔

اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ (31)

یہ کہ میرے مقابلے میں بلندی نہ چاہواور میرے پاس فرمانبردار بنتے ہوئے حا ضر ہو جاؤ۔

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْۚ-مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ(32)

ملکہ نے کہا:اے سردارو!میرے اس معاملے میں مجھے رائے دو میں کسی معاملے میں کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس موجود نہ ہو۔

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ ﳔ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ(33)

انہوں نے کہا: ہم قوت والے اور بڑی سخت لڑائی والے ہیں اور اختیار توتمہارے ہی پاس ہے تو تم غور کرلو کہ تم کیا حکم دیتی ہو؟.

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةًۚ-وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ(34)

اس نے کہا: بیشک بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تواسے تباہ کردیتے ہیں اور اس کے عزت والوں کوذلیل کردیتے ہیں اور وہ ایسا ہی کرتے ہیں۔

وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِـعُ الْمُرْسَلُوْنَ(35)

اور میں ان کی طرف ایک تحفہ بھیجنے والی ہوں پھر دیکھوں گی کہ قاصدکیا جواب لے کر لوٹتے ہیں ؟

فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ٘-فَمَاۤ اٰتٰىنِﰯ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْۚ-بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ(36)

پھر جب قاصدسلیمان کے پاس آیا تو سلیمان نے فرمایا: کیا تم مال کے ذریعے میری مدد کرتے ہو؟ تواللہ نے جوکچھ مجھے عطا فرمارکھا ہے وہ اُس سے بہتر ہے جو اس نے تمہیں دیا ہے بلکہ تم ہی اپنے تحفہ پر خوش ہوتے ہو۔

اِرْجِـعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ(37)

ان لوگوں کی طرف لوٹ جاؤ تو ضرور ہم ان پر ایسے لشکر لائیں گے جن کے مقابلے کی انہیں طاقت نہ ہوگی اور ضرور ہم ان کو اس شہر سے ذلیل کرکے نکال دیں گے اور وہ رسوا ہوں گے۔

قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ(38)

سلیمان نے فرمایا: اے درباریو!تم میں کون ہے جو ان کے میرے پاس فرمانبردار ہوکر آنے سے پہلے اس کا تخت میرے پاس لے آئے۔

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَۚ-وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ(39)

ایک بڑا خبیث جن بولا کہ میں وہ تخت آپ کی خدمت میں آپ کے اس مقام سے کھڑے ہونے سے پہلے حاضر کردوں گا اور میں بیشک اس پر قوت رکھنے والا، امانتدار ہوں۔

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَؕ-فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ ﱎ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُؕ-وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ(40)

اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھاکہ میں اسے آپ کی بارگاہ میں آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا (چنانچہ) پھرجب سلیمان نے اس تخت کو اپنے پاس رکھا ہوادیکھا تو فرمایا: یہ میرے رب کے فضل سے ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری ؟اور جو شکر کرے تووہ اپنی ذات کیلئے ہی شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے پرواہ ہے، کرم فرمانے والا ہے۔

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ(41)

حضرت سلیمان نے حکم دیا: اس ملکہ کیلئے اس کے تخت کو تبدیل کردوتا کہ ہم دیکھیں کہ وہ راہ پاتی ہے یا راہ نہ پانے والوں میں سے ہوتی ہے۔

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِؕ-قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَۚ-وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ(42)

پھر جب وہ آئی تواس سے کہا گیا: کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے؟ اس نے جواب دیا:گویا یہ وہی ہےاور ہم کو اس واقعہ سے پہلے خبر مل چکی اور ہم فرمانبردار ہوئے۔

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِؕ-اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ(43)

اور اسے اُس چیز نے روک رکھا تھا جس کی وہ اللہ کے سواعبادت کرتی تھی۔ بیشک وہ کافر قوم میں سے تھی۔

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَۚ-فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَاؕ-قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ۬ؕ-قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ (44)

اس سے کہا گیا: صحن میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس صحن کو دیکھا تو اسے گہرا پانی سمجھی اور اپنی پنڈلیوں سے (کپڑا) اٹھا دیا، سلیمان نے فرمایا: یہ تو شیشوں سے جڑاؤ کیا ہوا ایک ملائم صحن ہے۔ اس نے عرض کی: اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیااور میں سلیمان کے ساتھ اس اللہ کے حضور گردن رکھتی ہوں جو سارے جہان کا رب ہے۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ(45)

اور بیشک ہم نے ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صالح کو بھیجا کہ (اے لوگو!) اللہ کی عبادت کرو تو اسی وقت وہ جھگڑا کرتے ہوئے دو گروہ بن گئے۔

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِۚ-لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ(46)

صا لح نے فرمایا: اے میری قوم! بھلائی سے پہلے برائی کی جلدی کیوں کرتے ہو؟تم اللہ سے بخشش کیوں نہیں مانگتے ؟ ہوسکتا ہے تم پر رحم کیا جائے۔

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَؕ-قَالَ طٰٓىٕرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ(47)

انہوں نے کہا:ہم نے تم سے اور تمہارے ساتھیوں سے برا شگون لیا۔ صالح نے فرمایا: تمہاری بدشگونی اللہ کے پاس ہے بلکہ تم ایک ایسی قوم ہو کہ تمہیں آزمایا جارہا ہے۔

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ(48)

اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ(49)

انہوں نے آپس میں اللہ کی قسمیں کھا کر کہا:ہم رات کے وقت ضرورصا لح اور اس کے گھر والوں پر چھاپا ماریں گے پھر اس کے وارث سے کہیں گے کہ اس گھر والوں کے قتل کے وقت ہم حاضر نہ تھے اور بیشک ہم سچے ہیں ۔

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ(50)

او رانہوں نے سازش کی اور ہم نے اپنی خفیہ تدبیر فرمائی اور وہ غافل رہے۔

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْۙ-اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ(51)

تو دیکھو کہ ان کی سازش کاکیسا انجام ہوا ؟ہم نے انہیں اور ان کی ساری قوم کوہلاک کردیا۔

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْاؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ(52)

تو یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب ویران پڑے ہیں ، بیشک اس میں جاننے والوں کیلئے (عبرت کی) نشانی ہے۔

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ(53)

اور ہم نے ان لوگوں کو بچالیا جو ایمان لائے اور ڈرتے تھے۔

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ(54)

اور لوط کو یاد کروجب اس نے اپنی قوم سے فرمایا: کیا تم بے حیائی کا کام کرتے ہوحالانکہ تم دیکھ رہے ہو۔

اَىٕنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِؕ-بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ(55)

کیا تم عورتوں کو چھوڑ کرمردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو بلکہ تم جاہل لوگ ہو۔

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْۚ-اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ(56)

تو اس کی قوم کا اس کے سواکچھ جواب نہ تھا کہ کہنے لگے کہ لوط کے گھروالوں کو اپنی بستی سے نکال دو،بیشک یہ ایسے لوگ ہیں جو بڑے پاک صاف بنتے ہیں۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ٘-قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ(57)

تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی عورت کو، ہم نے اسے پیچھے رہ جانے والوں میں سے مقرر کردیا تھا۔

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًاۚ-فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ (58)

اور ہم نے ان پر ایک بارش برسائی تو ڈرائے جانے والوں کی بارش کتنی بری تھی۔

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰىؕ- ﰰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَﭤ(59)

تم کہو: تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اوران بندوں پر سلام ہو جنہیں اللہ نے چن لیا ہے۔ کیا اللہ بہتریا ان کے خود ساختہ شریک؟

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءًۚ-فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآىٕقَ ذَاتَ بَهْجَةٍۚ-مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَاؕ-ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِؕ-بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَﭤ(60)

یا وہ بہتر ہے جس نے آسمان و زمین بنائے اور تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا تو ہم نے اس پانی سے بارونق باغ اگائے۔ تمہارے لئے ممکن نہ تھا کہ تم ان (باغوں ) کے درخت اگادیتے۔ کیا الله کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ (ہرگز نہیں ،) بلکہ وہ لوگ شریک ٹھہراتے ہیں۔

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًاؕ-ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِؕ-بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَﭤ(61)

یا وہ بہتر ہے جس نے رہائش کیلئے زمین بنائی اور اس کے درمیان میں نہریں بنائیں اور اس کے لئے لنگر بنائے اور دو سمندروں کے درمیان آڑ رکھی۔ کیا الله کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ بلکہ ان میں اکثر جاہل ہیں ۔

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِؕ-ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِؕ-قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَﭤ(62)

یا وہ بہتر جو مجبور کی فریاد سنتا ہے جب وہ اسے پکارے اوربرائی ٹال دیتا ہے اور تمہیں زمین کا وارث کرتا ہے۔ کیا الله کے ساتھ کوئی اورمعبود ہے؟تم بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖؕ-ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِؕ-تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَﭤ(63)

یا وہ بہتر ہے جو تمہیں خشکی اور تری کے اندھیروں میں راہ دکھاتا ہے اور وہ جو ہوائیں بھیجتا ہے اس حال میں کہ وہ ہوائیں اللہ کی رحمت سے پہلے خوشخبری دے رہی ہوتی ہیں ۔ کیا الله کے ساتھ کوئی اورمعبود ہے؟اللہ ان کے شرک سے بلندو بالاہے۔

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِؕ-ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِؕ-قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(64)

یا وہ بہتر ہے جو خلق کی ابتداء فرماتا ہے پھر اسے دوبارہ بنائے گااور وہ جو تمہیں آسمانوں اور زمین سے روزی دیتا ہے۔ کیا الله کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ تم فرماؤ: اپنی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو۔

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُؕ-وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ(65)

تم فرماؤ: الله کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب نہیں جانتا اور لوگ نہیں جانتے کہ انہیں کب اُٹھایا جائے گا؟

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ ﱄ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا -بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ (66)

کیا کافروں کا علم آخرت کے بارے میں مکمل ہوچکا ہے ؟ بلکہ وہ اس کی طرف سے شک میں ہیں بلکہ وہ اس سے اندھے ہیں ۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَىٕنَّا لَمُخْرَجُوْنَ(67)

اور کافر وں نے کہا:کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوجائیں گے توکیا ہم پھر نکالے جائیں گے؟

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُۙ-اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ(68)

بیشک یہ وعدہ ہمیں اور ہم سے پہلے ہمارے باپ داداؤں کو دیا گیا تھا،یہ تو صرف پہلے لوگوں کی جھوٹی کہانیاں ہیں ۔

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ(69)

تم فرماؤ: زمین میں چل کر دیکھو، مجرموں کا انجام کیسا ہوا؟.

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ(70)

اور (اے حبیب!) تم ان پر غم نہ کرواور ان کی سازشوں سے دل تنگ نہ ہو۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(71)

اورکافر کہتے ہیں : یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا؟ اگر تم سچے ہو (تو بتاؤ)۔

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ(72)

تم فرماؤ: ہوسکتا ہے کہ جس (عذاب) کی تم جلدی مچارہے ہو اس کا کچھ حصہ تمہارے پیچھے آلگا ہو۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ(73)

اور بیشک تیرا رب لوگوں پرفضل والا ہے لیکن ان میں اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ(74)

اور بیشک تمہارا رب یقیناجانتا ہے جو ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔

وَ مَا مِنْ غَآىٕبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ(75)

اور آسمانوں اور زمین میں جتنے غیب ہیں سب ایک بتانے والی کتاب میں ہیں ۔

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ(76)

بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل سے اکثر وہ باتیں ذکر فرماتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں ۔

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ(77)

اور بیشک یہ مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ ۙۚ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُ ﳐ (78)

بیشک تمہارا رب اپنے حکم سے ان کے درمیان فیصلہ فرمادے گا اور وہی عزت و الا علم والاہے۔

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕ-اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ(79)

تو تم الله پر بھروسہ کرو بیشک تم روشن حق پر ہو۔

اِنَّكَ لَا تُسْمِــعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِــعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ(80)

بیشک تم مردوں کو نہیں سناسکتے اور نہ تم بہروں کو پکار سناسکتے ہو جب وہ پیٹھ دے کرپھر رہے ہوں۔

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْؕ-اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ(81)

اور تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے (نکال کر) ہدایت دینے والے نہیں ۔تم تو اسی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو وہ فرمانبردار ہیں۔

وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْۙ-اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ (82)

اور جب ان پر با ت آپڑے گی توہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو لوگوں سے کلام کرے گااس لیے کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہ کرتے تھے۔

وَ یَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّكَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ(83)

اور اس دن کو یاد کروجس دن ہم ہر امت میں سے ایک گروہ کو اٹھائیں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتا ہے تو ان کے پہلے لوگوں کو روکا جائے گا تاکہ ان کے بعد والے ان سے آملیں ۔

حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَ لَمْ تُحِیْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(84)

یہاں تک کہ جب سب حاضر ہوجائیں گے تو الله فرمائے گا: کیا تم نے میری آیتوں کو جھٹلایا تھا حالانکہ تمہارا علم ان تک نہ پہنچا تھایاتم کیا کام کرتے تھے؟

وَ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ(85)

اور ان پر ان کے ظلم کے سبب بات واقع ہوچکی تو وہ اب کچھ نہیں بولتے۔

اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًاؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ(86)

کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ ہم نے رات بنائی تاکہ وہ اس میں آرام کریں اور دن کوآنکھیں کھولنے والابنایا بیشک اس میں ان لوگوں کیلئے ضرور نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں ۔

وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ(87)

اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو جو آسمانوں میں ہیں اور جوزمین میں ہیں سب گھبرا جائیں گے مگر وہ جنہیں الله چاہے اور سب اس کے حضور عاجزی کرتے حاضر ہوں گے۔

وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِؕ-صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍؕ-اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ(88)

اور تُو پہاڑوں کو دیکھے گا انہیں جمے ہوئے خیال کرے گا حالانکہ وہ بادل کے چلنے کی طرح چل رہے ہوں گے۔یہ اس الله کی کاریگری ہے جس نے ہر چیزکو مضبوط کیا بیشک وہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَاۚ-وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَىٕذٍ اٰمِنُوْنَ(89)

جو نیکی لائے اس کے لیے اس سے بہتر صلہ ہے اور وہ اس دن کی گھبراہٹ سے امن و چین میں ہوں گے۔

وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِؕ-هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(90)

اور جو برائی لائے گاتو ان کے چہرے آگ میں الٹے کردیے جائیں گے۔ (اے لوگو!) تمہیں تمہارے اعمال ہی کا بدلہ دیا جائے گا۔

اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَ لَهٗ كُلُّ شَیْءٍ٘-وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَۙ (91)

مجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ میں اس شہر (مکہ) کے رب کی عبادت کروں جس نے اسے حرمت والا بنایا ہے اورہر شے اسی کی ملکیت ہے اور مجھے حکم ہوا ہے کہ فرمانبرداروں میں سے رہوں ۔

وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَۚ-فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ(92)

اور یہ کہ میں قرآن کی تلاوت کروں تو جس نے ہدایت پائی تواس نے اپنی ذات کیلئے ہی ہدایت پائی اور جو گمراہ ہو تو تم فرمادو کہ میں توصرف ڈر انے والوں میں سے ہوں ۔

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَاؕ-وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ (93)

اور تم فرماؤ:سب خوبیاں الله کے لیے ہیں ، عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم انہیں پہچان لو گے اور (اے حبیب!) تمہارا رب، (اے لوگو!) تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے۔