IQRA QURAN Logo

IQRA QURAN

Your Digital Companion

Surah 28

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

طٰسٓمّٓ(1)

طسم۔

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ(2)

یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں۔

نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ(3)

ہم تمہارے سامنے حق کے ساتھ موسیٰ اور فرعون کی خبرپڑھتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں ۔

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآىٕفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْؕ-اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ(4)

بیشک فرعون نے زمین میں تکبر کیا تھا اور اس کے لوگوں کے مختلف گروہ بنادئیے تھے ان میں ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو کمزورکر رکھا تھا،ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتاتھا، بیشک وہ فسادیوں میں سے تھا۔

وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَىٕمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ (5)

اور ہم چاہتے تھے کہ ان لوگوں پر احسان فرمائیں جنہیں زمین میں کمزوربنا یاگیا تھااور انہیں پیشوا بنائیں اور انہیں (ملک و مال کا) وارث بنائیں۔

وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ(6)

اور انہیں زمین میں اقتداردیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی دکھادیں جس کا انہیں ان کی طرف سے خطرہ تھا۔

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِۚ-فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْۚ-اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ(7)

اور ہم نے موسیٰ کی ماں کو اِلہام فرمایا کہ اسے دودھ پلا پھر جب تجھے اس پر خوف ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور خوف نہ کر اور غم نہ کر ،بیشک ہم اسے تیری طرف پھیر لائیں گے اور اسے رسولوں میں سے بنائیں گے۔

فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًاؕ-اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِـٕیْنَ(8)

تو اسے فرعون کے گھر والوں نے اٹھالیا تاکہ وہ ان کیلئے دشمن اور غم بنے، بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر خطا کار تھے۔

وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَؕ-لَا تَقْتُلُوْهُ ﳓ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ(9)

اور فرعون کی بیوی نے کہا: یہ بچہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو شاید یہ ہمیں نفع دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں اور وہ بے خبرتھے۔

وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًاؕ-اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ(10)

اور صبح کے وقت موسیٰ کی ماں کا دل بے قرار ہوگیا، بیشک قریب تھا کہ وہ اسے ظاہر کردیتی اگر ہم اس کے دل کو مضبوط نہ کرتے کہ وہ (ہمارے وعدے پر) یقین رکھنے والوں میں سے رہے ۔

وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ٘-فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ (11)

اور اس کی ماں نے اس کی بہن سے کہا: اس کے پیچھے چلی جا تو وہ بہن اسے دور سے دیکھتی رہی اور ان (فرعونیوں ) کو خبر نہ تھی۔

وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ(12)

اور ہم نے پہلے ہی سب دائیاں اس پر حرام کردی تھیں تو موسیٰ کی بہن نے کہا: کیا میں تمہیں ایسے گھر والے بتادوں جو تمہارے اس بچہ کی ذمہ داری لے لیں اور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہوں ؟

فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰـكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ ٛ (13)

تو ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف لوٹا دیا تا کہ ماں کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور وہ غم نہ کھائے اور جان لے کہ الله کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًاؕ-وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ(14)

اور جب موسیٰ اپنی جوانی کو پہنچے اور بھرپورہوگئے تو ہم نے اسے حکمت اور علم عطا فرمایا اور ہم نیکوں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں ۔

وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ ﱪ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖۚ-فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖۙ-فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ ﱪ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ(15)

اور (ایک دن موسیٰ) شہروالوں کی (دوپہر کی) نیند کے وقت شہرمیں داخل ہوئے تو اس میں دو مردوں کو لڑتے ہوئے پایا۔ ایک موسیٰ کے گروہ سے تھا اور دوسرا اس کے دشمنوں میں سے تھا تو وہ جو موسیٰ کے گروہ میں سے تھا اس نے موسیٰ سے اس کے خلاف مدد مانگی جو اس کے دشمنوں سے تھا تو موسیٰ نے اس کے گھونسا مارا تو اس کا کام تمام کردیا۔ (پھر) فرمایا: یہ شیطان کی طرف سے ہواہے۔ بیشک وہ کھلا گمراہ کرنے والا دشمن ہے۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ(16)

موسیٰ نے عرض کی: اے میرے رب!میں نے اپنی جان پر زیادتی کی تو تومجھے بخش دے تو الله نے اسے بخش دیا بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ(17)

عرض کی: اے میرے رب!تو نے میرے اوپر جو احسان کیا ہے اس کی قسم کہ اب ہرگز میں مجرموں کا مددگار نہ ہوں گا۔

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآىٕفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗؕ-قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ(18)

پھر موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ہوئے، انتظار میں صبح کی تواچانک دیکھا کہ وہ جس نے کل ان سے مدد مانگی تھی فریاد کررہا ہے توموسیٰ نے اس سے فرمایا بیشک تو ضرورکھلا گمراہ ہے۔

فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَاۙ-قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ ﳓ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ(19)

تو جب موسیٰ نے چاہا کہ اس (قبطی) کو پکڑلیں جو ان دونوں کا دشمن تھا تو وہ بولا :اے موسیٰ! کیا تم مجھے ویسا ہی قتل کرنا چاہتے ہو جیسا تم نے کل ایک شخص کو قتل کردیا تم تو یہی چاہتے ہو کہ زمین میں زبردستی کرنے والے بن جاؤ اورتم اصلاح کرنے والوں میں سے نہیں ہوناچاہتے۔

وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى٘-قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُ جْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ(20)

اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک (مومن) شخص دوڑ تا ہواآیا ،کہا: اے موسیٰ!بیشک دربار والے آپ کے بارے میں مشورہ کررہے ہیں کہ آپ کوقتل کردیں تو آپ نکل جائیں ۔بیشک میں آپ کے خیرخواہوں میں سے ہوں ۔

فَخَرَ جَ مِنْهَا خَآىٕفًا یَّتَرَقَّبُ٘-قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ (21)

پھر موسیٰ شہر سے ڈرتے ہوئے انتظار کرتے ہوئے نکلے ۔موسیٰ نے عرض کی: اے میرے رب! مجھے ظالموں سے نجات دیدے۔

وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ(22)

اور جب وہ مدین کی طرف متوجہ ہوئے توکہا :عنقریب میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے گا۔

وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ ٘۬-وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِۚ-قَالَ مَا خَطْبُكُمَاؕ-قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُٚ-وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ(23)

اور جب وہ مدین کے پانی پر تشریف لائے تووہاں لوگوں کے ایک گروہ کو دیکھا کہ اپنے جانوروں کو پانی پلارہے ہیں اور ان کے دوسری طرف دو عورتوں کو دیکھاجو اپنے جانوروں کو روک رہی ہیں۔ موسیٰ نے فرمایا: تم دونوں کا کیا حال ہے؟ وہ بولیں : ہم پانی نہیں پلاتیں جب تک سب چرواہے پلاکر پھیر نہ لے جائیں اور ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں ۔

فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ(24)

تو موسیٰ نے ان دونوں کے جانوروں کو پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف پھرے اور عرض کی: اے میرے رب!میں اس خیر (کھانے) کی طرف محتاج ہوں جو تو میرے لیے اتارے۔

فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ٘-قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَاؕ-فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَۙ - قَالَ لَا تَخَفْٙ- نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(25)

تو ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک حضرت موسیٰ کے پاس شرم سے چلتی ہوئی آئی (اور) کہا: میرے والد آپ کو بلارہے ہیں تاکہ آپ کو اس کا م کی مزدوری دیں جوآپ نے ہمارے جانوروں کو پانی پلایا ہے۔ تو جب موسیٰ اس (والد) کے پاس آئے اور اسے (اپنے) واقعات سنائے تواس نے کہا: ڈرو نہیں ، آپ ظالموں سے نجات پاچکے ہو۔

قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ٘-اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ(26)

ان میں سے ایک نے کہا: اے میرے باپ!ان کو ملازم رکھ لو بیشک آپ کا بہتر نوکر وہ ہوگا جو طاقتور اور امانتدار ہو۔

قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍۚ-فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَۚ-وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَؕ-سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(27)

۔ (انہوں نے) فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ اپنی دونوں بیٹیوں میں سے ایک کے ساتھ اس مہر پر تمہارا نکاح کردوں کہ تم آٹھ سال تک میری ملازمت کرو پھر اگر تم دس سال پورے کردو تووہ (اضافہ) تمہاری طرف سے ہوگا اور میں تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا۔ ان شآء اللہ عنقریب تم مجھے نیکوں میں سے پاؤ گے۔

قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَؕ-اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ (28)

موسیٰ نے جواب دیا: یہ میرے اور آپ کے درمیان (معاہدہ طے) ہے۔ میں ان دونوں میں سے جو بھی مدت پوری کردوں تو مجھ پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی اور ہماری اس گفتگو پر الله نگہبان ہے۔

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًاۚ-قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ(29)

پھر جب موسیٰ نے اپنی مدت پوری کردی اور اپنی بیوی کو لے کر چلے تو کوہِ طور کی طرف ایک آگ دیکھی۔ آپ نے اپنی گھر والی سے فرمایا: تم ٹھہرو ، بیشک میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید میں وہاں سے کچھ خبر لاؤ ں یا تمہارے لیے کوئی آگ کی چنگاری لاؤں تاکہ تم گرمی حاصل کرو۔

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ (30)

پھر جب آگ کے پاس آئے تو برکت والی جگہ میں میدان کے دائیں کنارے سے ایک درخت سے انہیں ندا کی گئی :اے موسیٰ!بیشک میں ہی الله ہوں ،سارے جہانوں کاپالنے والاہوں۔

وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَؕ-فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْؕ-یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ- اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ(31)

اور یہ کہ تم اپنا عصا ڈال دو تو جب اسے لہراتا ہوا دیکھا گویا کہ سانپ ہے تو حضرت موسیٰ پیٹھ پھیر کر چلے اور مڑ کر نہ دیکھا۔ (ہم نے فرمایا:) اے موسیٰ! سامنے آؤ اورنہ ڈرو ،بیشک تم امن والوں میں سے ہو۔

اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُ جْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ٘-وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىٕهٖؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ(32)

اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو تووہ بغیر کسی مرض کے سفید چمکتا ہوا نکلے گا اور خوف دور کرنے کیلئے اپنا ہاتھ اپنے ساتھ ملالو تو تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف یہ دو بڑی دلیلیں ہیں ،بیشک وہ نافرمان لوگ ہیں ۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ(33)

موسیٰ نے عرض کی: اے میرے رب!میں نے ان میں سے ایک شخص کو قتل کردیا تھا تو مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔

وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ٘-اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ(34)

اور میرا بھائی ہارون اس کی زبان مجھ سے زیادہ صاف ہے تو اسے میری مدد کے لیے رسول بنا تاکہ وہ میری تصدیق کرے، بیشک مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے۔

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَاۚۛ-بِاٰیٰتِنَاۤۚۛ-اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ(35)

الله نے فرمایا:عنقریب ہم تیرے بازو کو تیرے بھائی کے ذریعے قوت دیں گے اور تم دونوں کو غلبہ عطا فرمائیں گے تو وہ ہماری نشانیوں کے سبب تم دونوں کا کچھ نقصان نہ کرسکیں گے ۔تم دونوں اور تمہاری پیروی کرنے والے غالب آئیں گے۔

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآىٕنَا الْاَوَّلِیْنَ(36)

پھر جب موسیٰ ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں لے کر آئے تو (فرعونیوں نے) کہا: یہ تو صرف ایک بناوٹی جادو ہے اور ہم نے اپنے اگلے باپ داداؤں میں یہ (بات کبھی) نہیں سنی۔

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِؕ-اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ(37)

اور موسیٰ نے فرمایا: میرا رب خوب جانتا ہے جو اس کے پاس سے ہدایت لائے اور جس کے لیے آخرت کے گھر کا(اچھا)انجام ہوگا۔ بیشک ظالم کامیاب نہیں ہوں گے۔

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْۚ-فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰىۙ-وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ(38)

اور فرعون نے کہا: اے درباریو!میں تمہارے لیے اپنے سوا کوئی خدا نہیں جانتا تو اے ہامان! میرے لیے گارے پر آگ جلا پھر میرے لئے ایک اونچا محل بناؤ، شاید میں موسیٰ کے خدا کو جھانک لوں اور بیشک میں تو اسے جھوٹوں میں سے ہی سمجھتا ہوں ۔

وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ(39)

اور اس نے اور اس کے لشکریوں نے زمین میں بے جا تکبر کیا اوروہ سمجھے کہ انہیں ہماری طرف پھرنا نہیں۔

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّۚ-فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ(40)

تو ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا تو دیکھو ظالموں کا کیسا انجام ہوا؟.

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىٕمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِۚ-وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ(41)

اور انہیں ہم نے پیشوا بنادیا کہ آگ کی طرف بلاتے ہیں اور قیامت کے دن ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔

وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةًۚ-وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ (42)

اور اس دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگادی اور قیامت کے دن وہ قبیح (بُری) حالت والوں میں سے ہوں گے۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآىٕرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ(43)

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی اس کے بعد کہ ہم نے پہلی قوموں کوہلاک فرمادیاتھا (موسیٰ کو وہ کتاب دی) جس میں لوگوں کے دلوں کی آنکھیں کھولنے والی باتیں اور ہدایت اور رحمت ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ (44)

اور تم اس وقت طور کی مغربی جانب میں نہ تھے جب ہم نے موسیٰ کی طرف حکم بھیجا اور اس وقت تم موجود نہ تھے۔

وَ لٰـكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُۚ-وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَاۙ-وَ لٰـكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ(45)

لیکن (ہوا یہ) کہ ہم نے بہت سی قومیں پیدا کیں تو ان کی عمریں لمبی ہوگئیں اور نہ تم اہلِ مدین میں ان پر ہماری آیتیں پڑھتے ہوئے مقیم تھے لیکن ہم رسول بھیجنے والے ہیں ۔

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰـكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ(46)

اور نہ تم اس وقت طور کے کنارے پرتھے جب ہم نے (موسیٰ کو) ندا فرمائی ،لیکن تمہارے رب کی طرف سے رحمت ہے تاکہ تم اس قوم کو ڈراؤ جس کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا یہ امید کرتے ہوئے کہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِـعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ(47)

اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگوں کو ان کے ہاتھوں کے آگے بھیجے ہوئے اعمال کی وجہ سے (جب جہنم کی) مصیبت پہنچتی تووہ کہتے: اے ہمارے رب!تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور ایمان والوں میں سے ہوجاتے۔

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰىؕ-اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُۚ-قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَاٙ۫-وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ(48)

پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیاتو انہوں نے کہا: اس (نبی) کو اس جیسا کیوں نہ دیدیا گیا جیسا موسیٰ کو دیا گیا تھا؟ کیا انہوں نے ا س کا انکار نہیں کیاتھا جو پہلے موسیٰ کو دیاگیا؟ انہوں نے کہا : یہ دو جادو ہیں جو ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور انہوں نے کہا : بیشک ہم ان سب کا انکار کرنے والے ہیں ۔

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(49)

تم فرماؤ: اگر تم سچے ہو تو الله کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت والی ہو میں اس کی پیروی کرلوں گا۔

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْؕ-وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ (50)

پھر اگر وہ یہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ بس وہ اپنی خواہشو ں ہی کی پیروی کررہے ہیں اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو الله کی طرف سے ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کی پیروی کرے ۔بیشک الله ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَﭤ(51)

اور بیشک ہم نے ان کے لیے کلام مسلسل بھیجا تا کہ وہ نصیحت مانیں۔

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَٜ (52)

جن لوگوں کو ہم نے اس (قرآن) سے پہلے کتاب دی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں ۔

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ(53)

اور جب ان پر یہ قرآن پڑھاجاتاہے توکہتے ہیں : ہم اس پر ایمان لائے، بیشک یہی ہمارے رب کے پا س سے حق ہے۔ ہم اس (قرآن) سے پہلے ہی فرمانبردار ہو چکے تھے۔

اُولٰٓىٕكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ(54)

ان کو ان کا اجر دُگنا دیا جائے گاکیونکہ انہوں نے صبر کیا اور یہ برائی کو بھلائی سے دور کرتے ہیں اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ٘-سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ٘-لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ(55)

اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں : ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں ۔ بس تمہیں سلام، ہم جاہلوں کا ساتھ نہیں چاہتے۔

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُۚ-وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ(56)

بیشک ایسا نہیں ہے کہ تم جسے چاہو اسے اپنی طرف سے ہدایت دیدو لیکن الله جسے چاہتا ہے ہدایت دیدیتا ہے اور وہ ہدایت والوں کوخوب جانتا ہے۔

وَ قَالُـوْۤا اِنْ نَّتَّبِـعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَاؕ-اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(57)

اور (کافر) کہتے ہیں : (اے محمد!) اگر ہم تمہارے ساتھ (مل کر) ہدایت کی پیروی کریں تو ہمیں ہماری سرزمین سے اچک لیا جائے گا۔ کیا ہم نے انہیں امن و امان والی جگہ حرم میں ٹھکانہ نہ دیاجس کی طرف ہر چیز کے پھل لائے جاتے ہیں (جو) ہماری طرف کا رزق ہے لیکن ان میں اکثر جانتے نہیں ۔

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَاۚ-فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًاؕ-وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ(58)

اور کتنے شہر ہم نے ہلاک کردئیے جو اپنے عیش پر اِترانے لگے تھے تو یہ ان کے مکانات ہیں جن میں ان کے بعد بہت کم رہائش رکھی گئی اور ہم ہی وارث ہیں ۔

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَاۚ-وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ(59)

اور تمہارا رب شہروں کو ہلاک کرنے والا نہیں ہے جب تک ان کے مرکزی شہر میں رسول نہ بھیجے جو ان پر ہماری آیتیں پڑھے اور ہم شہروں کو ہلاک کرنے والے نہیں ہیں مگر (اسی وقت) جب ان کے رہنے والے ظالم ہوں ۔

وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَاۚ-وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ (60)

اور (اے لوگو!) جو کچھ چیز تمہیں دی گئی ہے تو وہ دنیوی زندگی کا سازو سامان اور اس کی زینت ہے اور جو (ثواب) الله کے پاس ہے وہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے والاہے تو کیا تم سمجھتے نہیں؟.

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ(61)

تو وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہوا ہے پھر وہ اس (وعدے) سے ملنے والا (بھی) ہے کیا وہ اس شخص جیسا ہے جسے ہم نے (صرف) دنیوی زندگی کا سازوسامان فائدہ اٹھانے کو دیا ہو پھر وہ قیامت کے دن گرفتار کرکے حاضر کئے جانے والوں میں سے ہو۔

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ(62)

اور یاد کروجس دن( الله) انہیں ندا کرے گا تو فرمائے گا: کہاں ہیں میرے وہ شریک جنہیں تم سمجھتے تھے۔

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَاۚ-اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَاۚ-تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ٘-مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ(63)

وہ لوگ جن پر قول ثابت ہوچکا ہے وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! یہی ہیں وہ جنہیں ہم نے گمراہ کیا۔ ہم نے انہیں ایسے ہی گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے تھے۔ ہم(ان سے) بیزار ہوکر تیری طرف رجوع لاتے ہیں ، یہ ہماری عبادت نہ کرتے تھے۔

وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَۚ-لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ(64)

اور ان سے فرمایا جائے گا: اپنے شریکوں کو پکارو تو وہ اِنہیں پکاریں گے تو وہ اُنہیں جواب نہ دیں گے اور یہ عذاب دیکھیں گے۔ کیا اچھا ہوتا اگر یہ ہدایت حاصل کرلیتے۔

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ(65)

اور جس دن ( الله) انہیں ندافرمائے گا تو فرمائے گا: (اے لوگو!) تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟

فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَىٕذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ(66)

تو اس دن ان پر خبریں اندھی ہوجائیں گی تو وہ ایک دوسرے سے نہیں پوچھیں گے۔

فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ(67)

تو وہ جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھا کام کیا تو قریب ہے کہ وہ کامیاب ہونے والوں میں سے ہوگا۔

وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُؕ-مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُؕ-سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ(68)

اور تمہارا رب پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور (جو چاہتا ہے) پسند کرتاہے ۔ان (مشرکوں ) کا کچھ اختیار نہیں۔ الله ان کے شرک سے پاک اور بلندوبالا ہے۔

وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ(69)

اور تمہارا رب جانتا ہے جو ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں ۔

وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَؕ-لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ٘-وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ(70)

اور وہی الله ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ دنیا اور آخرت میں اسی کیلئے تمام تعریفیں ہیں اور اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍؕ-اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ(71)

تم فرماؤ: بھلا دیکھو کہ اگر الله تم پر قیامت تک ہمیشہ رات ہی بنادے تو الله کے سوا کون دوسرا معبود ہے جو تمہارے پاس روشنی لائے گا تو کیا تم سنتے نہیں ؟

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِؕ-اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ(72)

تم فرماؤ: بھلا دیکھو کہ اگر الله تم پرقیامت تک ہمیشہ دن ہی بنا دے تو الله کے سوا اورکون معبود ہے جو تمہارے پاس رات لے آئے جس میں تم آرام کرو تو کیا تم دیکھتے نہیں ؟

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(73)

اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن بنائے کہ رات میں آرام کرو اور(دن میں ) اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم (اس کا) شکر ادا کرو۔

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ(74)

اور یاد کروجس دن ( الله) انہیں ندا کرے گا تو فرمائے گا: کہاں ہیں میرے وہ شریک جنہیں تم (میرا شریک) سمجھتے تھے۔

وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ (75)

اور ہم ہر امت میں سے ایک گواہ نکال لیں گے پھر فرمائیں گے : اپنی دلیل لاؤ تو وہ جان لیں گے کہ حق الله ہی کیلئے ہے اور ان سے ان کی بنائی ہوئی جھوٹی باتیں گم ہوجائیں گی۔

اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ۪-وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِۗ-اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ(76)

بیشک قارون موسیٰ کی قوم سے تھا پھر اس نے قوم پر زیادتی کی اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دئیے جن کی کنجیاں (اُٹھانا) ایک طاقتور جماعت پر بھاری تھیں۔ جب اس سے اس کی قوم نے کہا: اِترا ؤنہیں ، بیشک الله اِترانے والوں کو پسندنہیں کرتا۔

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(77)

اور جو مال تجھے الله نے دیا ہے اس کے ذریعے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھول اور احسان کر جیسا الله نے تجھ پر احسان کیا اور زمین میں فساد نہ کر، بے شک الله فسادیوں کو پسند نہیں کرتا۔

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْؕ-اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًاؕ-وَ لَا یُسْــٴَـلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ(78)

۔ (قارون نے) کہا: یہ تو مجھے ایک علم کی بنا پرملا ہے جو میرے پاس ہے اور کیا اسے یہ نہیں معلوم کہ الله نے اس سے پہلے وہ قومیں ہلاک فرمادیں جو زیادہ طاقتوراور زیادہ مال جمع کرنے والی تھیں اور مجرموں سے ان کے گناہوں کی پوچھ گچھ نہیں کی جاتی۔

فَخَرَ جَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖؕ-قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُۙ-اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ(79)

تو وہ اپنی زینت میں اپنی قوم کے سامنے نکلا تو دنیاوی زندگی کے طلبگار کہنے لگے: اے کاش ہمیں بھی ایسا مل جاتا جیسا قارون کو ملا بیشک یہ بڑے نصیب والا ہے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًاۚ-وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ(80)

اور جنہیں علم دیا گیا تھا انہوں نے کہا: تمہاری خرابی ہو، الله کا ثواب بہتر ہے اس آدمی کے لیے جو ایمان لائے اور اچھے کام کرے اور یہ انہیں کو دیا جائے گا جو صبر کرنے والے ہیں ۔

فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ- فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِۗ-وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ(81)

تو ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسادیا تو اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی جو الله کے مقابلے میں اس کی مدد کرتی اور نہ وہ خود (اپنی) مدد کرسکا۔

وَ اَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْكَاَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُۚ-لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَاؕ-وَیْكَاَنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۠ (82)

اور گزشتہ کل جو اس کے مقام و مرتبہ کی آرزو کرنے والے تھے وہ کہنے لگے: عجیب بات ہے کہ الله اپنے بندوں میں سے جس کیلئے چاہتا ہے رزق وسیع کرتا ہے اورتنگ فرمادیتا ہے۔ اگر الله ہم پر احسان نہ فرماتا تو ہمیں بھی دھنسادیتا۔بڑی عجیب بات ہے کہ کافرکامیاب نہیں ہوتے۔

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(83)

یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو زمین میں تکبر اور فساد نہیں چاہتے اوراچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے۔

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَاۚ-وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزَى الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(84)

جو نیکی لائے گااس کے لیے اس سے بہتربدلہ ہے اور جو برائی لائے توبراکام کرنے والوں کو اتنا ہی بدلہ دیا جائے گا جتنا وہ کرتے تھے۔

اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍؕ-قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى وَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(85)

بیشک جس نے آپ پر قرآن فرض کیا ہے وہ آپ کو لوٹنے کی جگہ ضرور واپس لے جائے گا۔ تم فرماؤ: میرا رب خوب جانتا ہے جو ہدایت لایا ہے اوراسے بھی جو کھلی گمراہی میں ہے۔

وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ٘ (86)

اور تم امید نہ رکھتے تھے کہ تمہاری طرف کوئی کتاب بھیجی جائے گی لیکن تمہارے رب کی طرف سے رحمت ہے تو تم ہرگز کافروں کا مددگار نہ ہونا۔

وَ لَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْكَ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ (87)

اور ہرگز وہ تمہیں الله کی آیتوں سے نہ روکیں اس کے بعد کہ وہ تمہاری طرف نازل کی جاچکی ہیں اور اپنے رب کی طرف بلاؤ اور ہرگز شرک والوں میں سے نہ ہونا۔

وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَۘ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۫-كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗؕ-لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ ٝ (88)

اور الله کے ساتھ دوسرے خدا کی عبادت نہ کر ،اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کی ذات کے سوا ہر چیز فانی ہے ، اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف تم پھیرے جاؤ گے۔