Surah 29
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
الٓمّٓۚ (1)
الم۔
اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ(2)
کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھاہے کہ انہیں صرف اتنی بات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ کہتے ہیں ہم ’’ایمان لائے‘‘ اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا؟.
وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ(3)
اور بیشک ہم نے ان سے پہلے لوگوں کوآزمایاتو ضرور ضرور الله انہیں دیکھے گا جو سچے ہیں اور ضرور ضرور جھوٹوں کو (بھی) دیکھے گا۔
اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَاؕ-سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ(4)
یا (کیا) بُرے اعمال کرنے والوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم سے کہیں نکل جائیں گے؟ وہ کیا ہی بُرا فیصلہ کرتے ہیں ۔
مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍؕ-وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(5)
جو الله کی ملاقات کی امید رکھتاہوتو بیشک الله کا مقرر کیا ہوا وعدہ ضرور آنے والا ہے اور وہی سننے والا، جاننے والا ہے۔
وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ(6)
اور جو کوشش کرے تو اپنے ہی فائدے کیلئے کوشش کرتا ہے، بیشک الله سارے جہانوں سے بے پرواہ ہے۔
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(7)
اور جو لوگ ایمان لائے اورانہوں نے اچھے کام کئے توہم ضرور ان سے ان کی برائیاں مٹا دیں گے اور ضرور انہیں ان کے اچھے اعمال کا بدلہ دیں گے۔
وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًاؕ-وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَاؕ-اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(8)
اور ہم نے (ہر) انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تاکید کی اور (اے بندے!) اگر وہ تجھ سے کوشش کریں کہ توکسی کو میرا شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو تُو ان کی بات نہ مان۔ میری ہی طرف تمہارا پھرنا ہے تو میں تمہیں تمہارے اعمال بتادوں گا۔
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ(9)
اور جو ایمان لائے اورانہوں نے اچھے کام کئے تو ضرور ہم انہیں نیک بندوں میں داخل کریں گے۔
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِؕ-وَ لَىٕنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْؕ-اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ(10)
اورلوگوں میں کچھ وہ ہیں جو کہتے ہیں : ہم الله پر ایمان لائے پھر جب الله (کی راہ) میں انہیں کوئی تکلیف دی جاتی ہے تو لوگوں کے فتنے کواللہ کے عذاب کے برابر سمجھتے ہیں اور اگر تمہارے رب کے پاس سے کوئی مدد آجائے تو ضرور کہیں گے ہم یقیناتمہارے ساتھ تھے۔کیااللہ اسے خوب نہیں جانتا جو تمام جہان والوں کے دلوں میں ہے؟
وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ(11)
اور ضرور الله ایمان والوں کوظاہر کردے گا اور ضرور منافقوں کوظاہر کردے گا۔
وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْؕ-وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍؕ-اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ(12)
اور کافروں نے مسلمانوں سے کہا:ہماری راہ پر چلو اور ہم تمہارے گناہ اٹھالیں گے حالانکہ وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ بوجھ بھی نہ اٹھائیں گے، بیشک وہ جھوٹے ہیں ۔
وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ٘-وَ لَیُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ (13)
اور بیشک ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ اٹھائیں گے اور ضرور ان سے قیامت کے دن ان کے بہتانوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًاؕ-فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ(14)
اور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس سال کم ایک ہزار سال رہے پھر اس قوم کو طوفان نے پکڑ لیا اور وہ ظالم تھے۔
فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(15)
تو ہم نے نوح اور کشتی والوں کوبچالیا اور اس کشتی کو سارے جہانوں کے لیے نشانی بنادیا۔
وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(16)
اور ابراہیم کو (یاد کرو) جب اس نے اپنی قوم سے فرمایا: الله کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔
اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًاؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗؕ-اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ(17)
تم تو الله کے سوا بتوں کو پوجتے ہو اور نرا جھوٹ گھڑتے ہو۔بیشک جن کی تم الله کے سوا عبادت کرتے ہو وہ تمہارے لئے روزی کے کچھ مالک نہیں تو تم الله کے پاس رزق ڈھونڈواور اس کی عبادت کرو اور اس کے شکر گزار بنو ، اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْؕ-وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ(18)
اور اگر تم جھٹلاؤگے تو تم سے پہلے کتنے ہی گروہ جھٹلا چکے ہیں اور رسول کے ذمہ توصرف صاف پہنچا دینا ہے۔
اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗؕ-اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ(19)
اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ الله پیدا کرنے کی ابتداء کیسے کرتا ہے؟پھروہ اسے دوبارہ بنائے گابیشک یہ الله پر بہت آسان ہے۔
قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ (20)
تم فرماؤ :زمین میں چل کر دیکھوکہ الله نے پہلے کیسے بنایا؟ پھر الله دوسری مرتبہ پیدا فرمائے گا۔ بیشک الله ہر شے پر قادر ہے۔
یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُۚ-وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ(21)
وہ جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے رحم فرماتا ہے اور تم اسی کی طرف پلٹائے جاؤ گے۔
وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ٘-وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ (22)
اور نہ تم زمین میں (ہمیں ) عاجز کرنے والے ہو اور نہ آسمان میں اور تمہارے لیے الله کے سوا نہ کوئی کام بنانے والاہے اور نہ مددگار۔
وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآىٕهٖۤ اُولٰٓىٕكَ یَىٕسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(23)
اور وہ جنہوں نے الله کی آیتوں کا اور اس سے ملنے کا انکار کیا وہ وہی لوگ ہیں جو میری رحمت سے مایوس ہیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ(24)
تو ابراہیم کی قوم کا کوئی جواب نہ تھا مگر یہ کہ انہوں نے کہا: انہیں قتل کردو یا جلادو تو الله نے انہیں آگ سے بچالیا۔بیشک اس میں ایمان والوں کیلئے ضرور نشانیاں ہیں ۔
وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًاۙ-مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ-ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا٘-وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ (25)
اور ابراہیم نے فرمایا: تم نے تو دنیاوی زندگی میں اپنی آپس کی دوستی کی وجہ سے الله کے سوا یہ بت (معبود) بنالئے ہیں پھر قیامت کے دن تم میں ایک دوسرے کا انکار کرے گا اور ایک دوسرے پر لعنت کرے گااور تم سب کا ٹھکانہ جہنم ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ۔
فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌۘ-وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(26)
تو ابراہیم کی تصدیق لوط نے کی اور ابراہیم نے فرمایا: میں اپنے رب کی (سر زمین شام کی) طرف ہجرت کرنے والا ہوں، بیشک وہی عزت والا، حکمت والا ہے۔
وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَاۚ-وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ(27)
اور ہم نے اسے اسحاق (بیٹا) اور یعقوب (پوتا) عطا فرمائے اور ہم نے اس کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی اور ہم نے دنیا میں اس کا ثواب اسے عطا فرمایااور بیشک وہ آخرت میں (بھی) ہمارے خاص قرب کے لائق بندوں میں ہوگا۔
وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ٘-مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ(28)
اور لوط کو (یاد کرو) جب اس نے اپنی قوم سے فرمایا: تم بیشک بے حیائی کا وہ کام کرتے ہوجو تم سے پہلے دنیا بھر میں کسی نے نہ کیا۔
اَىٕنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ ﳔ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَؕ-فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ(29)
کیا تم مردوں سے بدفعلی کرتے ہو اور راستہ کاٹتے ہو اور اپنی مجلسوں میں برے کام کو آتے ہو تو اس کی قوم کا کوئی جواب نہ تھا مگر یہ کہا: اگر تم سچے ہوتوہم پر الله کا عذاب لے آؤ۔
قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ (30)
۔ (لوط نے) عرض کی، اے میرے رب!ان فسادی لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما۔
وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰىۙ-قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِۚ-اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَﭕ(31)
اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر آئے تو انہوں نے کہا: ہم ضرور اس شہر والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں ۔ بیشک اس شہر والے ظالم ہیں ۔
قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًاؕ-قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا ﱞ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ ﱪ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ(32)
فرمایا:اس میں تو لوط (بھی) ہے۔فرشتوں نے کہا: ہمیں خوب معلوم ہے جو کوئی اس میں ہے، ضرور ہم اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دیں گے سوائے اس کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔
وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ- اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ(33)
اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے توانہیں فرشتوں کا آنا برا لگا اور ان کے سبب دل تنگ ہوا اورفرشتوں نے کہا: آپ نہ ڈریں اور نہ غمگین ہوں، بیشک ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بچانے والے ہیں سوائے آپ کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔
اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ(34)
بیشک ہم اِس شہر والوں پر آسمان سے عذاب اتارنے والے ہیں کیونکہ یہ نافرمانی کرتے تھے۔
وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ(35)
اور بیشک ہم نے عقل والوں کے لیے اس بستی میں روشن نشانی کو باقی رکھا۔
وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًاۙ-فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(36)
مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو بھیجا تو اس نے فرمایا، اے میری قوم! الله کی بندگی کرو اور آخرت کے دن کی امید رکھو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔
فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ (37)
تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں زلزلے نے آلیا تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے۔
وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ- وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ (38)
اور (ہم نے) عاد اور ثمود کو (ہلاک کیا) اور ان کی رہائش کے مقامات تمہارے لئے ظاہرہوچکے اور شیطان نے ان کے اعمال ان کیلئے خوبصورت بنادئیے اور انہیں ( الله کے) راستے سے روکا حالانکہ وہ سمجھدارتھے۔
وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ ﱎ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚ (39)
اور (ہم نے) قارون اور فرعون اور ہامان کو (ہلاک کیا) اور بیشک ان کے پاس موسیٰ روشن نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے زمین میں تکبر کیا اور وہ ہم سے نکل کر جانے والے نہ تھے۔
فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًاۚ-وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُۚ-وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَۚ-وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَاۚ-وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰـكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ(40)
تو ان میں ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ کی وجہ سے (ہی) پکڑا تو ان میں کسی پر ہم نے پتھراؤ بھیجا اور ان میں کسی کو خوفناک آواز نے پکڑلیا اور ان میں کسی کو زمین میں دھنسادیا اور ان میں کسی کو ڈبو دیا اور الله کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرے ہاں وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔
مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِۖۚ-اِتَّخَذَتْ بَیْتًاؕ-وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِۘ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ(41)
جنہوں نے الله کے سوا اورمددگاربنارکھے ہیں ان کی مثال مکڑی کی طرح ہے،جس نے گھر بنایا اور بیشک سب گھروں میں کمزور گھر مکڑی کا گھرہوتا ہے۔کیا اچھا ہوتا اگر وہ جانتے۔
اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(42)
بیشک الله جانتا ہے اس چیز کو جس کی وہ الله کے سوا پوجا کرتے ہیں اور وہی عزت والا حکمت والا ہے۔
وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِۚ-وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ(43)
اور یہ مثالیں ہیں جنہیں ہم لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں اور انہیں علماء ہی سمجھتے ہیں ۔
خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠ (44)
الله نے آسمان اور زمین حق بنائے، بیشک اس میں ایمان والوں کیلئے نشانی ہے۔
اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَؕ-اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِؕ-وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ(45)
اس کتاب کی تلاوت کروجو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اور نماز قائم کرو، بیشک نماز بے حیائی اور بری بات سے روکتی ہے اور بیشک الله کا ذکر سب سے بڑاہے اور الله جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔
وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ ﳓ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ(46)
اور اے مسلمانو!اہلِ کتاب سے بحث نہ کرو مگر بہترین انداز پر سوائے ان میں سے ظالموں کے اور کہو:ہم اس پرایمان لائے جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور جو تمہاری طرف نازل کیا گیا اور ہمارا اورتمہارا معبود ایک ہے اور ہم اس کے فرمانبردار ہیں ۔
وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَؕ-فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖۚ-وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖؕ-وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ(47)
اور اے حبیب!یونہی ہم نے تمہاری طرف کتاب نازل فرمائی تو وہ جنہیں ہم نے کتا ب عطا فرمائی وہ اِس پر ایمان لاتے ہیں ، اور کچھ اِن دوسروں میں سے ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں ، اورکافر ہی ہماری آیتوں کا انکار کرتے ہیں ۔
وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ(48)
اور اس سے پہلے تم کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے اور نہ ہی اپنے دائیں ہاتھ سے اسے لکھتے تھے، (اگر ایسا ہوتا) تو اس وقت باطل والے ضرور شک کرتے۔
بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَؕ-وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ(49)
بلکہ وہ ان لوگوں کے سینوں میں روشن نشانیاں ہیں جنہیں علم دیا گیا اور ہماری آیتوں کا انکار صرف ظالم لوگ کرتے ہیں ۔
وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖؕ-قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِؕ-وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ(50)
اورکفار نے کہا:اس پر اس کے رب کی طرف سے نشانیاں کیوں نہیں اتریں ؟تم فرماؤ :نشانیاں تو الله ہی کے پاس ہیں اور میں تو یہی صاف ڈر سنانے والا ہوں ۔
اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ (51)
اور کیا انہیں یہ بات کافی نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب اُتاری جو ان پر پڑھی جاتی ہے بیشک اس میں ایمان والوں کے لیے رحمت اور نصیحت ہے۔
قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًاۚ-یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِۙ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(52)
تم فرماؤ: میرے اور تمہارے درمیان الله کافی گواہ ہے، وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور باطل پر ایمان لانے والے اور الله کے منکرہی نقصان اٹھانے والے ہیں ۔
وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِؕ-وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُؕ-وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ(53)
اور تم سے عذاب کی جلدی مچاتے ہیں اور اگر ایک مقررہ مدت نہ ہوتی تو ضرور ان پر عذاب آجاتا اور ضرور ان پر اچانک عذاب آئے گا اور انہیں خبر بھی نہ ہوگی۔
یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِؕ-وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ (54)
تم سے عذاب کی جلدی مچاتے ہیں اور بیشک جہنم کافروں کوگھیرنے والی ہے۔
یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(55)
جس دن عذاب انہیں ان کے اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے ڈھانپ لے گا اور ( الله) فرمائے گا:اپنے اعمال کا مزہ چکھو۔
یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ(56)
اے میرے مومن بندو! بیشک میری زمین وسیع ہے تو میری ہی بندگی کرو۔
كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْتِ- ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ(57)
ہر جان کو موت کا مز ہ چکھنا ہے پھر ہماری ہی طرف تم پھیرے جاؤگے۔
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ (58)
اور بیشک جو ایمان لائے اورانہوں نے اچھے کام کئے ضرور ہم انہیں جنت کے بالا خانوں پر جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ہمیشہ ان میں رہیں گے، عمل کرنے والوں کیلئے کیا ہی اچھا اجرہے۔
الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ(59)
وہ جنہوں نے صبر کیااور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔
وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا ﰮ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ ﳲ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(60)
اور زمین پر کتنے ہی چلنے والے ہیں جو اپنی روزی ساتھ اٹھائے نہیں پھرتے (بلکہ) الله (ہی) انہیں اور تمہیں روزی دیتا ہے اور وہی سننے والا، جاننے والا ہے۔
وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُۚ-فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ(61)
اور اگر تم ان سے پوچھوکہ آسمان اور زمین کس نے بنائے اورسورج اور چاند کو کس نے کام میں لگایا تو ضرور کہیں گے: ’’ الله نے‘‘ تو کہاں الٹے پھرے جاتے ہیں ؟
اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗؕ-اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ(62)
الله اپنے بندوں میں جس کے لیے چاہتا ہے رزق وسیع کردیتا ہے اور تنگ کردیتا ہے جس کیلئے چاہے، بیشک الله سب کچھ جاننے والا ہے۔
وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُؕ-قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِؕ-بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ (63)
اور اگرتم ان سے پوچھو کہ کس نے آسمان سے پانی اُتارا پھر اس کے ذریعے زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کیا؟ ضرور کہیں گے : الله نے۔تم فرماؤ:سب تعریفیں الله کیلئے ہیں ، بلکہ ان میں اکثر نہیں سمجھتے۔
وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌؕ-وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُۘ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ(64)
اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل کودہے اور بیشک آخرت کا گھر ضرور وہی سچی زندگی ہے۔کیا ہی اچھا تھا اگر وہ (یہ) جانتے۔
فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَﳛ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ (65)
پھر جب لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو الله کو پکارتے ہیں اس حال میں کہ اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہیں پھر جب وہ انہیں خشکی کی طرف بچا کرلاتا ہے تواس وقت شرک کرنے لگتے ہیں ۔
لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ ﳐ وَ لِیَتَمَتَّعُوْاٙ-فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ(66)
تاکہ ہماری دی ہوئی نعمت کی ناشکری کریں اور تاکہ وہ فائدہ اٹھالیں تو عنقریب جان لیں گے۔
اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْؕ-اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ(67)
اور کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ ہم نے حرمت والی زمین، امن و امان والی بنائی اور ان کے آس پاس والے لوگ اچک لیے جاتے ہیں ۔تو کیا وہ باطل پر یقین کرتے ہیں اور الله کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں ۔
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗؕ-اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ(68)
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو الله پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلائے جب وہ اس کے پاس آئے؟ کیا کافروں کیلئے جہنم میں ٹھکانہ نہیں؟
وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَاؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ (69)
اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے اور بیشک الله نیکوں کے ساتھ ہے۔

