Surah Al Imran Ayat 120 (3:120)
Family of Imran · Juz 4 · Madani
اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ٘-وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَاؕ-وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْــٴًـاؕ-اِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ 120
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگتا ہے اور اگر تمہیں کوئی برائی پہنچے تو اس پر خوش ہوتے ہیں اور اگر تم صبرکرو اورتقویٰ اختیار کرو تو ان کا مکروفریب تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ بیشک اللہ ان کے تمام کاموں کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگے اور تم کو برائی پہنچے تو اس پر خوش ہوں اور اگر تم صبر اور پرہیزگاری کیے رہو تو ان کا داؤں تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا بیشک ان کے سب کام خدا کے گھیرے میں ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{ ان تمسسكم حسنة تسؤهم: اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگتا ہے۔} کفار کی عمومی حالت یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کو کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگتا ہے اور اگر مسلمانوں کو کوئی تکلیف پہنچے تو وہ خوش ہوتے ہیں لہذا مسلمانوں کو کافروں سے محبت و دوستی نہیں رکھنی چاہے۔ ان کے مقابلے میں مسلمان اگر صبر اور تقوی کو اپنا شعار بنالیں تو کافروں کا کوئی داو مسلمانوں پر نہ چل سکے گا۔