Surah Al Imran Ayat 135 (3:135)
Family of Imran · Juz 4 · Madani
وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ۫-وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ﳑ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ 135
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور وہ لوگ کہ جب کسی بے حیائی کا ارتکاب کرلیں یا اپنی جانوں پر ظلم کرلیں تواللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور اللہ کے علاوہ کون گناہوں کو معاف کر سکتا ہے اور یہ لوگ جان بوجھ کر اپنے برے اعمال پر اصرار نہ کریں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے اور اپنے کیے پر جان بوجھ کر اڑ نہ جائیں۔
Tafseer (Urdu)
{ذكروا الله فاستغفروا لذنوبهم: اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔} پرہیزگاروں کے اوصاف کا بیان جاری ہے اوریہاں ان کا مزید ایک وصف بیان فرمایا وہ یہ کہ اگر ان سے کوئی کبیرہ یا صغیرہ گناہ سرزد ہوجائے تو وہ فورا اللہ عزوجل کو یاد کرکے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں اپنے گناہ پر شرمندہ ہوتے ہیں اور اسے چھوڑ دیتے ہیں اور ائندہ کیلئے اس سے باز رہنے کا پختہ عزم کرلیتے ہیں اور اپنے گناہ پر اصرار نہیں کرتے اور یہی مقبول توبہ کی شرائط ہیں۔ اس ایت کا شان نزول یہ ہے کہ’’ تیہان نامی ایک کھجور فروش کے پاس ایک حسین عورت کھجوریں خریدنے ائی۔ دکاندار نے کہا کہ یہ کھجوریں اچھی نہیں ہیں بہترین کھجوریں گھر میں ہیں یہ کہہ کراس عورت کو گھر لے گیا اور وہاں جا کر اس کا بوسہ لے لیااور اسے اپنے ساتھ چمٹا لیا۔ اس عورت نے کہا : اللہ عزوجل سے ڈر۔ یہ سنتے ہی تیہان نے اس عورت کو چھوڑ دیا اور شرمندہ ہو کر حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں سارا ماجرا عرض کیا۔ اس پر یہ ایت کریمہ نازل ہوئی۔ ایک روایت یہ ہے کہ’’ دو شخصوں میں بڑا پیار تھا ان میں سے ایک جہاد کے لئے گیااور اپنا گھر بار دوسرے کے سپرد کر گیا۔ ایک روز اس مجاہد کی بیوی نے اس انصاری سے گوشت منگایا وہ ادمی گوشت لے ایاجب اس مجاہد کی بیوی نے گوشت لینے کیلئے ہاتھ اگے بڑھایا تواس نے ہاتھ چوم لیالیکن چومتے ہی اسے سخت شرمندگی ہوئی اور وہ جنگل میں نکل گیا اور منہ پر طمانچے مارنا اور سرپر خاک ڈالنا شروع کردی۔ جب وہ مجاہد اپنے گھر واپس ایا تو اپنی بیوی سے اپنے اس دوست کا حال پوچھا۔ عورت بولی کہ اللہ عزوجل ایسے دوست سے بچائے۔ وہ مجاہد اس کو تلاش کرکے حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں لایا۔ اس کے حق میں یہ ایات اتریں۔ (خازن ال عمران تحت الایۃ: ۱۳۵ ۱ / ۳۰۲)ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں واقعے اس ایت کا شان نزول ہوں۔