Surah Al Imran Ayat 155 (3:155)
Family of Imran · Juz 4 · Madani
اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِۙ-اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْاۚ-وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ 155
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک تم میں سے وہ لوگ جو اس دن بھاگ گئے جس دن دونوں فوجوں کا مقابلہ ہوا ،انہیں شیطان ہی نے ان کے بعض اعمال کی وجہ سے لغزش میں مبتلا کیا اور بیشک اللہ نے انہیں معاف فرمادیاہے، بیشک اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا حلم والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک وہ جو تم میں سے پھرگئے جس دن دونوں فوجیں ملی تھیں انہیں شیطان ہی نے لغزش دی ان کے بعض اعمال کے باعث اور بیشک اللہ نے انہیں معاف فرمادیا بیشک اللہ بخشنے والا حلم والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ان الذین تولوا منكم : بیشک تم میں سے وہ لوگ جو اس دن بھاگ گئے۔}جنگ احد میں چودہ اصحاب رضی ا للہ تعالی عنہم کے سوا جن میں حضرت ابو بکر صدیق حضرت عمر فاروق حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہم بھی شامل ہیں جو حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ رہے باقی تمام اصحاب رضی اللہ تعالی عنہم کے قدم اکھڑ گئے تھے اور خصوصا وہ حضرات جنہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے پہاڑی مورچے پر مقرر کیا تھا اور ہر حال میں وہیں ڈٹے رہنے کا حکم دیا تھا لیکن وہ ثابت قدم نہ رہ سکے بلکہ جب پہلے حملے ہی میں کفار کے قدم اکھڑ گئے اورمسلمان غالب ائے تب ان درے والوں نے کہا کہ چلو ہم بھی مال غنیمت جمع کریں۔ حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے منع فرمایا مگر یہ لوگ سمجھے کہ فتح ہو چکی اب ٹھہرنے کی کیا ضرورت ہے۔ درہ چھوڑ دیا بھاگتے ہوئے کفار نے درہ کو خالی دیکھا تو پلٹ کر درہ کی راہ سے مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ کر دیا جس سے جنگ کا نقشہ بدل گیا یہاں اسی کا ذکر ہے۔ ان حضرات سے یہ لغزش ضرور سرزد ہوئی لیکن چونکہ ان کے ایمان کامل تھے اور وہ مخلص مومن اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سچے غلام تھے اور اگے پیچھے کئی مواقع پر یہی حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر اپنی جانیں قربان کرنے والے تھے اس لئے اللہ تعالی نے قران میں ان کی معافی کا اعلان فرمادیا تاکہ اگر ان کی لغزش سامنے ائے تورب کریم عزوجل کی بارگاہ میں ان کی عظمت بھی سامنے رہے۔