Surah Al Imran Ayat 165 (3:165)
Family of Imran · Juz 4 · Madani
اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَاۙ-قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَاؕ-قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ 165
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا جب تمہیں کوئی ایسی تکلیف پہنچی جس سے دگنی تکلیف تم پہنچا چکے تھے تو تم کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آگئی؟ اے حبیب! تم فرما دو کہ اے لوگو! یہ تمہاری اپنی ہی طرف سے آئی ہے۔بیشک اللہ ہر شے پر قادرہے ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا جب تمہیں کوئی مصیبت پہنچے کہ اس سے دونی تم پہنچا چکے ہو تو کہنے لگو کہ یہ کہاں سے آئی تم فرما دو کہ وہ تمہاری ہی طرف سے آئی بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے ۔
Tafseer (Urdu)
{او لما اصابتكم مصیبة:کیا جب تمہیں کوئی مصیبت پہنچی۔ }یہاں غزوہ احد کا بیان ہے ۔ اسی پیرائے میں یہاں بیان کیا جارہا ہے کہ تمہیں میدان احدمیں تکلیف پہنچی کہ تم میں سے ستر شہید ہوئے جبکہ میدان بدر میں کفار کے ستر ادمی مارے گئے اور ستر گرفتار ہوئے تو کفار کا نقصان تو دگنا ہوا۔ اس پر فرمایا کہ جب تمہیں میدان احد میں ایسی تکلیف پہنچی جس سے دگنی تکلیف تم کافروں کومیدان بدر میں پہنچا چکے تھے تو تم کہنے لگے کہ ہمیں یہ تکلیف کیسے آگئی جبکہ ہم مسلمان ہیں اور ہم میں سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تشریف فرما ہیں۔ اس پر انہیں جواب دیا گیا کہ اے حبیب !صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمتم ان سے فرمادو کہ یہ تمہاری اپنی ہی طرف سے آئی ہے کہ تم نے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی مرضی کے خلاف مدینہ طیبہ سے باہر نکل کر جنگ کرنے پر اصرار کیا پھر وہاں پہنچنے کے بعد تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شدید ممانعت کے باوجود غنیمت کے لئے مرکز کوچھوڑا ۔ یہی بات تمہارے قتل اور نقصان کا سبب بنی ہے۔مزید اگلی ایت میں فرمایا کہ میدان احد میں کافروں اور مسلمانوں کے مقابلے کے دن تمہیں جو تکلیف پہنچی تووہ اللہ عزوجل کے حکم سے تھی اور اس لئے پہنچی کہ اللہ عزوجل ایمان والوں کی پہچان کرادے لہذا اللہ عزوجل کے فیصلے پر راضی رہو ۔