Surah Al Imran Ayat 198 (3:198)
Family of Imran · Juz 4 · Madani
لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِٝ 198
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariلیکن وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ، ہمیشہ ان میں رہیں گے (یہ) اللہ کی طرف سے مہمان نوازی کا سامان ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ نیکوں کے لئے بہترین چیز ہے ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanلیکن وہ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ان میں رہیں اللہ کی طرف کی مہمانی اور جو اللہ کے پاس ہے وہ نیکوں کے لئے سب سے بھلا۔
Tafseer (Urdu)
{لهم جنت: ان کیلئے جنتیں ہیں۔ }کافروں کی دنیاوی عارضی اورفانی راحت و ارام کے ذکر کے بعد مسلمانوں کے اخرت کے دائمی ابدی راحت و ارام یعنی جنت کا بیان ہورہا ہے۔ دنیا کی راحتیں اور جنت کی ابدی نعمتیں کس کے لئے ہیں : صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے در رحمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ سلطان کونین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ایک بوریئے پر آرام فرما رہے ہیں سر اقدس کے نیچے چمڑے کا تکیہ ہے جس میں ناریل کے ریشے بھرے ہوئے ہیں اور جسم مبارک پر بوریئے کے نشانات نقش ہو گئے ہیں۔ یہ حال دیکھ کر سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ رو پڑے۔ سرور کائنات صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے رونے کا سبب دریافت کیا تو عرض کیا کہ’’ یا رسول اللہ ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم قیصر و کسری تو عیش وارام میں ہوں اور آپ اللہ عزوجل کے رسول ہو کر اس حالت میں۔ نبی رحمت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عمر! رضی اللہ تعالی عنہ کیا تمہیں پسند نہیں کہ ان کے لئے دنیا ہو اور ہمارے لئے آخرت ۔ (بخاری کتاب التفسیر باب تبتغی مرضاۃ ازواجک۔۔۔ الخ ۳ / ۳۵۹ الحدیث: ۴۹۱۳) حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ایک دن سرکار عالی وقارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر تشریف لے گئے اپ رضی اللہ تعالی عنہااونٹ کے بالوں سے بنا موٹا لباس پہنے چکی میں اٹا پیس رہی تھیں جب نبیوں کے سلطان صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ان پر نظر پڑی تو انکھوں سے سیل اشک رواں ہو گیا رحمت عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’دنیا کی تنگی و سختی کا گھونٹ پی لوتاکہ جنت کی ابدی نعمتیں حاصل ہوں۔(احیاء علوم الدین کتاب الفقر والزہد بیان تفضیل الزہد فیما ہو من ضروریات الحیاۃ ۴ / ۲۸۷) حضرت ثابت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک مرتبہ پانی طلب فرمایا تو اپ رضی اللہ تعالی عنہ کو شہد کا پیالہ پیش کیا گیااپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اس پیالے کو اپنے ہاتھ پر رکھ کر فرمایا ’’اگر میں اسے پی لوں تو اس کی مٹھاس چلی جائے گی لیکن ا س کا حساب (میرے ذمے ) باقی رہے گا۔ اپ رضی اللہ تعالی عنہ نے تین مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی پھر وہ پیالہ ایک شخص کو دے دیا اور ا س نے وہ شہد پی لیا۔ (اسد الغابہ باب العین والمیم عمر بن الخطاب ۴ / ۱۶۷) حضرت ابن ابی ملیکہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے سامنے کھانا رکھا ہوا تھا اس دوران ایک غلام نے ا کر عرض کی : حضرت عتبہ بن ابی فرقد رضی اللہ تعالی عنہ دوازے پر کھڑے ہیں۔ اپ رضی اللہ تعالی عنہ نے انہیں اند رانے کی اجازت دی۔جب حضرت عتبہ رضی اللہ تعالی عنہ ائے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کھانے میں سے کچھ انہیں دیا۔ حضرت عتبہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے کھایا تو وہ ایسا بد مزہ تھا کہ اپ رضی اللہ تعالی عنہ اسے نگل نہ سکے۔ اپ رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی : اے امیر المومنین!رضی ا للہ تعالی عنہ کیا اپ کو حواری نامی کھانے میں رغبت ہے (تاکہ اپ کی بارگاہ میں وہ کھاناپیش کیا جائے) ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ’’کیا وہ کھانا ہر مسلمان کو میسر ہے حضرت عتبہ رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی: خدا کی قسم! نہیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ’’اے عتبہ ! تم پر افسوس ہے کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں دنیوی زندگی میں مزیدار کھانا کھاوں اور اسودگی کے ساتھ زندگی گزاروں۔(اسد الغابہ باب العین والمیم عمر بن الخطاب ۴ / ۱۶۸) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ نعمتیں تیار کر رکھی ہیں کہ جنہیں نہ کسی انکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی ادمی کے دل پر ان کا خطرہ گزرا۔(بخاری کتاب بدء الخلق باب ما جاء فی صفۃ الجنۃ وانہا مخلوقۃ ۲ / ۳۹۱ الحدیث: ۳۲۴۴) حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جنت کی اتنی جگہ جس میں کوڑا رکھ سکیں دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب سے بہتر ہے۔(بخاری کتاب بدء الخلق باب ما جاء فی صفۃ الجنۃ وانہا مخلوقۃ ۲ / ۳۹۲ الحدیث: ۳۲۵۰)