Surah Al Imran Ayat 200 (3:200)
Family of Imran · Juz 4 · Madani
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 200
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے ایمان والو!صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواوراسلامی سرحد کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ا س امید پر کہ تم کامیاب ہوجاؤ ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے ایمان والو صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔
Tafseer (Urdu)
{اصبروا و صابروا:صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے اگے رہو۔}صبر کا معنی ہے نفس کو اس چیز سے روکنا جو شریعت اور عقل کے تقاضوں کے مطابق نہ ہو ۔ اور مصابرہ کا معنی ہے دوسروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا ۔ صبر کے تحت ا س کی تمام اقسام داخل ہیں جیسے توحیدعدلنبوت اور حشرو نشر کی معرفت حاصل کرنے میں نظر و استدلال کی مشقت برداشت کرنے پر صبر کرنا ۔ واجبات اور مستحبات کی ادائیگی کی مشقت پر صبر کرنا ۔ ممنوعات سے بچنے کی مشقت پر صبر کرنا ۔ دنیا کی مصیبتوں اور افتوں جیسے بیماری محتاجی قحط اور خوف وغیرہ پر صبر کرنا اور مصابرہ میں گھر والوں پڑوسیوں اور رشتہ داروں کی بد اخلاقی برداشت کرنا اور برا سلوک کرنے والوں سے بدلہ نہ لینا داخل ہے اسی طرح نیکی کا حکم دینا برائی سے منع کرنا اور کفار کے ساتھ جہاد کرنا بھی مصابرہ میں داخل ہے ۔(خازن ال عمران تحت الایۃ: ۲۰۰ ۱ / ۳۴۰ تفسیر کبیر ال عمران تحت الایۃ: ۲۰۰ ۳ / ۴۷۳ ملتقطا) {و رابطوا:اور اسلامی سرحد کی نگہبانی کرو۔ } اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں (1) سرحد پر اپنے جسموں اور گھوڑوں کو کفار سے جہاد کے لئے تیار رکھو ۔ (2)اللہ تعالی کی اطاعت پر کمر بستہ رہو ۔(بیضاوی ال عمران تحت الایۃ: ۲۰۰ ۲ / ۱۳۷) اسلامی سرحد کی نگہبانی کرنے کے فضائل: اسلامی ملک کی سرحد کی حفاظت کے لئے وہاں رکنے کی بہت فضیلت ہے چنانچہ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’راہ خدا میں ایک دن سرحد کی نگہبانی کرنا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے(بخاری کتاب الجہاد والسیر باب فضل رباط یوم فی سبیل اللہ ۲ / ۲۷۹ الحدیث: ۲۸۹۲) حضرت سلمان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’ایک دن اور ایک رات سرحد کی حفاظت کرنا ایک مہینے کے روزوں اور قیام سے بہتر ہے حفاظت کرنے والا اگر مر گیا تو اس کے اس عمل کا اجر جاری رہے گا اور وہ فتنہ قبر سے محفوظ رہے گا ۔(مسلم کتاب الامارۃ باب فضل الرباط فی سبیل اللہ عزوجل ص ۱۰۵۹ الحدیث: ۱۶۳(۱۹۱۳))