Surah Al Imran Ayat 24 (3:24)
Family of Imran · Juz 3 · Madani
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ۪- وَّ غَرَّهُمْ فِیْ دِیْنِهِمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ 24
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیہ جرأت انہیں اس لئے ہوئی کہ وہ کہتے ہیں : ہرگز ہمیں آگ نہ چھوئے گی مگر گنتی کے چنددن اور انہیں ان کی (ایسی ہی) من گھڑت باتوں نے ان کے دین کے بارے میں دھوکے میں ڈالاہوا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیہ جرأت انہیں اس لئے ہوئی کہ وہ کہتے ہیں ہرگز ہمیں آگ نہ چھوئے گی مگر گنتی کے دنوں اور ان کے دین میں انہیں فریب دیا اس جھوٹ نے جو باندھتے تھے۔
Tafseer (Urdu)
{ذلك بانهم قالوا: یہ جرات انہیں اس لئے ہوئی کہ وہ کہتے ہیں۔} ایت میں فرمایا گیا کہ یہودیوں کو اللہ عزوجل کی کتاب اور اس کے احکام سے منہ پھیرنے کی یہ جرات اس لئے ہوئی کہ انہوں نے اپنی نجات و بخشش کے من گھڑت خیالات پال رکھے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ یہ کہتے ہیں : ہمیں جہنم کی آگ ہرگز نہ چھوئے گی مگر گنتی کے چنددن یعنی چالیس دن یا ایک ہفتہ پھر کچھ غم نہیں۔ یا یہودی کہتے تھے کہ’’ ہم اللہ عزوجل کے پیارے ہیں (المائدہ : ۱۸) اللہ تعالی نے اس طرز عمل پر فرمایا کہ’’ ان کی ایسی ہی من گھڑت باتوں نے ان کے دین کے بارے میں انہیں دھوکے میں ڈالا ہوا ہے۔ عمل سے منہ پھیر کر امید کی دنیا میں گھومنے کا انجام: ہمارے لئے اس میں درس عبرت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی قوم کی تباہی اسی صورت میں ہوتی ہے جب وہ عمل سے منہ پھیر کر صرف ارزو اور امید کی دنیا میں گھومتی رہتی ہے۔ جو شخص لاکھوں روپے کمانے کی تمنا رکھتا ہے لیکن اس کیلئے محنت کرنے کو تیار نہیں وہ کبھی ایک روپیہ بھی نہیں کما سکتا۔ جو قوم ترقی کرنے کی خواہشمند ہو لیکن اپنی بداعمالیاں کام چوریاں اور خیانتیں چھوڑنے کو تیار نہیں وہ کبھی ترقی کی شاہراہ پر قدم نہیں رکھ سکتی۔ یونہی جو لوگ اطاعت الہی اور اتباع رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے قریب بھی نہ ائیں اور اپنی نسبتوں پر پھولتے پھریں وہ بھی احمقوں کی دنیاکے باسی ہیں اور افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایسوں کی کثرت ہے ۔ہمارے واعظین خطباء اور پیر صاحبان جو کچھ بیان فرماتے ہیں سب کے سامنے ہے۔ خوف خدا قبر کی تیاری اخرت کی فکر بارگاہ الہی کی جواب دہی پر شاید ہی کبھی کلام ہو اور رحمت کے موضوع پر اس قدر بیان کہ لوگ جری ہوچکے ہیں۔اور اس کے نتیجے میں قوم کی عملی حالت کہاں پہنچی ہوئی ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔اس حوالے سے امت کے حکیم امام غزالی رحمۃاللہ تعالی علیہ کا حقیقت شناس کلام پڑھئے۔ اپ نے کیمیائے سعادت میں تحریر فرمایا ہے: (اگر) علماء بھی وعظ و نصیحت کی بجائے بازاری مقررین کا انداز اختیار کر لیں لغویات وواہیات بیہودہ گوئی اور بیکار باتوں سے دل بہلانا شروع کر دیں جو عموما دیکھا گیا ہے تو لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہو جائیں گے کہ کوئی بات نہیں ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں رحمت خداوندی ہمارے شامل حال رہے گی تو قوم کا حال غافلین سے بد تر ہو جائے گا۔ ظاہر ہے جب عام ادمی مجلس وعظ میں ایسی خرافات سنے گالازما ویسی ہی صفات اس میں پید ا ہوں گی اخرت کے خطرات سے ڈرنا تو در کنار اس کے دل سے اخرت کا خیال بھی نکل جائے گا پھر اسے جو کچھ بھی کہا جائے وہ یہی کہتا رہے گا : اللہ عزوجل بڑا رحیم وکریم ہے میرے گناہوں سے اس کا کیا بگڑتا ہے اورا س کی جنت کوئی تنگ و تاریک معمولی سی کوٹھڑی تھوڑی ہے بلکہ وہ تو زمین و اسمان سے بھی زیادہ وسیع وکشادہ ہے وہاں تو کروڑوں انسان باسانی سما جائیں گے تو مجھ جیسے گناہگار سے اللہ تعالی کا تنگ ا جانا خدا کی رحمت سے بعید ہے۔ ایسی ایسی لغویات اس کے دل و دماغ پر مسلط ہو جاتی ہیں۔ (کیمیائے سعادت رکن سوم: مہلکاتاصل دہم علاج غفلت ونادانی ۲ / ۷۳۲) ذرا غور کریں کہ کیا امام غزالی رحمۃاللہ تعالی علیہ کا فرمان ہمارے اج کے معاشرے پر صادق نہیں اتا۔