Surah Al Imran Ayat 26 (3:26)
Family of Imran · Juz 3 · Madani
قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ٘-وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُؕ-بِیَدِكَ الْخَیْرُؕ-اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ 26
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیوں عرض کرو، اے اللہ !مُلک کے مالک! تو جسے چاہتاہے سلطنت عطا فرماتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے اور توجسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے ،تمام بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، بیشک تو ہر شے پر قدرت رکھنے والاہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیوں عرض کر اے اللہ ملک کے مالک تو جسے چاہے سلطنت دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے، اور جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، ساری بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے بیشک تو سب کچھ کرسکتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{قل اللهم ملك الملك: یوں عرض کرو اے اللہ! ملک کے مالک! }فتح مکہ کے وقت سید الانبیاء صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنی امت کوایران و روم کی سلطنت کی بشارت دی کہ یہ مسلمانوں کے ہاتھ ائے گی۔ اس پر یہود و منافقین کو بڑا تعجب ہوا اور کہنے لگے کہاں محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور کہاں فارس و روم کے ملک یہ تو بڑے زبردست اور نہایت محفوظ ملک ہیں اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور آخر کار حضوراکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا وہ وعدہ پورا ہوکر رہا۔(خازن ال عمران تحت الایۃ: ۲۶ ۱ / ۲۴۰) سلطنت و حکومت بلکہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ تعالی کی ملک ہے جسے چاہے عطا فرمائے۔ کتنی بڑی بڑی سلطنتیں گزریں جن کے زمانے میں کوئی تصور بھی نہ کرسکتا تھا کہ یہ بھی کبھی فنا ہوں گی لیکن اللہ مالک الملک کی زبردست قوت وقدرت کا ایسا ظہور ہوا کہ اج ان کے نام و نشان مٹ گئے۔ یونان کا سکندر اعظم عراق کا نمرود ایران کا کسری ونوشیرواں ضحاک فریدوں جمشید مصر کے فرعون منگول نسل کے چنگیز اور ہلاکو خان بڑے بڑے نامور حکمران اب صرف قصے کہانیوں میں رہ گئے اور باقی ہے تو رب العالمین کا نام اور حکومت باقی ہے اور اسی کو بقا ہے۔ یونہی عزت و ذلت دینا اللہ تعالی کی قدرت میں ہے۔ دور دراز کے گاوں بستیوں سے چھوٹے اور غریب خاندانوں سے اٹھا کرتخت حکومت پر بٹھا دینا غلاموں کو بادشاہت عطا کردینا اللہ تعالی کی قدرت ہے اور معاشرے کے معزز ترین بلکہ دوسروں کو عزتیں اور خلعتیں بخشنے والوں کو ذلت و گمنامی کے عمیق گڑھوں میں پھینک دینا اسی احکم الحاکمین مولی تعالی کی قدرت ہے۔