Surah Al Imran Ayat 29 (3:29)
Family of Imran · Juz 3 · Madani
قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُؕ-وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ 29
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرمادو کہ تم اپنے دل کی بات چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ کو سب معلوم ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اوروہ ہر شے پر قدرت رکھنے والاہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرمادو کہ اگر تم اپنے جی کی بات چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ کو سب معلوم ہے، اور جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور ہر چیز پر اللہ کا قابو ہے ۔
Tafseer (Urdu)
{یوم تجد كل نفس: جس دن ہر شخص پائے گا۔} سورہ ال عمران کی ایت نمبر 29 30ہر شخص کی اصلاح کیلئے کافی ہے۔ اس ایت پر جتنا زیادہ غور کریں گے اتنا ہی دل میں خوف خدا پیدا ہوگا اور گناہوں سے نفرت پیدا ہوگی۔ چنانچہ فرمایا کہ تم فرمادو کہ اگر تم اپنے دل کی باتیں چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ عزوجل کو سب معلوم ہے۔ تمہارے دلوں کا ایمان و نفاق قلوب کی طہارت و خباثت اچھے برے خیالات نیک و بد ارادے صحیح و فاسد منصوبے ساری دنیا سے چھپ سکتے ہیں مگر اللہ عزوجل عالم ا لغیب و الشہادۃ کے حضور سب ظاہر ہے۔ وہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب جانتا ہے ۔ وہ تمہیں فرماتا ہے کہ تم اپنے دل کی بات چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ عزوجل کو سب معلوم ہے اور اس دن کو یاد رکھو جس دن ہر شخص اپنے تمام اچھے اور برے اعمال اپنے سامنے موجود پائے گا۔ خلوتوں جلوتوں میں کئے ہوئے اعمال پہاڑوں سمندروں غاروں صحراوں جزیروں اور کائنات کے کسی بھی کونے میں کئے گئےاعمال کا ایک ایک ذرہ ادمی کے سامنے موجود ہوگا اور اس وقت برے اعمال والا تمنا کرے گاکہ کاش اس کے درمیان اور اس کے اعمال کے درمیان کوئی دور دراز کی مسافت حائل ہوجائے اور کسی طرح ان اعمال سے چھٹکارا ہوجائے مگر ایسا نہ ہوسکے گا۔ایت مبارکہ کے حوالے سے سلف و صالحین کے طرز عمل کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے ذیل کے واقعات کا مطالعہ فرمائیں : عمر اور گناہوں کا حساب کرنے والے بزرگ: حضرت توبہ بن صمہ رحمۃاللہ تعالی علیہ نے اپنے نفس کامحاسبہ کرتے ہوئے ایک دن حساب لگایا تو ان کی عمر 60 سال تھی دنوں کا حساب کیا تو وہ 21500تھے انہوں نے چیخ ماری اور فرمایا: ہائے افسوس! (اگر میں نے روزانہ ایک گناہ کیا ہو تو) میں حقیقی بادشاہ سے 21500گناہوں کے ساتھ ملاقات کروں گا اور جب روزانہ 10,000گناہ ہوں تو کیا صورت حال ہو گی یہ سوچ کر اپ رحمۃاللہ تعالی علیہ غش کھا کر گر پڑے اور اپ رحمۃاللہ تعالی علیہ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔(احیاء علوم الدینکتاب المراقبۃ والمحاسبۃ بیان حقیقۃ المحاسبۃ بعد العمل ۵ / ۱۳۹) نیند سے پاک رب تعالی ہمیں دیکھ رہا ہے: ایک شخص کسی عورت پر فریفتہ ہوگیا ۔جب وہ عورت کسی کام سے قافلے کے ساتھ سفر پر روانہ ہوئی تو یہ ادمی بھی اس کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ جب جنگل میں پہنچ کر سب لوگ سو گئے تو اس ادمی نے اس عورت سے اپنا حال دل بیان کیا۔ عورت نے اس سے پوچھا:کیا سب لوگ سو گئے ہیں یہ دل ہی دل میں بہت خوش ہوا کہ شاید یہ عورت بھی میری طرف مائل ہو گئی ہے چنانچہ وہ اٹھا اور قافلے کے گرد گھوم کر جائزہ لیا تو سب لوگ سورہے تھے ۔ واپس اکر اس نے عورت کو بتایا کہ ہاں ! سب لوگ سو گئے ہیں۔ یہ سن کر وہ عورت کہنے لگی :اللہ تعالی کے بارے میں تم کیا کہتے ہوکیا وہ بھی اس وقت سو رہا ہےمرد نے جواب دیا: اللہ تعالی نہ سوتا ہے نہ اسے نیند اتی ہے اور نہ اسے اونگھ اتی ہے ۔ عورت نے کہا :جو نہ کبھی سویا اور نہ سوئے گا اوروہ ہمیں بھی دیکھ رہاہے اگرچہ لوگ نہیں دیکھ رہے تو ہمیں اس سے زیادہ ڈرنا چاہئے۔ یہ بات سن کر اس ادمی نے اللہ تعالی کے خوف کے سبب اس عورت کو چھوڑ دیا اور گناہ کے ارادے سے باز اگیا۔ جب اس شخص کا انتقال ہوا تو کسی نے اسے خواب میں دیکھا اور پوچھا’’مافعل اللہ بک‘‘ یعنی اللہ تعالی نے تیرے ساتھ کیا معاملہ فرمایا تو اس نے جواب دیا:اللہ تعالی نے مجھے گناہ چھوڑ دینے اور اپنے خوف کے سبب بخش دیا۔(مکاشفۃ القلوب الباب الثانی فی الخوف من اللہ تعالی۔۔۔ الخ ص۱۱)