Surah Al Imran Ayat 50 (3:50)
Family of Imran · Juz 3 · Madani
وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ۫-فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ 50
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاورمجھ سے پہلے جو توریت کتاب ہے اس کی تصدیق کرنے والا بن کرآیا ہوں اور اس لئے کہ تمہارے لئے کچھ وہ چیزیں حلال کردوں جو تم پر حرام کی گئی تھیں اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور تصدیق کرتا آیا ہوں اپنے سے پہلی کتاب توریت کی اور اس لئے کہ حلال کروں تمہارے لئے کچھ وہ چیزیں جو تم پر حرام تھیں اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لایا ہوں ، تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔
Tafseer (Urdu)
{و مصدقا: اور تصدیق کرنے والا۔} حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام توریت کے کتاب اللہ اور حق ہونے کی تصدیق کیلئے بھی تشریف لائے تھے اور اس کے بعض احکام کو منسوخ فرمانے بھی چنانچہ بعض وہ چیزیں جو شریعت موسی علیہ الصلوۃ والسلام میں حرام تھیں جیسے اونٹ کاگوشت اورکچھ پرندے تو اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں حلال فرما دیا۔ ایت سے معلوم ہوا کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اذن خداوندی سے حلال و حرام فرمانے کے مختار ہیں کیونکہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ میں حلال کرتا ہوں۔ حلال و حرام کرنے کی نسبت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی طرف اور بھی کئی جگہوں پر کی گئی ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بارے میں سورہ اعراف ایت 157 میں یہی نسبت موجود ہے۔ اس کی مزید تفصیل جاننے کیلئے فتاوی رضویہ کی 30ویں جلد میں موجوداعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کی کتاب ’’الامن والعلی لناعتی المصطفی بدافع البلاء ( مصطفی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو دافع البلاء یعنی بلائیں دور کرنے والا کہنے والوں کے لئے انعامات)‘‘کا مطالعہ فرمائیں۔