Surah Al Imran Ayat 66 (3:66)
Family of Imran · Juz 3 · Madani
هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ 66
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariسن لو: تم وہی لوگ ہوجو پہلے اس معاملے میں جھگڑ تے تھے جس کا تمہیں علم تھا تو (اب) اس میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں علم ہی نہیں ؟ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanسنتے ہو یہ جو تم ہو اس میں جھگڑے جس کا تمہیں علم تھا تو اس میں مجھ سے کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں علم ہی نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
Tafseer (Urdu)
{هانتم هؤلآء: سن لو: تم وہی لوگ ہو۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ تم ہی ہو کہ تمہاری کتابوں میں نبی اخر الزمان صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ظہور اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نعت و صفت کا بیان موجود ہے اس کے باوجود تم حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ایمان نہ لائے اور تم نے اس میں جھگڑا کیا تو جب معلوم باتوں میں تم جھگڑا کرتے ہو تو ان باتوں میں کیوں جھگڑتے ہو جن کا تمہیں علم ہی نہیں یعنی حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو یہودی یا نصرانی کہتے ہوحالانکہ تمہیں اس کا علم ہی نہیں ہے اورحقیقت حال یہ ہے کہ کسی یہودی یا نصرانی یا مشرک کا اپنے آپ کو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا پیروکار کہنا درست نہیں کیونکہ وہ نہ یہودی تھے نہ عیسائی اور نہ مشرک بلکہ ہر باطل سے جدا خالصتا اللہ تعالی کے فرمانبردار مسلمان بندے تھے۔