Surah Al Imran Ayat 91 (3:91)
Family of Imran · Juz 3 · Madani
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ 91
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک وہ لوگ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرگئے ان میں سے کوئی اگرچہ اپنی جان چھڑانے کے بدلے میں پوری زمین کے برابرسونا بھی دے تو ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا ۔ ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی مدد گار نہیں ہوگا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ان میں کسی سے زمین بھر سونا ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ اپنی خلاصی کو دے، ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی یار نہیں۔
Tafseer (Urdu)
{و ماتوا و هم كفار: اور کافر ہی مرے۔} اخرت کی نجات ایمان پر خاتمے پر ہے۔ کفر پر مرنے والا زمین بھر سونا بھی اپنے فدیے میں دیدے تب بھی اس کی نجات نہیں ہوسکتی۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ نجات کا دارومدار ایمان پر خاتمہ ہونے پر ہے۔ اگر کوئی شخص تمام عمر مومن رہا اورمرتے وقت کافر ہو گیا تو اس ایت میں شامل ہے اور اگر کوئی شخص ساری عمر کافر رہا لیکن مرتے وقت مومن ہو کر مرا تو وہ اس ایت سے خارج ہے۔اسی لئے صالحین سب سے زیادہ فکر ایمان پر خاتمے ہی کی کرتے تھے اور اللہ تعالی کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے تھے۔ چنانچہ حضرت یوسف بن اسباط رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : میں ایک مرتبہ حضرت سفیان ثوری رحمۃاللہ تعالی علیہ کے پاس حاضر ہوا۔ اپ رحمۃاللہ تعالی علیہ ساری رات روتے رہے ۔ میں نے دریافت کیا : کیا اپ رحمۃاللہ تعالی علیہ گناہوں کے خوف سے رو رہے ہیں تو اپ رحمۃاللہ تعالی علیہ نے ایک تنکا اٹھایا اور فرمایا کہ گناہ تواللہ تعالی کی بارگاہ میں اس تنکے سے بھی کم حیثیت رکھتے ہیں مجھے تو اس بات کا خوف ہے کہ کہیں ایمان کی دولت نہ چھن جائے۔ (منہاج العابدین العقبۃ الخامسۃ اصول سلوک طریق الخوف والرجاء الاصل الثالث ص۱۶۹) فکر معاش بد بلا ہول معاد جانگزا لاکھوں بلا میں پھنسنے کو روح بدن میں ائی کیوں