Surah 30
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
الٓمّٓۚ (1)
الم۔
غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ (2)
رومی مغلوب ہوگئے۔
فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ (3)
قریب کی زمین میں اور وہ اپنی شکست کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔
فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ۬ؕ-لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُؕ-وَ یَوْمَىٕذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ (4)
چند سالوں میں ۔ پہلے اور بعدحکم الله ہی کا ہے اور اس دن ایمان والے خوش ہوں گے۔
بِنَصْرِ اللّٰهِؕ-یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ (5)
الله کی مدد سے۔وہ جس کی چاہے مدد کرتا ہے اور وہی غالب، مہربان ہے۔
وَعْدَ اللّٰهِؕ-لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(6)
الله کا وعدہ ہے۔ الله اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ۔
یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ۚۖ-وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ(7)
آنکھوں کے سامنے کی دنیوی زندگی کو جانتے ہیں اور وہ آخرت سے بالکل غافل ہیں۔
اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ- مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّىؕ-وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ(8)
کیا انہوں نے اپنے دلوں میں غوروفکر نہیں کیا کہ الله نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو حق اور ایک مقررہ مدت کے ساتھ پیدا کیااور بیشک بہت سے لوگ اپنے رب سے ملنے کے منکر ہیں ۔
اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ-كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِؕ-فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَﭤ(9)
اور کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے کہ ان سے پہلے لوگوں کا انجام کیسا ہوا؟وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے اور انہوں نے زمین میں ہل چلائے اوراُنہوں نے زمین کواُس سے زیادہ آباد کیا جتنا اِنہوں نے آباد کیاہے اور اُن کے رسول اُن کے پاس روشن نشانیاں لائے تو الله کی یہ شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرتاہاں وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔
ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓ اٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ (10)
پھربرائی کرنے والوں کا انجام سب سے برا ہوا کیونکہ انہوں نے الله کی آیتوں کو جھٹلایا اور وہ ان آیتوں کا مذاق اڑاتے تھے۔
اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ(11)
الله پہلے بناتا ہے پھر وہ دوبارہ بنائے گا پھر ا س کی طرف تم پھیرے جاؤ گے۔
وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ(12)
اور جس دن قیامت قائم ہو گی مجرم مایوس ہوجائیں گے۔
وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآىٕهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآىٕهِمْ كٰفِرِیْنَ(13)
اور ان کے شریک ان کے سفارشی نہ ہوں گے اور وہ اپنے شریکوں سے منکر ہو جائیں گے۔
وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَىٕذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ(14)
اور جس دن قیامت قائم ہو گی اس دن لوگ الگ ہو جائیں گے۔
فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ(15)
تو و ہ جو ایمان لائے اورانہوں نے اچھے کام کئے تو وہ (جنت کے) باغ میں خوش رکھے جائیں گے۔
وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓىٕكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ(16)
اور جو کافر ہوئے اور انہوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کے ملنے کو جھٹلایا تووہ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے۔
فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ(17)
تو الله کی پاکی بیان کرو جب شام کرو اور جب صبح کرو۔
وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ(18)
اوراسی کیلئے تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں اور اس وقت جب دن کا کچھ حصہ باقی ہو اور جب تم دوپہر کرو۔
یُخْرِ جُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِ جُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَاؕ-وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ (19)
وہ زندہ کوبے جان سے نکالتاہے اور بے جان کو زندہ سے نکالتا ہے اور زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعدزندہ کرتا ہے اور یوں ہی تم نکالے جاؤ گے۔
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ(20)
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر جبھی تم انسان ہوجو دنیا میں پھیلے ہوئے ہو۔
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةًؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ(21)
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کی طرف آرام پاؤ اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھی۔ بے شک ا س میں غوروفکر کرنے والوں کیلئے نشانیاں ہیں ۔
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ(22)
اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف اس کی نشانیوں میں سے ہے، بے شک اس میں علم والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ(23)
اور رات اور دن میں تمہارا سونا اور اس کا فضل تلاش کرنا اس کی نشانیوں میں سے ہے ،بے شک اس میں سننے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَاؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ(24)
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہیں ڈرانے اور (بارش کی) امید دلانے کیلئے بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے پانی اتارتا ہے تو ا س کے ذریعے زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے۔بیشک اس میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖؕ-ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً ﳓ مِّنَ الْاَرْضِ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ(25)
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ اس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں پھر جب تمہیں زمین سے ایک ند افرمائے گا جبھی تم نکل پڑو گے۔
وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ(26)
اور اسی کی ملکیت میں ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اس کے زیرِ حکم ہیں ۔
وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِؕ-وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ ٛ (27)
اور وہی ہے جو اول بناتا ہے پھر اسے دوبارہ بنائے گا اور (تمہاری عقلوں کے اعتبار سے) دوسری مرتبہ بنانا الله پرپہلی مرتبہ بنانے سے زیادہ آسان ہے اور آسمانوں اور زمین میں سب سے بلند شان اسی کی ہے اور وہی عزت والا حکمت والا ہے۔
ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْؕ-هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْؕ-كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ(28)
الله نے تمہارے لئے خود تمہارے اپنے حال سے ایک مثال بیان فرمائی ہے (وہ یہ کہ) ہم نے تمہیں جو رزق دیا ہے کیا تمہارے غلاموں میں سے کوئی اس میں تمہارا اس طرح شریک ہے کہ تم اور وہ اس رزق میں برابر شریک ہوجاؤ۔ تم ان غلاموں (کی شرکت) سے اسی طرح ڈرتے ہو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے سے ڈرتے ہو۔ ہم عقل والوں کے لئے اسی طرح مفصل نشانیاں بیان فرماتے ہیں۔
بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍۚ-فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُؕ-وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ(29)
بلکہ ظالموں نے جہالت سے اپنی خواہشوں کی پیروی کی تو جس کو الله نے گمراہ کیا ہو اسے کون ہدایت دے سکتا ہے؟ اور ان کا کوئی مدد گار نہیں ۔
فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًاؕ-فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَاؕ-لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِؕ-ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُۗۙ-وَ لٰـكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ (30)
تو ہرباطل سے الگ ہو کر اپنا چہرہ الله کی اطاعت کیلئے سیدھا رکھو۔ (یہ) الله کی پیدا کی ہوئی فطرت (ہے) جس پر اس نے لوگوں کوپیدا کیا۔ الله کے بنائے ہوئے میں تبدیلی نہ کرنا۔ یہی سیدھا دین ہے مگر بہت سے لوگ نہیں جانتے۔
مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ (31)
اس کی طرف توبہ کرتے ہوئے اور اس سے ڈرو اور نماز قائم رکھو اور مشرکوں میں سے نہ ہونا۔
مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًاؕ-كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ(32)
ان لوگوں میں سے (نہ ہونا) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیااور خود گروہ گروہ بن گئے۔ ہر گروہ اس پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔
وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ (33)
اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو ا س کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتے ہیں پھرجب وہ انہیں اپنے پاس سے رحمت کا مزہ چکھاتا ہے تواس وقت ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے۔
لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْؕ-فَتَمَتَّعُوْاٙ-فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ(34)
تاکہ ہمارے دئیے ہوئے کی ناشکری کریں تو فائدہ اٹھالو تو عنقریب تم جان لو گے۔
اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ(35)
یا کیاہم نے ان پر کوئی دلیل اتاری ہے کہ وہ دلیل انہیں ہمارے شریک بتا رہی ہے۔
وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَاؕ-وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ(36)
اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں تواس پر خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں ان کے ہاتھوں کے آگے بھیجے ہوئے اعمال کی وجہ سے کوئی برائی پہنچے تواس وقت وہ نا امید ہو جاتے ہیں ۔
اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ(37)
اور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ الله رزق وسیع فرماتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے اور تنگ فرمادیتا ہے، بیشک اس میں ایمان والوں کیلئے نشانیاں ہیں ۔
فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ٘-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(38)
تو رشتے دار کو ا س کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو بھی۔ یہ ان لوگوں کیلئے بہتر ہے جو الله کی رضا چاہتے ہیں اور وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں ۔
وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِۚ-وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ(39)
اورجومال تم (لوگوں کو) دو تاکہ وہ لوگوں کے مالوں میں بڑھتا رہے تو وہ الله کے نزدیک نہیں بڑھتا اور جو تم الله کی رضا چاہتے ہوئے زکوٰۃ دیتے ہو تو وہی لوگ (اپنے مال) بڑھانے والے ہیں ۔
اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْؕ-هَلْ مِنْ شُرَكَآىٕكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍؕ-سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ (40)
الله ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیاپھر تمہیں روزی دی پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا کیا تمہارے شریکوں میں بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کرسکے۔ الله ان کے شرک سے پاک اور بلندوبالا ہے۔
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(41)
خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیاان برائیوں کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تاکہ الله انہیں ان کے بعض کاموں کا مزہ چکھائے تاکہ وہ باز آجائیں۔
قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُؕ-كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ(42)
تم فرماؤ: زمین پر چل کر دیکھو کہ ان سے پہلے لوگوں کا کیسا انجام ہوا؟ ان میں اکثر لوگ مشرک تھے۔
فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَىٕذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ(43)
تو اس دن کے آنے سے پہلے اپنا منہ دینِ مستقیم کیلئے سیدھا کرلو جس دن کو الله کی طرف سے ٹلنا نہیں ہے۔اس دن لوگ الگ الگ ہوجائیں گے۔
مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗۚ-وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ (44)
جس نے کفر کیا تو اس کے کفر کا وبال اسی پرہے اور جو اچھا کام کریں وہ اپنے ہی کیلئے تیاری کر رہے ہیں۔
لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ(45)
تا کہ الله ان لوگوں کو اپنے فضل سے جزا عطا فرمائے جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے ۔بیشک وہ کافروں کوپسندنہیں کرتا۔
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(46)
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ خوشخبری دیتی ہوئی ہوائیں بھیجتا ہے اور تاکہ تمہیں اپنی رحمت کا مزہ چکھائے اور تاکہ اس کے حکم سے کشتی چلے اورتاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر گزار ہوجاؤ۔
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْاؕ-وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ(47)
اور بیشک ہم نے تم سے پہلے کتنے رسول ان کی قوم کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پا س کھلی نشانیاں لائے پھر ہم نے مجرموں سے انتقام لیا اور مسلمانوں کی مدد کرناہمارے ذمہ ٔکرم پر ہے۔
اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُ جُ مِنْ خِلٰلِهٖۚ-فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ(48)
الله ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے تووہ ہوائیں بادل ابھارتی ہیں پھر الله اس بادل کو آسمان میں جیساچاہتا ہے پھیلا دیتا ہے اور (کبھی) اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے تو تو دیکھتاہے کہ اس کے بیچ میں سے بارش نکلتی ہے پھر جب اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس تک وہ بارش پہنچاتا ہے توجبھی وہ خوش ہوجاتے ہیں ۔
وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ(49)
اگرچہ اس بارش کے اتارے جانے سے پہلے وہ بڑے ناامید ہوتے ہیں ۔
فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَاؕ-اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰىۚ-وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(50)
تو الله کی رحمت کے نشانات دیکھو کہ وہ کس طرح زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے بیشک وہ مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے۔
وَ لَىٕنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ(51)
اور اگر ہم کوئی ہوابھیجیں جس سے وہ کھیتی کو زرد دیکھیں تو ضرور اس کے بعد ناشکری کرنے لگیں گے۔
فَاِنَّكَ لَا تُسْمِـعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِـعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ(52)
پس بیشک تم مُردوں کو نہیں سناسکتے اور نہ بہروں کو پکار سنا سکتے ہو جب وہ پیٹھ دے کر پھر یں ۔
وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْؕ-اِنْ تُسْمِـعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ (53)
اور نہ تم اندھو ں کو ان کی گمراہی سے سیدھا راستہ دکھا سکتے ہو تو تم اسی کو سناسکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں پھر وہ فرمانبردار ہیں۔
اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةًؕ-یَخْلُقُ مَا یَشَآءُۚ-وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ(54)
الله ہی ہے جس نے تمہیں کمزور پیدا فرمایا پھر تمہیں کمزوری کے بعد قوت بخشی پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا ۔ وہ جوچاہتا ہے پیدا کرتا ہے ،وہی علم والا،بڑی قدرت والا ہے۔
وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ﳔ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍؕ-كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ(55)
اور جس دن قیامت قائم ہو گی مجرم قسم کھائیں گے کہ وہ تو صرف ایک گھڑی ہی رہے ہیں۔ اسی طرح وہ اوندھے جاتے تھے۔
وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ٘-فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(56)
اورجنہیں علم اور ایمان دیا گیا وہ کہیں گے:بیشک الله کے لکھے ہوئے میں تم مرنے کے بعد اٹھنے کے دن تک رہے ہو تو یہ مرنے کے بعد اٹھنے کا دن ہے لیکن تم نہ جانتے تھے۔
فَیَوْمَىٕذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ(57)
تو ا س دن ظالموں کوان کا معافی مانگنا نفع نہ دے گا اور نہ ان سے رجوع کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍؕ-وَ لَىٕنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ(58)
اور بیشک ہم نے لوگوں کے لئے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال بیان فرمائی اور اگر تم ان کے پاس کوئی نشانی لاؤ تو ضرور کافر کہیں گے تم تو نہیں مگر باطل پر۔
كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ(59)
اسی طرح اللہ جاہلوں کے دلوں پرمہر لگا دیتا ہے۔
فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ (60)
تو صبر کرو بے شک الله کا وعدہ سچا ہے اور یقین نہ کرنے والے تمہیں طیش پر نہ ابھاریں ۔

