IQRA QURAN Logo

IQRA QURAN

Your Digital Companion

Surah 31

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

الٓمّٓۚ (1)

الم۔

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ (2)

یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں ۔

هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ (3)

نیکوں کیلئے ہدایت اور رحمت ہیں۔

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَﭤ(4)

وہ جو نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔

اُولٰٓىٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(5)

وہی اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ ﳓ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًاؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ(6)

اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں تاکہ بغیر سمجھے الله کی راہ سے بہکادیں اورانہیں ہنسی مذاق بنالیں ۔ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًاۚ-فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ(7)

اور جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو تکبر کرتا ہوا پھرجاتا ہے جیسے اس نے ان (آیات) کو سنا ہی نہیں ، گویا اس کے کانوں میں بوجھ ہے تو اسے دردناک عذاب کی خوشخبری دے دو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ (8)

بیشک جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے ان کے لیے نعمتوں کے باغات ہیں ۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّاؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(9)

ہمیشہ ان میں رہیں گے، (یہ) الله کا سچاوعدہ ہے اور وہی عزت والا، حکمت والا ہے۔

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍؕ-وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ(10)

اس نے آسمانوں کو ان ستونوں کے بغیر بنایاجو تمہیں نظر آئیں اور زمین میں لنگرڈال دئیے تاکہ زمین تمہیں لے کر ہلتی نہ رہے اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلائے اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا تو زمین میں ہر نفیس قسم کا جوڑا اگایا۔

هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖؕ-بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ (11)

یہ تو الله کا بنایا ہوا ہے تو (اے مشرکو!) تم مجھے کوئی ایسی چیز دکھاؤ جو الله کے سوا اوروں نے بنائی ہو بلکہ ظالم کھلی گمراہی میں ہیں ۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِؕ-وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ(12)

اور بیشک ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی کہ الله کا شکرادا کر اور جو شکر اداکرے تووہ اپنی ذات کیلئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو بیشک الله بے پرواہ ہے، حمد کے لائق ہے۔

وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِﳳ-اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ(13)

اور یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اے میرے بیٹے! کسی کو الله کا شریک نہ کرنا، بیشک شرک یقینا بڑا ظلم ہے۔

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِۚ-حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَؕ-اِلَیَّ الْمَصِیْرُٜ (14)

اور ہم نے آدمی کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید فرمائی۔ اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری برداشت کرتے ہوئے اسے پیٹ میں اٹھائے رکھا اور اس کا دودھ چھڑانے کی مدت دو سال میں ہے کہ میرا اور اپنے والدین کا شکرادا کرو۔ میری ہی طرف لوٹنا ہے۔

وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌۙ-فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا٘-وَّ اتَّبِـعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّۚ-ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(15)

اور اگر وہ دونوں تجھ پر کوشش کریں کہ تو کسی ایسی چیز کو میراشریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مان اور دنیا میں اچھی طرح ان کا ساتھ دے اور میری طرف رجوع کرنے والے آدمی کے راستے پر چل پھر میری ہی طرف تمہیں پھر کرآنا ہے تو میں تمہیں بتادوں گا جو تم کرتے تھے۔

یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ(16)

اے میرے بیٹے! برائی اگررائی کے دانے کے برابر ہو پھر وہ پتھر کی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں ، الله اسے لے آئے گا بیشک الله ہر باریکی کا جاننے والا خبردار ہے۔

یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَؕ-اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ (17)

اے میرے بیٹے!نماز قائم رکھ اور اچھی بات کا حکم دے اور بری بات سے منع کر اور تجھے جو مصیبت آئے اس پر صبر کر، بیشک یہ ہمت والے کاموں میں سے ہے۔

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ (18)

اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔

وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَؕ-اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ (19)

اور اپنے چلنے میں درمیانی چال سے چل اور اپنی آواز کچھ پست رکھ، بیشک سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے۔

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةًؕ-وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ(20)

کیا تم نے نہ دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہیں سب کو الله نے تمہارے لیے کام میں لگا رکھا ہے اور اس نے تم پراپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کردیں اورکچھ لوگ الله کے بارے میں جھگڑتے ہیں حالانکہ (انہیں ) نہ علم ہے اورنہ عقل اورنہ کوئی روشن کتاب۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِـعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَاؕ-اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ(21)

اور جب ان سے کہا جائے کہ اس کی پیروی کرو جو الله نے نازل فرمایا ہے تو کہتے ہیں : بلکہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کوپایا۔ کیا اگرچہ شیطان ان کو عذاب ِدوزخ کی طرف بلارہا ہو۔

وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰىؕ-وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ(22)

تو جو اپنا منہ الله کی طرف جھکادے اور وہ نیک ہو تو بیشک اس نے مضبوط سہارا تھام لیا اور سب کاموں کا انجام الله ہی کی طرف ہے۔

وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗؕ-اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ(23)

اور جو کفر کرے تو اس کا کفر آپ کو غمگین نہ کرے ۔ انہیں ہماری ہی طرف پھرنا ہے تو ہم انہیں بتا دیں گے جو انہوں نے کیا ہوگا بیشک الله دلوں کی بات جانتا ہے۔

نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ(24)

ہم انہیں کچھ فائدہ اٹھانے دیں گے پھر انہیں سخت عذاب کی طرف مجبور کریں گے۔

وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُؕ-قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِؕ-بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(25)

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان اور زمین کس نے بنائے ؟تو ضرور کہیں گے: ’’الله نے‘‘ تم فرماؤ: تمام تعریفیں الله کیلئے ہیں بلکہ ان میں اکثر جانتے نہیں ۔

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ(26)

الله ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے بیشک الله ہی بے نیاز، تعریف کے لائق ہے۔

وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(27)

اور زمین میں جتنے درخت ہیں اگر وہ سب قلمیں بن جاتے اور سمندر (ان کی سیاہی، پھر) اس کے بعد اس (پہلی سیاہی) کو سات سمندر مزید بڑھادیتے تو بھی الله کی باتیں ختم نہ ہوتیں بیشک الله عزت والا، حکمت والا ہے۔

مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ(28)

تم سب کا پیدا کرنا اور قیامت میں اٹھاناایسا ہی ہے جیسا ایک جان کا،بیشک الله سننے والا، دیکھنے والا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ٘-كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(29)

اے سننے والے! کیا تو نے نہ دیکھا کہ الله رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگادیا ،ہر ایک ایک مقررہ مدت تک چلتا ہے اوریہ کہ الله تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُۙ-وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ (30)

یہ اس لیے ہے کہ الله ہی حق ہے اور اس کے سوا جن کو لوگ پوجتے ہیں وہ سب باطل ہیں اور یہ کہ الله ہی بلند ی والا، بڑائی والا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ(31)

کیا تو نے نہ دیکھا کہ دریا میں کشتی الله کے فضل سے چلتی ہے تاکہ وہ تمہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائے بیشک اس میں ہر بڑے صبر کرنے والے، بڑے شکرگزار کیلئے نشانیاں ہیں ۔

وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ﳛ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌؕ-وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ(32)

اور جب پہاڑوں جیسی کوئی موج ان پر آپڑتی ہے تو الله ہی پراعتقاد رکھتے ہوئے اسے پکارتے ہیں پھر جب ( الله) انہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو ان میں کوئی (ہی) اعتدال پر رہتا ہے اور ہماری آیتوں کا انکار صرف ہر بڑا بے وفا ، ناشکرا ہی کرے گا۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ٘-وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْــٴًـاؕ-اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاٙ-وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ(33)

اے لوگو!اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس میں کوئی باپ اپنی اولادکے کام نہ آئے گا اور نہ کوئی بچہ اپنے باپ کو کچھ نفع دینے والاہوگا۔ بیشک الله کا وعدہ سچا ہے تو دنیا کی زندگی ہرگز تمہیں دھوکا نہ دے اور ہرگز بڑا دھوکہ دینے والا تمہیں الله کے علم پر دھوکے میں نہ ڈالے۔

اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِۚ-وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَۚ-وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِؕ-وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًاؕ-وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ (34)

بیشک قیامت کا علم الله ہی کے پاس ہے اور وہ بارش اتارتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ بیشک الله علم والا، خبردار ہے۔