IQRA QURAN Logo

IQRA QURAN

Your Digital Companion

Surah 32

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

الٓمّٓۚ (1)

الم۔

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَﭤ(2)

کتاب کا اتارنا بیشک پروردگار ِعالم کی طرف سے ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُۚ-بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ(3)

کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ اِس نبی نے یہ قرآن خود بنالیا ہے؟ بلکہ یہی تمہارے رب کی طرف سے حق ہے تاکہ تم ان لوگوں کو ڈرسناؤ جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہیں آیا اس امید پر (ڈراؤ) کہ وہ ہدایت پائیں۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِؕ-مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍؕ-اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ(4)

الله ہی ہے جس نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے سب کچھ چھ دن میں بنایاپھر عرش پر استواء فرمایا (جیسا اس کی شان کے لائق ہے) اس کے علاوہ تمہارا کوئی مددگار نہیں اور نہ کوئی سفارش کرنے والا ہے تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟.

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ(5)

وہ آسمان سے زمین تک (ہر) کام کی تدبیر فرماتا ہے پھر (ہر کام) اُس دن میں اسی کی طرف رجوع کرے گا جس کی مقدارتمہاری گنتی سے ہزارسال ہے۔

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ (6)

یہ ہے (الله) ہر پوشیدہ اور کھلی ہوئی بات کو جاننے والا، عزت والا، رحمت والا۔

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ (7)

وہ جس نے جو چیز بنائی خوب بنائی اور انسان کی پیدائش کی ابتداء مٹی سے فرمائی۔

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ (8)

پھر اس کی نسل ایک بے قدر پانی کے خلاصے سے بنائی۔

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْـٕدَةَؕ-قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ(9)

پھر اسے ٹھیک بنایااور اس میں اپنی طرف کی روح پھونکی اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے۔ تم بہت تھوڑاشکر ادا کرتے ہو۔

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۬ؕ-بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ(10)

اورانہوں نے کہا: کیا جب ہم مٹی میں گم ہوجائیں گے توکیا پھرنئے سرے سے پیدا کئے جائیں گے؟ بلکہ وہ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں ۔

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ (11)

تم فرماؤ: تمہیں موت کا فرشتہ وفات دیتا ہے جو تم پر مقرر ہے پھر تم اپنے رب کی طرف واپس کئے جاؤ گے۔

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْؕ-رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ(12)

اورکسی طرح تم دیکھتے جب مجرم اپنے رب کے پاس اپنے سروں کو نیچے جھکائے ہوں گے (اور کہتے ہوں گے:) اے ہمارے رب! ہم نے دیکھا اور سنا تو ہمیں واپس بھیج دے تاکہ نیک کام کریں ، بیشک ہم یقین کرنے والے ہیں۔

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰـكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَــٴَـنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ(13)

اور اگر ہم چاہتے توہر جان کو اس کی ہدایت دیدیتے مگر میری یہ بات طے ہوچکی ہے کہ میں ضرور جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھرد وں گا۔

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَاۚ-اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(14)

تو اب چکھو اِس بات کا بدلہ کہ تم نے اپنے اس دن کی حاضری کو بھلادیا تھا،بیشک ہم نے تمہیں چھوڑ دیا اور اپنے اعمال کے بدلے میں ہمیشہ کے عذاب کا مزہ چکھو۔

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ (15)

ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب ان آیتوں کے ذریعے انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ میں گر جاتے ہیں اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِـعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا٘-وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ(16)

ان کی کروٹیں ان کی خوابگاہوں سے جدا رہتی ہیں اور وہ ڈرتے اور امید کرتے اپنے رب کو پکارتے ہیں اور ہمارے دئیے ہوئے میں سے خیرات کرتے ہیں ۔

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(17)

تو کسی جان کو معلوم نہیں وہ آنکھوں کی ٹھنڈک جو ان کے لیے ان کے اعمال کے بدلے میں چھپا رکھی ہے۔

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا ﳳ-لَا یَسْتَوٗنَؐ (18)

تو کیا جو ایمان والا ہے وہ اس جیسا ہوجائے گا جونافرمان ہے؟ یہ برابر نہیں ہیں ۔

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى٘-نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(19)

بہرحال جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے توان کے لیے ان کے اعمال کے بدلے میں مہمانی کے طور پر رہنے کے باغات ہیں ۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُؕ-كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ(20)

اور وہ جو نافرمان ہوئے توان کا ٹھکانہ آ گ ہے، جب کبھی اس میں سے نکلنا چاہیں گے تو پھر اسی میں پھیر دئیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا: اس آگ کا عذاب چکھو جسے تم جھٹلاتے تھے۔

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(21)

اور ضرور ہم انہیں بڑے عذاب سے پہلے قریب کا عذاب چکھائیں گے (جسے دیکھنے والا کہے) امید ہے کہ یہ لوگ باز آجائیں گے۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَاؕ-اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ (22)

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جسے اس کے رب کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جائے پھر (بھی) وہ ان سے منہ پھیر لے۔ بیشک ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں ۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآىٕهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ (23)

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی تو تم اس کے ملنے میں شک نہ کرو اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا۔

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا۫ؕ-وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ(24)

اورجب بنی اسرائیل نے صبر کیاتو ہم نے ان میں سے کچھ لوگوں کو امام بنادیا جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ(25)

بیشک تمہارا رب قیامت کے دن ان میں اس بات کا فیصلہ کردے گا جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍؕ-اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ(26)

اور کیا اس بات نے ان کی رہنمائی نہیں کی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قومیں ہلاک کردیں جن کے رہائشی مقامات میں یہ چلتے پھرتے ہیں ۔ بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں تو کیایہ سنتے نہیں ؟

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِ جُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْؕ-اَفَلَا یُبْصِرُوْنَٝ (27)

اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم خشک زمین کی طرف پانی بھیجتے ہیں پھر اس سے کھیتی نکالتے ہیں جس میں سے ان کے چوپائے اور وہ خود کھاتے ہیں تو کیا وہ دیکھتے نہیں ؟

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(28)

اوروہ کہتے ہیں : یہ فیصلہ کب ہوگا؟ اگر تم سچے ہو۔

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ(29)

تم فرماؤ: فیصلے کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا نفع نہ دے گا اور نہ انہیں مہلت ملے گی۔

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ (30)

تو ان سے منہ پھیرلو اور انتظار کرو بیشک وہ بھی منتظرہیں ۔