Surah 33
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ (1)
اے نبی!اللہ سے ڈرتے رہنا اور کافروں اور منافقوں کی بات نہ سننا۔ بیشک الله علم والا، حکمت والا ہے۔
وَّ اتَّبِـعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاۙ (2)
اور اس کی پیروی کرتے رہنا جو تمہارے رب کی طرف سے تمہیں وحی کی جاتی ہے۔ بیشک الله تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔
وَّ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا(3)
اور الله پر بھروسہ رکھو اور الله کافی کام بنانے والاہے۔
مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖۚ-وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓـِٔیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْۚ-وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْؕ-ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْؕ-وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ(4)
الله نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ بنائے اور اس نے تمہاری ان بیویوں کو تمہاری حقیقی مائیں نہیں بنادیا جنہیں تم ماں جیسی کہہ دو اور نہ اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہاراحقیقی بیٹا بنایا، یہ تمہارے اپنے منہ کا کہنا ہے اور الله حق فرماتا ہے اور وہی راہ دکھاتا ہے۔
اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِۚ-فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْؕ-وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖۙ-وَ لٰـكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(5)
انہیں ان کے حقیقی باپ ہی کا کہہ کر پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے پھر اگر تمہیں ان کے باپ کا علم نہ ہوتو وہ دین میں تمہارے بھائی اور تمہارے دوست ہیں اور تم پر اس میں کچھ گناہ نہیں جو لاعلمی میں غلطی ہوئی لیکن اس میں گناہ ہے جس کا تمہارے دلوں نے ارادہ کیا اور الله بخشنے والا مہربان ہے۔
اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْؕ-وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓىٕكُمْ مَّعْرُوْفًاؕ-كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا(6)
یہ نبی مسلمانوں کے ان کی جانوں سے زیادہ مالک ہیں اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں اور مومنوں اور مہاجروں سے زیادہ اللہ کی کتاب میں رشتے دارایک دوسرے سے زیادہ قریب ہیں مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں پر احسان کرو۔ یہ کتاب میں لکھاہوا ہے۔
وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ۪-وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًاۙ (7)
اور اے محبوب!یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے اُن کا عہد لیا اور تم سے اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم سے (عہد لیا) اور ہم نے ان (سب) سے بڑا مضبوط عہد لیا۔
لِّیَسْــٴَـلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِهِمْۚ-وَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ (8)
تاکہ الله سچوں سے ان کے سچ کا سوال کرے اور اس نے کافروں کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَاؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاۚ (9)
اے ایمان والو!اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم پر کچھ لشکر آئے تو ہم نے ان پر آندھی اور وہ لشکر بھیجے جو تمہیں نظر نہ آئے اور الله تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔
اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا ﭤ(10)
جب کافر تم پرتمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے آئے اور جب آنکھیں ٹھٹک کر رہ گئیں اور دل گلوں کے پاس آگئے اور تم الله پر طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔
هُنَالِكَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا(11)
وہیں مسلمانوں کو آزمایا گیا اور انہیں خوب سختی سے جھنجھوڑا گیا۔
وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا(12)
اور جب منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھاوہ کہنے لگے: الله اور اس کے رسول نے ہم سے دھوکے کا وعدہ کیا۔
وَ اِذْ قَالَتْ طَّآىٕفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْاۚ-وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ ﳍ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍۚۛ-اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا(13)
اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا: اے مدینہ والو! (یہاں ) تمہارے ٹھہرنے کی جگہ نہیں ، توتم واپس چلو اور ان میں سے ایک گروہ نبی سے یہ کہتے ہوئے اجازت مانگ رہا تھا کہ بیشک ہمارے گھر بے حفاظت ہیں حالانکہ وہ بے حفاظت نہ تھے۔ وہ توصرف فرار ہونا چاہتے تھے۔
وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُىٕلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا(14)
اور اگر ان پرمدینہ کی (مختلف) طرفوں سے فوجیں آجاتیں پھر ان سے فتنے کا مطالبہ کیا جاتا تو ضرور ان کامطالبہ دیدیتے اور اس میں دیر نہ کرتے مگر تھوڑی سی۔
وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَؕ-وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْــٴُـوْلًا (15)
اور بیشک اس سے پہلے وہ اللہ سے عہد کرچکے تھے کہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور الله کے وعدے کا پوچھا جائے گا۔
قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا(16)
تم فرماؤ : اگر موت یا قتل سے بھاگ رہے ہوتوہرگز تمہیں یہ بھاگنا نفع نہ دے گا اور اس وقت بھی تمہیں تھوڑی سی دنیا ہی فائدہ اٹھانے کو دی جائے گی۔
قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْٓءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةًؕ-وَ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا(17)
۔ تم فرماؤ: وہ کون ہے جوتمہیں الله سے بچائے گااگر وہ تمہارا برا چاہے یا تم پر رحم فرمانا چاہے اور وہ اللہ کے سوا کوئی حامی نہ پائیں گے اورنہ ہی مددگار۔
قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآىٕلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَاۚ-وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ (18)
بیشک الله تم میں سے ان لوگوں کو جانتا ہے جو دوسروں کو جہاد سے روکتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں : ہماری طرف چلے آؤ اور وہ لڑائی میں تھوڑے ہی آتے ہیں۔
اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ ۚۖ-فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِۚ-فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْؕ-وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا(19)
تمہارے اوپر بخل کرتے ہوئے آتے ہیں پھر جب ڈر کا وقت آتا ہے توتم انہیں دیکھو گے کہ تمہاری طرف یوں نظر کرتے ہیں کہ ان کی آنکھیں گھوم رہی ہیں جیسے کسی پر موت چھائی ہوئی ہو پھر جب ڈر کا وقت نکل جاتا ہے تومال غنیمت کی لالچ میں تیز زبانوں کے ساتھ تمہیں طعنے دینے لگتے ہیں۔ یہ لوگ ایمان لائے ہی نہیں ہیں تواللہ نے ان کے اعمال برباد کردئیے اور یہ الله پر بہت آسان ہے۔
یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْاۚ-وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآىٕكُمْؕ-وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا۠ (20)
وہ سمجھ رہے ہیں کہ لشکر ابھی نہ گئے اور اگر وہ لشکر دوبارہ آئیں تو ان کی خواہش ہوگی کہ کاش، وہ کسی گاؤں میں ہوتے (اور وہیں سے) تمہاری خبروں کے بارے میں پوچھ لیتے اور اگر وہ تم میں رہتے توجب بھی تھوڑے ہی لڑتے۔
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاﭤ(21)
بیشک تمہارے لئےاللہ کے رسول میں بہترین نمونہ موجود ہے اس کے لیے جو الله اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہے اور الله کو بہت یاد کرتا ہے۔
وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَۙ-قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ٘-وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاﭤ(22)
اور جب مسلمانوں نے لشکر دیکھے تو کہنے لگے:یہ وہ ہے جس کا ہمیں الله اور اس کے رسول نے وعدہ دیا تھا اور الله اور اس کے رسول نے سچ فرمایاتھااور اس بات نے ان کے ایمان اور الله کی رضا پرراضی ہونے کو اور زیادہ کردیا۔
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ ﳲ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ (23)
مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے اس عہد کو سچا کردکھایا جوانہوں نےاللہ سے کیا تھا تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کرچکا اور کوئی ابھی انتظار کر رہا ہے اور وہ بالکل نہ بدلے۔
لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ (24)
تاکہ الله سچوں کو ان کے سچ کا صلہ دے اور منافقوں کو عذاب دے اگر چاہے یا انہیں توبہ کی توفیق دے۔ بیشک الله بخشنے والا مہربان ہے۔
وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًاؕ-وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ (25)
اور الله نے کافروں کو ان کے دلوں کی جلن کے ساتھ واپس لوٹادیا، انہیں کچھ بھی بھلائی نہ ملی اور الله مسلمانوں کیلئے لڑائی میں کافی ہوگیا اور الله قوت والا، عزت والا ہے۔
وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاۚ (26)
اور جن اہل کتاب نے اُن (مشرکوں ) کی مدد کی تھی ( الله نے) انہیں ان کے قلعوں سے اتارا اور ان کے دلوں میں رُعب ڈال دیا، ان میں ایک گروہ کو تم قتل کرتے ہو اور ایک گروہ کو قیدکرتے ہو۔
وَ اَوْرَثَــكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِیَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَ اَرْضًا لَّمْ تَـطَــٴُـوْهَاؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا۠ (27)
اور الله نے تمہیں ان کی زمین اور ان کے مکانات اور ان کے مالوں کا وارث بنادیا اور اس زمین کا بھی جس پر تم نے ابھی قدم نہیں رکھا ہے اور الله ہر چیز پر قادر ہے۔
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا(28)
اے نبی!اپنی بیویوں سے فرمادو: اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتی ہو تو آؤ تاکہ میں تمہیں مال دُوں اور تمہیں اچھی طرح چھوڑ دوں ۔
وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(29)
اور اگر تم الله اور اس کے رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو بیشک الله نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔
یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِؕ-وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا(30)
اے نبی کی بیویو!جو تم میں حیا کے خلاف کوئی کھلی جرأت کرے تواسے دوسرں کے مقابلے میں دُگنا عذاب دیا جائے گا اور یہ الله پر بہت آسان ہے۔
وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِۙ-وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا(31)
اور جو تم میں اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبردار رہے اور اچھے عمل کرے توہم اسے دوسروں سے دگنا ثواب دیں گے اور ہم نے اس کے لیے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے۔
یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ (32)
اے نبی کی بیویو!تم اور عورتوں جیسی نہیں ہو۔اگرتم اللہ سے ڈرتی ہو تو بات کرنے میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا مریض آدمی کچھ لالچ کرے اورتم اچھی بات کہو۔
وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ (33)
اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے پہلی جاہلیت کی بے پردگی اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو۔اے نبی کے گھر والو! اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب صاف ستھرا کردے۔
وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ (34)
اور اللہ کی آیات اور حکمت یاد کرو جو تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں ۔ بیشک اللہ ہر باریکی کو جاننے والا،خبردار ہے۔
اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(35)
بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردارعورتیں اور سچے مرداور سچی عورتیں اور صبرکرنے والے اور صبر کرنے والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے رکھنے والے اورروزے رکھنے والیاں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کرنے والے اور حفاظت کرنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔
وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْؕ-وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاﭤ(36)
اور کسی مسلمان مرد اور عورت کیلئے یہ نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ فرما دیں تو انہیں اپنے معاملے کا کچھ اختیار باقی رہے اور جو اللہ اور اس کے رسول کاحکم نہ مانے تووہ بیشک صر یح گمراہی میں بھٹک گیا۔
وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَۚ-وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُؕ-فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآىٕهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًاؕ-وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا(37)
اور اے محبوب! یاد کرو جب تم اس سے فرمارہے تھے جس پر اللہ نے انعام فرمایا اورجس پر آپ نے انعام فرمایا کہ اپنی بیوی اپنے پاس روک رکھ اور اللہ سے ڈر اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپا رہے تھے جس کو اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور تمہیں لوگوں کا اندیشہ تھا اور اللہ اس بات کازیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو پھر جب زید نے اس سے حاجت پوری کرلی تو ہم نے آپ کا اس کے ساتھ نکاح کردیاتاکہ مسلمانوں پر ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (سے نکاح کرنے) میں کچھ حرج نہ رہے جب ان سے اپنی حاجت پوری کرلیں اور اللہ کا حکم پوراہوکر رہتاہے۔
مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗؕ-سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُؕ-وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَاﰳ٘ۙ (38)
نبی پر اس بات میں کوئی حرج نہیں جو اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمائی ۔ اللہ کا دستور چلا آرہا ہے ان میں جو پہلے گزرچکے،اور اللہ کا ہرکام مقرر کی ہوئی تقدیر ہے۔
الَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا(39)
وہ جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں کرتے اور اللہ کافی حساب لینے والاہے۔
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰـكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ (40)
محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والاہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ (41)
اے ایمان والو! اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو۔
وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا(42)
اور صبح و شام اس کی پاکی بیان کرو۔
هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓىٕكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِؕ-وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا(43)
وہی (اللہ ) ہے جوتم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے تمہارے لئے دعا کرتے ہیں تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف نکالے اور وہ مسلمانوں پر مہربان ہے۔
تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌۖۚ-وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا(44)
جس دن وہ اللہ سے ملاقات کریں گے اس وقت ان کے لیے ملتے وقت کا ابتدائی کلام سلام ہو گا اوراللہ نے ان کے لیے عزت کا ثواب تیار کر رکھا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ (45)
اے نبی!بیشک ہم نے تمہیں گواہ اور خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا۔
وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا(46)
اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والااو ر چمکادینے والا ا ٓ فتاب بنا کر بھیجا۔
وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا(47)
اور ایمان والوں کو خوشخبری دیدو کہ ان کے لیے اللہ کا بڑا فضل ہے۔
وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا(48)
اور کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانو اور ان کی ایذا پر درگزر کردو اور اللہ پر بھروسہ رکھو اور اللہ کافی کام بنانے والا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَاۚ-فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا(49)
اے ایمان والو!جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں بغیر ہاتھ لگائے طلاق دیدو تو ان پرتمہاری وجہ سے کوئی عدت نہیں جسے تم شمار کرو تو انہیں فائدہ پہنچاؤ اور انہیں اچھے طریقے سے چھوڑو ۔
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ٘-وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَاۗ-خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَؕ-قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(50)
اے نبی!ہم نے تمہارے لیے تمہاری وہ بیویاں حلال فرمائیں جنہیں تم مہر دو اور تمہاری مملوکہ کنیزیں جو اللہ نے تمہیں مالِ غنیمت میں دیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور تمہاری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تمہارے ماموؤں کی بیٹیاں اورتمہاری خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی اور ایمان والی عورت (تمہارے لئے حلال کی) اگر وہ اپنی جان نبی کی نذر کرے، اگر نبی اسے نکاح میں لانا چاہے۔ یہ خاص تمہارے لیے ہے، دیگر مسلمانوں کیلئے نہیں ۔ ہمیں معلوم ہے جو ہم نے مسلمانوں پر ان کی بیویوں اور ان کی مملوکہ کنیزوں میں مقرر کیا ہے۔ (یہ خصوصیت اس لئے) تاکہ تم پر کوئی تنگی نہ ہو اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُـْٔوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُؕ-وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَؕ-ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا(51)
ان میں سے جسے چاہو پیچھے ہٹاؤ اوران میں سے جسے چاہو اپنے پاس جگہ دو اور جنہیں تم نے علیحدہ کردیا تھا ان میں سے جسے تمہارا جی چاہے (اپنے قریب کرلو) تواس میں بھی تم پر کچھ گناہ نہیں ۔یہ اس بات کے زیادہ نزدیک ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اوروہ غم نہ کریں اور تم انہیں جو کچھ عطا فرماؤ اس پر وہ سب کی سب راضی رہیں اور (اے لوگو!) اللہ جانتا ہے جو تم سب کے دلوں میں ہے اور اللہ علم والا، حلم والا ہے۔
لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠ (52)
ان کے بعد (مزید) عورتیں تمہارے لئے حلال نہیں اور نہ یہ کہ ان کی جگہ اور بیویاں بدل لو اگرچہ تمہیں ان کا حسن پسند آئے مگر تمہاری کنیزیں جو تمہاری ملکیت میں ہوں اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُۙ-وَ لٰـكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍؕ-اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ٘-وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّؕ- وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْــٴَـلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍؕ-ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّؕ-وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًاؕ-اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا(53)
اے ایمان والو!نبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اجازت نہ ہو جیسے کھانے کیلئے بلایا جائے۔ یوں نہیں کہ خودہی اس کے پکنے کاانتظار کرتے رہو۔ ہاں جب تمہیں بلایا جائے تو داخل ہوجاؤ پھرجب کھانا کھا لوتو چلے جاؤ اور یہ نہ ہو کہ باتوں سے دل بہلاتے ہوئے بیٹھے رہو۔بیشک یہ بات نبی کو ایذادیتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے اور اللہ حق فرمانے میں شرماتا نہیں اور جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو۔ تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کیلئے یہ زیادہ پاکیزگی کی بات ہے اور تمہارے لئے ہرگز جائز نہیں کہ رسولُ اللہ کو ایذا دو اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد کبھی ان کی بیویوں سے نکاح کرو۔ بیشک یہ اللہ کے نزدیک بڑی سخت بات ہے۔
اِنْ تُبْدُوْا شَیْــٴًـا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا(54)
اگر تم کوئی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ تو بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے۔
لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآىٕهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآىٕهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآىٕهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّۚ-وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا(55)
عورتوں پر ان کے باپوں اور بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنے دین کی عورتوں اور اپنی کنیزوں کے بارے میں (پردہ نہ کرنے میں ) کوئی مضائقہ نہیں اور اللہ سے ڈرتی رہو۔ بیشک اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(56)
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں ۔ اے ایمان والو!ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا(57)
بیشک جو اللہ اور اس کے رسول کوایذا دیتے ہیں ان پردنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرما دی ہے اور اللہ نے ان کے لیے رسواکردینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ (58)
اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بغیر کچھ کئے ستاتے ہیں توانہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّؕ-ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(59)
اے نبی!اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیو ں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے او پر ڈالے رکھیں ، یہ اس سے زیادہ نزدیک ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انہیں ستایا نہ جائے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
لَىٕنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًاﳝ (60)
منافق اوروہ کہ جن کے دلوں میں مرض ہے اور وہ لوگ جو مدینے میں جھوٹی خبریں پھیلانے والے ہیں اگرباز نہ آئے تو ضرور ہم تمہیں ان کے خلاف اکسائیں گے پھر وہ مدینہ میں تمہارے پاس نہ رہیں گے مگر تھوڑے دن۔
مَّلْعُوْنِیْنَۚۛ-اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا(61)
اللہ کی رحمت سے دورکئے ہوئے لوگ ہیں ، جہاں کہیں پائے جائیں انہیں پکڑلیا جائے اور گن گن کر انہیں قتل کر دیا جائے۔
سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًاٛ (62)
اللہ کا دستور چلا آتا ہے ان لوگوں میں جو پہلے گزر گئے اور تم اللہ کے دستور کیلئے ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔
یَسْــٴَـلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِؕ-قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِؕ-وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا(63)
لوگ تم سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں ، تم فرماؤ: اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو۔
اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ (64)
بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت فرمائی اور ان کے لیے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔
خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاۚ-لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ (65)
اس میں ہمیشہ رہیں گے اس میں نہ کوئی حمایتی پائیں گے اورنہ مددگار۔
یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا(66)
جس دن ان کے چہرے آگ میں باربارالٹے جائیں گے توکہتے ہوں گے: ہائے!اے کاش! ہم نے اللہ کا حکم مانا ہوتا اور رسول کا حکم مانا ہوتا۔
وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا(67)
اور کہیں گے: اے ہمارے رب!ہم اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کے کہنے پر چلے تو انہوں نے ہمیں راہ سے بھٹکادیا۔
رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ (68)
اے ہمارے رب! انہیں دُگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْاؕ-وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاﭤ(69)
اے ایمان والو!ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ کو ستایا تو اللہ نے موسیٰ کااس شے سے بری ہونا دکھادیا جو انہوں نے کہا تھا اور موسیٰ اللہ کے ہاں بڑی وجاہت والا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ (70)
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہاکرو۔
یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا(71)
اللہ تمہارے اعمال تمہارے لیے سنوار دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی۔
اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُؕ-اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ (72)
بیشک ہم نے آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پرامانت پیش فرمائی تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اورانسان نے اس امانت کو اٹھالیا بیشک وہ زیادتی کرنے والا، بڑا نادان ہے۔
لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ (73)
تاکہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور اللہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کی توبہ قبول فرمائے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

