Surah Saba Ayat 10 (34:10)
Sheba · Juz 22 · Makki
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًاؕ-یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَۚ-وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَ 10
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے بڑا فضل دیا۔ اے پہاڑواورپرندو!اس کے ساتھ (اللہ کی طرف) رجوع کرو اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کردیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بے شک ہم نے داود کو اپنا بڑا فضل دیا اے پہاڑواس کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرو اور اے پرندو اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کیا۔
Tafseer (Urdu)
{و لقد: اور بیشک۔} اس ایت میں اللہ تعالی نے حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام کے تین فضائل بیان فرمائے ہیں ۔ (1)…حضرت داؤد علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنی طرف سے بڑا فضل دیا۔ (2)…پہاڑوں اور پرندوں کو حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ تسبیح کرنے کا حکم دیا۔ (3)… حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے لوہا نرم فرما دیا۔ حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزید4 فضائل: حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام کے تین فضائل تو اس ایت میں بیان ہوئے اور مزید 4فضائل درج ذیل ایات میں بیان ہوئے ہیں ۔ (1)… حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام کو زبور عطا فرمائی گئیچنانچہ ارشاد باری تعالی ہے: ’’و لقد فضلنا بعض النبین على بعض و اتینا داود زبورا‘‘(بنی اسرائیل:۵۵) ترجمہ کنزالعرفان: اور بیشک ہم نے نبیوں میں ایک کو دوسرے پر فضیلت عطا فرمائی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ (2)… انہیں کثیر علم عطا فرمایا گیاچنانچہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’و لقد اتینا داود و سلیمن علما‘‘(النمل:۱۵) ترجمہ کنزالعرفان: اور بیشک ہم نے داؤد اور سلیمان کو بڑا علم عطا فرمایا۔ (3)… انہیں غیر معمولی قوت سے نوازا گیاچنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’و اذكر عبدنا داود ذا الاید-انه اواب‘‘(ص:۱۷) ترجمہ کنزالعرفان: اور ہمارے نعمتوں والے بندے داؤد کو یاد کرو بیشک وہ بڑا رجوع کرنے والا ہے۔ (4)… انہیں زمین میں خلافت سے سرفراز کیا گیاچنانچہ ارشاد فرمایا: ’’یداود انا جعلنك خلیفة فی الارض‘‘(ص:۲۶) ترجمہ کنزالعرفان: اے داؤد! بیشک ہم نے تجھے زمین میں (اپنا) نائب کیا۔ {و لقد اتینا داود منا فضلا: اور بیشک ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے بڑا فضل دیا۔} ایت کے اس حصے میں بڑے فضل سے مراد نبوت اور کتاب ہے اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ملک ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے اواز کی خوبصورتی وغیرہ وہ تمام چیزیں مراد ہیں جو آپ علیہ الصلوۃ والسلام کو خصوصیت کے ساتھ عطا فرمائی گئیں ۔ (خازن سبا تحت الایۃ: ۱۰ ۳ / ۵۱۷) حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام اورحضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر اللہ تعالی کے فضل میں فرق: ایت کے اس حصے میں اللہ تعالی نے حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے حضرت داؤد علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنی طرف سے بڑا فضل دیا جبکہ اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے لئے ہر طرح کے فضل اور فضل کے کمال کو بیان کرتے ہوئے ایک جگہ ارشاد فرمایاکہ ’’و كان فضل الله علیك عظیما‘‘(النساء:۱۱۳) ترجمہ کنزالعرفان: اور اپ پر اللہ کافضل بہت بڑا ہے۔ {یجبال: اے پہاڑو!} اللہ تعالی نے پہاڑوں اور پرندوں کو حکم دیا کہ ’’ اے پہاڑواور اے پرندو!جب حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام تسبیح کریں تو تم بھی ان کے ساتھ تسبیح کرو ۔چنانچہ جب حضرت داؤد علیہ الصلوۃ والسلام تسبیح کرتے تو پہاڑوں سے بھی تسبیح سنی جاتی اور پرندے جھک آتے ۔یہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کا معجزہ تھا۔( خازن سبا تحت الایۃ: ۱۰ ۳ / ۵۱۷ مدارک سبا تحت الایۃ: ۱۰ ص۹۵۷ ملتقطا) نوٹ:حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام کی ا س فضیلت کا بیان سورہ انبیاء کی ایت نمبر79میں بھی گزر چکا ہے۔ {و النا له الحدید: اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کردیا۔} حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے اللہ تعالی نے لوہا نرم فرما دیا کہ جب آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے دست مبارک میں آتا تو موم یا گندھے ہوئے آٹے کی طرح نرم ہوجاتا اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام اس سے جو چاہتے بغیر اگ کے اور بغیر ٹھونکے پیٹے بنالیتے۔ حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے لوہا نرم کئے جانے کا سبب: حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے لوہا نرم کرنے کا سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب آپ علیہ الصلوۃ والسلام بنی اسرائیل کے بادشاہ بنے تو آپ علیہ الصلوۃ والسلام لوگوں کے حالات کی جستجو کے لئے اس طرح نکلتے کہ لوگ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کو پہچان نہ سکیں اور جب کوئی ملتا اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام کو پہچان نہ پاتاتو اس سے دریافت کرتے کہ’’ داؤد کیسا شخص ہے وہ شخص ان کی تعریف کرتا۔اس طرح جن سے بھی اپنے بارے میں پوچھتے تو سب لوگ اپ کی تعریف ہی کرتے ۔اللہ تعالی نے انسانی صورت میں ایک فرشتہ بھیجا۔حضرت داؤد علیہ الصلوۃ والسلام نے اس سے بھی حسب عادت یہی سوال کیا تو فرشتے نے کہا ’’ داؤد ہیں تو بہت ہی اچھے آدمی کاش! ان میں ایک خصلت نہ ہوتی ۔ اس پر آپ علیہ الصلوۃ والسلام متوجہ ہوئے اور اس سے فرمایا: ’’اے خدا کے بندے !وہ کون سی خصلت ہے اس نے کہا: وہ اپنا اور اپنے اہل و عیال کا خرچ بیت المال سے لیتے ہیں ۔یہ سن کر آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے خیال میں آیا کہ اگر آپ علیہ الصلوۃ والسلام بیت المال سے وظیفہ نہ لیتے تو زیادہ بہتر ہوتا اس لئے آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے بارگاہ الہی میں دعا کی کہ ان کے لئے کوئی ایسا سبب بنادے جس سے آپ علیہ الصلوۃ والسلام اپنے اہل و عیال کا گزارہ کرسکیں اور بیت المال (یعنی شاہی خزانے) سے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کو بے نیازی ہو جائے۔ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالی نے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے لوہے کو نرم کر دیا اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام کو زرہ سازی کی صنعت کا علم دیا ۔سب سے پہلے زرہ بنانے والے آپ علیہ الصلوۃ والسلام ہی ہیں ۔ آپ علیہ الصلوۃ والسلام روزانہ ایک زرہ بناتے تھے اور و ہ چار ہزار درہم میں بکتی تھی اس میں سے اپنے اور اپنے اہل و عیال پر بھی خرچ فرماتے اور فقراء و مساکین پر بھی صدقہ کرتے۔ (خازن سبا تحت الایۃ: ۱۰ ۳ / ۵۱۷ ملخصا) نوٹ: حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام کی ا س فضیلت کا بیان سورہ انبیاء کی ایت نمبر80میں بھی گزر چکا ہے۔