Surah Saba Ayat 15 (34:15)
Sheba · Juz 22 · Makki
لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌۚ-جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ۬ؕ-كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗؕ-بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ 15
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک قومِ سبا کے لیے ان کی آبادی میں نشانی تھی ، دو باغ تھے ایک دائیں طرف اور دوسرا بائیں طرف۔ اپنے رب کا رزق کھاؤاور اس کا شکر ادا کرو ۔پاکیزہ شہر ہے اوربخشنے والا رب۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبے شک سبا کے لیے ان کی آبادی میں نشانی تھی دو باغ دہنے اور بائیں اپنے رب کا رزق کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو پاکیزہ شہر بخشنے والا رب۔
Tafseer (Urdu)
{لقد كان لسبا فی مسكنهم ایة: بیشک سبا کے لیے ان کی آبادی میں نشانی تھی۔} ان ایات میں ایک ایسی قوم کا واقعہ بیان کیا گیا جنہیں اللہ تعالی نے کثیرنعمتوں سے نوازا لیکن وہ لوگ اللہ تعالی کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی بجائے ا س کی نافرمانی کرنے لگ گئے تو اللہ تعالی نے انہیں سیلاب کے ذریعے ہلاک کر دیا۔ قوم سبا کا تعارف: سباعرب کے علاقے یمن کی حدود میں واقع ایک قبیلے کا نام ہے اور یہ قبیلہ اپنے دادا سبا بن یشجب بن یعرب بن قحطان کے نام سے مشہور ہے۔ (جلالین مع جمل سبا تحت الایۃ: ۱۵ ۶ / ۲۱۷) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں ’’ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ سبا کسی مرد کا نام ہے یا عورت کا یا کسی سرزمین کا نام ہےنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’سبا ایک مرد تھا اور ا س کے دس بیٹے تھےان میں سے چھ یمن میں اباد ہو گئے تھے اور چار شام میں چلے گئے تھے۔( مسند امام احمد مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۱ / ۲۷۷ الحدیث: ۲۹۰۰) ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ یمن کی حدود میں جس جگہ یہ لوگ اباد تھے وہاں اللہ تعالی کی وحدانیت اور قدرت پر دلالت کرنے والی ایک نشانی تھی ۔اس نشانی کی تفصیل یہ ہے کہ ان کے شہر مارب کے دونوں طرف کثیر باغات تھے اور ان باغوں میں پھلوں کی انتہائی کثرت تھی ۔ان لوگوں سے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے ذریعے کہا گیا کہ اپنے رب عزوجل کا رزق کھاؤ اور اس نعمت پر اس کی طاعت و عبادت بجالاؤ۔تمہارا شہرپاکیزہ شہر ہے جس میں لطیف آب و ہوا اور صاف ستھری سرزمین ہے اس میں مچھر مکھی کھٹمل سانپ اور بچھو وغیرہ کوئی چیز نہیں اور ہوا کی پاکیزگی کا یہ عالم ہے کہ اگر کہیں دوسرے علاقے کا کوئی شخص اس شہر میں سے گزر جائے اور اس کے کپڑوں میں جوئیں ہوں تو سب مرجائیں ۔ اگر تم اپنے رب عزوجل کی روزی پر شکرادا کرو اوراس کی اطاعت بجالاؤ تو وہ بخشش فرمانے والا ہے۔( خازن سبا تحت الایۃ: ۱۵ ۳ / ۵۲۰ مدارک سبا تحت الایۃ: ۱۵ ص۹۵۹-۹۶۰ ابو سعود سبا تحت الایۃ: ۱۵ ۴ / ۳۴۵ ملتقطا)