Surah Fatir Ayat 9 (35:9)
Originator · Juz 22 · Makki
وَ اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَاؕ-كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ 9
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اللہ ہی ہے جس نے ہوائیں بھیجیں تووہ ہوائیں بادل کو ابھارتی ہیں پھر ہم اسے کسی مردہ شہر کی طرف رواں کرتے ہیں تو اس کے سبب ہم زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ فرماتے ہیں ۔ یونہی حشر میں اٹھنا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اللہ ہے جس نے بھیجیں ہوائیں کہ بادل اُبھارتی ہیں پھر ہم اُسے کسی مُردہ شہر کی طرف رواں کرتے ہیں تو اُس کے سبب ہم زمین کو زندہ فرماتے ہیں اس کے مرے پیچھے یونہی حشر میں اٹھنا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و الله الذی ارسل الریح: اور اللہ ہی ہے جس نے ہوائیں بھیجیں ۔} اس ایت میں اللہ تعالی نے بنجر زمین کو سرسبز و شاداب کرنے سے مردوں کو اٹھائے جانے پر استدلال فرمایا ہےچنانچہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی ہی ہے جس نے ہوائیں بھیجیں تووہ ہوائیں بادل کو ابھارتی ہیں پھر ہم اسے کسی مردہ شہر کی طرف رواں کرتے ہیں جس میں سبزہ اور کھیتی نہیں اور خشک سالی سے وہاں کی زمین بے جان ہوگئی ہے تو ا س بادل سے نازل ہونے والی بارش کے سبب ہم زمین کو اس کے مرنے (یعنی خشک ہونے) کے بعد زندہ فرماتے ہیں اور اس کو سرسبزو شاداب کردیتے ہیں اس سے ہماری قدرت ظاہر ہے اورجس طرح ہم خشک زمین کو سرسبز و شاداب کرتے ہیں اسی طرح حشر میں مردوں کو اٹھائیں گے۔(روح البیانفاطر تحت الایۃ: ۹ ۷ / ۳۲۲ ملخصا) حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا کہ’’ اللہ تعالی مردے کس طرح زندہ فرمائے گا مخلوق میں اس کی کوئی نشانی ہو تو ارشاد فرمایئے۔نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ کیا تیرا کسی ایسے جنگل میں سے گزرہوا ہے جو خشک سالی سے بے جان ہوگیا ہو اور وہاں سبزہ کا نام و نشان نہ رہا ہو پھر کبھی اسی جنگل میں گزر ہوا ہو اور اس کو ہرا بھرا لہلہاتا پایا ہو ان صحابی رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی: بیشک ایسا دیکھاہے ۔حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا’’ ایسے ہی اللہ تعالی مردوں کو زندہ کرے گا اور مخلوق میں یہ اس کی نشانی ہے۔(مستدرک کتاب الاہوال ان اللہ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء ۵ / ۷۷۶ الحدیث: ۸۷۲۵) اس ایت سے معلوم ہوا کہ قیاس برحق ہے کہ اللہ تعالی نے اس عالم کے حالات پر اس عالم کے حالات کو قیاس کرنے کا حکم فرمایا ۔