Surah Yasin Ayat 1 (36:1)
Ya-Sin · Juz 22 · Makki
یٰسٓ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیس۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیس۔
Tafseer (Urdu)
{یس} یہ حروف مقطعات میں سے ایک حرف ہےاس کی مراد اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے نیزاس کے بارے مفسرین کا ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اسماء مبارکہ میں سے ایک اسم ہے۔(جلالین مع صاوی یس تحت الایۃ: ۱ ۵ / ۱۷۰۵) ’’یسین ‘‘ نام رکھنے کا شرعی حکم : اعلی حضرت امام احمد رضاخان رحمۃاللہ تعالی علیہ نے ’’یسین ‘‘ نام رکھنے کا جو شرعی حکم بیان فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی کا یسین ‘‘ اورطہ نام رکھنا منع ہے کیونکہ بقول بعض علماء ممکن ہے کہ یہ دونوں اللہ تعالی کے ایسے نام ہیں جن کے معنی معلوم نہیں کیاعجب کہ ان کے وہ معنی ہوں جوغیر خدا پر صادق نہ آسکیں اس لئے ان سے بچنا لازم ہے اور اعلی حضرت رحمۃاللہ تعالی علیہ کے بقول یہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ایسے نام ہیں جن کے معنی سے واقف نہیں ہوسکتاہے ان کاکوئی ایسامعنی ہو جو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لئے خاص ہو اور آپ کے سواکسی دوسرے کے لئے اس کا استعمال درست نہ ہو۔ ان ناموں کی اعلی حضرت رحمۃاللہ تعالی علیہ کی بیان کردہ رائے زیادہ مناسب ہے کیونکہ ان ناموں کا حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لئے مقدس نام کے طور پر ہونا زیادہ ظاہر اور مشہورہے۔( فتاوی رضویہ رسالہ: النور والضیاء فی احکام بعض الاسماء ۲۴ / ۶۸۰-۶۸۱ملخصا) نوٹ:جن حضرات کا نام ’’یسین‘‘ ہے وہ خود کو’’ غلام یسین‘‘ لکھیں اور بتائیں اور دوسروں کو چاہئے کہ اسے ’’غلام یسین‘‘ کہہ کر بلائیں ۔ {و القران الحكیم: حکمت والے قرآن کی قسم۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی دو ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ کافروں نے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کہا تھا کہ ’’اپ رسول نہیں ہیں اور نہ ہی اللہ تعالی نے ہماری طرف کوئی رسول بھیجا ہے۔‘‘ان کے اس قول کا یہاں اللہ تعالی نے رد فرمایا اور قران مجید کی قسم ارشاد فرما کر اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رسالت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا’’حکمت والے قران کی قسم ! بیشک اپ ان ہستیوں میں سے ہیں جنہیں رسالت کا منصب عطا کیا گیا ہے اور بیشک اپ ایسے سیدھے راستے پر ہیں جو منزل مقصود تک پہنچانے والا ہے ۔یہ راستہ تو حید اور ہدایت کا راستہ ہے اور تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اسی راستے پر رہے ہیں۔(روح البیان یس تحت الایۃ: ۲-۴ ۷ / ۳۶۶ جلالین یس تحت الایۃ: ۲-۴ ص۳۶۸ ملتقطا) سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شریعت سب سے زیادہ قوی اور معتدل ہے: یاد رہے کہ تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام صراط مستقیم پر ہی ہیں اور جب یہ ارشاد فرما دیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم رسولوں میں سے ہیں تواسی کے ضمن میں یہ بھی معلوم ہو گیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم صراط مستقیم پر بھی ہیں البتہ یہاں حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بارے میں صراحت کے ساتھ صراط مستقیم پر ہونے کی خبر دینے سے معلوم ہوا کہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شریعت سب سے زیادہ قوی اور سب سے زیادہ معتدل ہے۔( روح البیان یس تحت الایۃ: ۴ ۷ / ۳۶۷ ابو سعود یس تحت الایۃ: ۴ ۴ / ۳۷۶ ملتقطا) حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور صراط مستقیم: حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم خود بھی صراط مستقیم پر ہیں جیساکہ یہاں اللہ تعالی نے صراحت کے ساتھ بیان فرمایا اور اپ لوگوں کو صراط مستقیم کی دعوت بھی دیتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’و انك لتدعوهم الى صراط مستقیم‘‘(مومنون:۷۳) ترجمہ کنزالعرفان: اور بیشک تم انہیں سیدھی راہ کی طرف بلاتے ہو۔ اور صراط مستقیم کی طرف رہنمائی بھی کرتے ہیں جیساکہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’و انك لتهدی الى صراط مستقیم‘‘(شوری:۵۲) ترجمہ کنزالعرفان: اور بیشک تم ضرور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہو۔ اور اپ کے ذریعے اللہ تعالی صراط مستقیم کی ہدایت بھی دیتا ہےجیسا کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے: ’’یهدی به الله من اتبع رضوانه سبل السلم و یخرجهم من الظلمت الى النور باذنه و یهدیهم الى صراط مستقیم‘‘(مائدہ:۱۶) ترجمہ کنزالعرفان: اللہ اس کے ذریعے اسے سلامتی کے راستوں کی ہدایت دیتا ہے جو اللہ کی مرضی کا تابع ہوجائے اور انہیں اپنے حکم سے تاریکیوں سے روشنی کی طرف لے جاتا ہے اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ اوراس ایت کی تفسیر میں مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہاں ’’به‘‘ کی ضمیر سے سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ و الہ وسلم مراد ہیں ۔( البحر المحیط المائدۃ تحت الایۃ: ۱۶ ۳ / ۴۶۳) سورہ یس کی ایت نمبر2تا 4سے حاصل ہونے والی معلومات: ان ایات سے تین باتیں مزید معلوم ہوئیں : (1)…اللہ تعالی کی بارگاہ میں سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا مقام اتنا بلند ہے کہ کافروں کی طرف سے اپ پر ہونے والے اعتراضات کا جواب اللہ تعالی خود ارشاد فرماتا ہے۔ (2)…اللہ تعالی کی بارگاہ میں حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عظمت کے ایسے اعلی مقام پر فائز ہیں کہ اللہ تعالی نے اپ کی رسالت پر اپنے مقدس کلام قران مجید کی قسم ارشاد فرمائی ہے اور یہ خصوصیت اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے علاوہ اور کسی نبی علیہ السلام کو حاصل نہ ہوئی۔ (3)…حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو سیادت اور سرداری کا وہ رتبہ عطا ہو اہے جو کسی دوسرے رسول اور نبی علیہ السلام کو عطا نہیں ہوا۔