Surah Yasin Ayat 45 (36:45)
Ya-Sin · Juz 23 · Makki
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْكُمْ وَ مَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ 45
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب ان سے فرمایا جاتا ہے ، ڈرو اس سے جو تمہارے سامنے ہے اور جو تمہارے پیچھے آنے والا ہے اس امید پر کہ تم پر رحم کیا جائے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب ان سے فرمایا جاتا ہے ڈرو تم اس سے جو تمہارے سامنے ہے اور جو تمہارے پیچھے آنے والا ہے اس امید پر کہ تم پر مہر ہو تو منہ پھیر لیتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و اذا قیل لهم: اور جب ان سے فرمایا جاتا ہے۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کفار مکہ کو اللہ تعالی کے عذاب سے ڈراتے ہوئے فرمایا جاتا ہے کہ تم اس عذاب سے ڈرو جو دنیا میں تم پر ا سکتا ہے اور اس عذاب سے بھی ڈروجو اخرت میں انے والا ہے اور ایمان لے او تاکہ تم پر رحم کیا جائے اور تم عذاب سے نجات پاجاو تو وہ اس نصیحت پر عمل کرنے کی بجائے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور ان کاکردار صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ وہ ایسے پتھر دل ہو گئے ہیں کہ ان کے پاس جب کبھی ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی اتی ہے تو یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور ان کا دستور اور طریقہ کار ہی یہ ہے کہ وہ ہر آیت اور نصیحت سے اعراض اور رو گردانی کرتے ہیں ۔ نصیحت سے منہ پھیرنا کفار کا کام ہے: اس ایت سے معلوم ہو اکہ جب اللہ تعالی اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت کرنے کا کہا جائے اور ان کی نافرمانی کرنے پر ہونے والے عذاب سے ڈرا کر نصیحت کی جائے تو اس سے منہ پھیر لینا کفار کا طریقہ اور ان کا دستور ہے۔افسوس!فی زمانہ مسلمانوں میں بھی اس سے ملتی جلتی صورت حال نظر ا رہی ہے کہ جب انہیں اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت وفرمانبرداری کرنے اور بد عملی و گناہوں سے بچنے کا کہا جاتا ہے اور ایسا نہ کرنے پر اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرایا جاتا ہے تو ان کے طرز عمل سے صاف نظر اتا ہے کہ یہ نصیحت سے منہ پھیر رہے ہیں اور انہیں جو نصیحت کی گئی ہے اس کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ۔ اللہ تعالی انہیں ہدایت اور عقل سلیم عطا فرمائے اور نصیحت کرنے والوں کی نصیحت قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین۔