Surah Yasin Ayat 7 (36:7)
Ya-Sin · Juz 22 · Makki
لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ 7
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک ان میں اکثر پر بات ثابت ہوچکی ہے تو وہ ایمان نہ لائیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک ان میں اکثر پر بات ثابت ہوچکی ہے تو وہ ایمان نہ لائیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{لقد حق القول على اكثرهم: بیشک ان میں اکثر پر بات ثابت ہوچکی ہے۔} اس سے پہلی ایات میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا رسول اور نذیر ہونا بیان فرمایا گیا اور اس ایت میں اس بات کی طرف اشارہ کیا جا رہاہے کہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ذمہ داری اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرانا ہے اور کسی کو ہدایت دے دینا اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ذمہ داری نہیں ہے (یہ اس لئے فرمایا گیا تاکہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کفار کے ایمان نہ لانے پر افسردہ اور غمزدہ نہ ہوں )۔ ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار مکہ میں سے اکثر پر اللہ تعالی کاعذاب واجب ہو چکا ہے کیونکہ اللہ تعالی اپنے ازلی علم سے جانتا ہے کہ یہ لوگ اپنے اختیار سے کفر اور انکار پر اصرار کریں گے اور کفر کی حالت میں ہی انہیں موت ائے گی اس لئے اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یہ لوگ اپ کے عذاب الہی سے ڈرانے کے باوجود ایمان نہیں لائیں گے ۔( تفسیرکبیر یس تحت الایۃ: ۷ ۹ / ۲۵۴ تفسیر قرطبی یس تحت الایۃ: ۷ ۸ / ۷ الجزء الخامس عشر ملتقطا)