Surah Sad Ayat 45 (38:45)
The Letter Saad · Juz 23 · Makki
وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ 45
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کویاد کرو جو قوت والے اور سمجھ رکھنے والے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یاد کرو ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحق اور یعقوب قدرت اور علم والوں کو ۔
Tafseer (Urdu)
{و اذكر عبدنا ابرهیم و اسحق و یعقوب: اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کویاد کرو۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی دو ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہمارے عنایتوں والے خاص بندوں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام ان کے بیٹے حضرت اسحاق علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کویاد کریں کہ انہیں اللہ تعالی نے علمی اورعملی قوتیں عطا فرمائیں جن کی بنا پر انہیں اللہ تعالی کی معرفت اور عبادات پر قوت حاصل ہوئی ۔ بیشک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے چن لیا اور وہ بات اخرت کے گھر کی یاد ہے کہ وہ لوگوں کو اخرت کی یاد دلاتے کثرت سے اخرت کا ذکر کرتے اور دنیا کی محبت نے ان کے دلوں میں جگہ نہیں پائی اور بیشک وہ ہمارے نزدیک بہترین چنے ہوئے بندوں میں سے ہیں ۔( روح البیان ص تحت الایۃ : ۴۵-۴۶ ۸ / ۴۶ مدارک ص تحت الایۃ: ۴۵-۴۷ ص۱۰۲۴ خازن ص تحت الایۃ: ۴۵-۴۷ ۴ / ۴۳-۴۴ ملتقطا) {و انهم عندنا: اور بیشک وہ ہمارے نزدیک۔} امام فخر الدین رازی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’اس ایت سے علماء نے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی عصمت (یعنی گناہ سے پاک ہونے) پر استدلال کیاہے کیونکہ اللہ تعالی نے اس ایت میں انہیں کسی قید کے بغیر اخیار فرمایا اور یہ بہتری ان کے تمام افعال اور صفات کو عام ہے۔( تفسیرکبیر ص تحت الایۃ: ۴۷ ۹ / ۴۰۰)